سانحہ پمز،سینٹ میں پی پی پی اور پی ٹی آئی کا پر حکومتی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہا ر
پمز واقعے کے ذمے داروں کو سزا د ی جائے،واقعے کی طویل مدتی وجوہات کا بھی جائزہ لینا ہو گا، ذمے داری وزیر اعظم، کابینہ اور بجٹ منظور کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے،حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی پر عوام کو اعتماد ہی نہیں ،سینیٹ کی کمیٹی قائم کی جائے. سینیٹر علی ظفراور شیری رحمان کاسینیٹ میں اظہار خیال
میاں محمد ندیم
جمعہ 28 اگست 2026
16:39
(جاری ہے)
جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے پمز واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمے داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا علی ظفر نے کہا کہ پمز واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور تعین کیا جائے کہ اس واقعے کا ذمے دار کون تھا، جس کی غلطی تھی اسے سزا دی جائے. انہوں نے کہا کہ واقعے کی طویل مدتی وجوہات کا بھی جائزہ لینا ہو گا، ذمے داری وزیر اعظم، کابینہ اور بجٹ منظور کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے علی ظفر کا کہنا ہے کہ ہم نے کہا تھا صحت کا بجٹ کم نہ کیا جائے، اس کا اثر غریبوں کے اسپتالوں پر پڑے گا، میں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی یہ بات کہی تھی لیکن حکومت نے اسے مسترد کردیا تھا. انہوں نے کہا کہ ہسپتال حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ پمز واقعے کی تحقیقات کےلئے سینیٹ کی کمیٹی قائم کی جائے اور اس کی سربراہی اپوزیشن کو دی جائے ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز تیار کرے اور موجودہ ایس او پیز کا بھی جائزہ لے. علی ظفر نے کہا کہ ہسپتالوں کو کمیٹی کے ساتھ تعاون کرنے کا پابند کیا جائے اور یہ کمیٹی آج ہی تشکیل دی جائے، حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی پر عوام کو اعتماد ہی نہیں ہے دریں اثنا پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمان نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے پر حکومتی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لئے پورے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو 40 دن میں رپورٹ پیش کرے. سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ جو حکومتی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ہمیں ان پر اعتماد نہیں، ان کمیٹیوں میں سب لوگ ایک دوسرے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ساری تحقیقاتی کمیٹیوں کا کیا بنا، ہمیں بتایا جائے، ورنہ میں کارروائی نہیں چلنے دوں گی انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ انخلا کے راستے کھلے تھے، سب راستے بند تھے، یہ بھی پوچھا جائے کہ عملہ کہاں تھا، عملہ سو رہا تھا، پمز کے پاس فائر این او سی کیوں نہیں تھا اور انخلا کے راستے کہاں بند تھے؟. شیری رحمان نے کہا کہ سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس کے برعکس ہیں، سی ڈی اے نے متنبہ کیا تھا کہ ہسپتال کا فائر سیفٹی نظام درست نہیں، صرف سیکرٹری کو معطل کر دینا کافی نہیں، پمز میں آگ لگنے کے معاملے کا کیا بنا؟ بتایا جائے پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے سوال اٹھایا کہ کبھی کسی نے ایئرکنڈیشنر سے چنگاری آتی دیکھی ہے؟ ہم بوڑھے ہو گئے ان میں بیٹھ کر انہوں نے اپنے سابقہ وزارت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں وزیر تھی جس دن اپنی وزارت میں مداخلت نہ روک سکی، مستعفی ہو گئی تھی، بطور وزیر صحت میں نے اپنے شوہر کا پمز میں آپریشن کروایا تھا، میں نے شوہر سے کہا تھا کہ کراچی میں نہیں، آپ کا آپریشن یہیں ہو گا. شیری رحمان نے کہا کہ پمز کسی کو سروس دینے کے لائق نہیں، پمز اپنے آپریشنز پولی کلینک اور راولپنڈی کو ریفر کر رہا ہے انہوں نے بتایا کہ مجھے کہا گیا تھا کہ دروازے اس لئے بند ہیں کیونکہ بچے چوری ہوتے ہیں، میں نے کہا تھا دروازے بند نہ کریں، سیکیورٹی گارڈز لگا دیں. شیری رحمان نے کہا کہ عوام شہنشاہی سے تھک گئے ہیں، عوام آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، ایوان سے لوگوں کو امید نہیں کیونکہ یہاں کچھ نہیں ہو رہا انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے جو پمز کے معاملے کی تحقیقات کر کے 40 دن میں رپورٹ دے.
مزید اہم خبریں
-
ایشیائی ترقیاتی بینک کی سرحدی گزرگاہوں کی جدیدکاری کیلئے 40 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری
-
وزیراعظم کی ایف بی آر اصلاحات کے تمام اقدامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت
-
اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے. سینیٹر پرویز رشید
-
نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم، روزگار کے مواقع فراہم کرنا ترجیح ہے. مریم نواز
-
جعلی کرنسی رکھنے کا مقدمہ، لاہور ہائیکورٹ میں ملزم کی ضمانت منظور
-
ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا، لوڈشیڈنگ جاری
-
سانحہ پمز،سینٹ میں پی پی پی اور پی ٹی آئی کا پر حکومتی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہا ر
-
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد121 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا
-
سینیٹر پلوشہ خان کا پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار
-
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم منتخب
-
اوٹاوا سٹی کونسل نے شہر میں موجود ٹرمپ ایونیو کا نام تبدیل کرنے کی جانب پہلا قدم اٹھا لیا
-
پولیس افسران و اہلکاروں کی بنیادی تنخواہوں میں 250 فیصد اضافہ متوقع
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.