کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2026ء)
کراچی میں تعینات انڈونیشیا کے قونصل جنرل مدزاکر ایم اے نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صنعتکاروں کو جکارتہ میں 14 اکتوبر سے منعقد ہونے و الی ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا 2026 میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان اور انڈونیشیا کے ترجیحی معاہدوں پر پیشرفت ہونا ضروری ہے اور اس ضمن میں جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (Comprehensive Economic Partnership Agreement - CEPA) انتہائی ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے پر صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیڑن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ علی، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین راشد صدیقی، سابق صدر جنید نقی، فرخ مظہر، ایتھوپیا کے اعزازی قونصل جنرل ابراہیم تواب، اقبال بیگ، انڈونیشیا قونصلیٹ کے احمد سفیان سمیت ممبران اور صنعتکاروں نے شرکت کی۔
(جاری ہے)
قونصل جنرل مدزاکر نے کہا کہ کاٹی
پاکستان کا سب سے بڑا اور فعال انڈسٹریل زون ہے۔ انڈونیشین قونصلیٹ کاٹی کے صنعتکاروں کو ویزا اور دیگر سفارتی مسائل میں خصوصی طور پر سہولیات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ اکتوبر میں ہونے والی ایکسپو میں حلال مصنوعات، مصالحہ جات، تعمیراتی مصنوعات، آٹو سیکٹر، کیمیکلز، فرنیچر، فیشن اور ٹیکسٹائل، ہینڈی کرافٹس اور دیگر شعبے سے وابستہ مصنوعات پیش کی جائیں گی جس میں 130 ممالک سے 1600 سے زائد نمائش کنندہ شامل ہوں گے۔
قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستانی صنعتکار انڈونیشیا سے
دنیا بھر میں ری ایکسپورٹ کی سہولت سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ جبکہ
پاکستان اور انڈونیشیا کے صنعتکاروں اور تاجروں کے درمیان بزنس ٹو بزنس رابطہ مزید بڑھانے پر ترجیح دینا ہوگی۔ اس سلسلے میں انڈونیشین قونصلیٹ ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2024 میں 4.2 ارب
ڈالر جبکہ مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 4.7 ارب
ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں ناکافی اور غیر متوازن ہے۔انہوں نے کہا کہ مجموعی تجارت میں انڈونیشیا کی
پاکستان کو برآمدات تقریباً 3.44 ارب
ڈالر ہیں، جن میں 2.59 ارب
ڈالر پام آئل کی برآمدات پر مشتمل ہیں، جبکہ خام فائبرز، کاغذ اور کوئلہ بھی اہم اشیا ہیں۔
اس کے مقابلے میں
پاکستان کی انڈونیشیا کو برآمدات تقریباً 621 ملین
ڈالر ہیں، جن میں چاول، خام تمباکو اور ٹیکسٹائل نمایاں ہیں۔ یوں دوطرفہ تجارت میں انڈونیشیا کے حق میں 2.8 ارب
ڈالر سے زائد کا تجارتی فرق موجود ہے۔صدر کاٹی نے کہا کہ پائیدار
معاشی شراکت داری کے لیے دونوں ممالک کو زمینی حقائق اور صنعتکاروں کو درپیش عملی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔
صدر کاٹی نے کہا کہ مستقبل میں دوطرفہ تجارت کو محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے صرف کموڈیٹی تجارت پر انحصار کے بجائے اعلیٰ قدر کی حامل صنعتی شراکت داری کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کاٹی میں خصوصی ’’انڈونیشیا ڈیسک‘‘ قائم کیا جائے جو انڈونیشیائی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو
پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع سے متعلق معاونت فراہم کرے۔
کاٹی کے صدر نے زور دیا کہ براہ راست B2B روابط، بہتر فضائی و بحری رابطوں، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور صنعتی تعاون کے فروغ کے ذریعے
پاکستان اور انڈونیشیا اپنے باہمی اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو روایتی کموڈیٹی تجارت سے آگے بڑھ کر مشترکہ سرمایہ کاری،
ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن پر مبنی صنعتی شراکت داری کو ترجیح دینا ہوگی۔
ڈپٹی پیڑن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ انڈونیشیا نے ہر مشکل وقت میں
پاکستان کا ساتھ دیا یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل، ریڈی میڈ گارمنٹس، چمڑا، انجینئرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکل، حلال فوڈ، پام آئل اور زرعی مصنوعات کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جاسکتا ہے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں توازن موجود نہیں، انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا ایک مضبوط اقتصادی اور صنعتی طاقت ہے، جس کے ساتھ مل کر نہ صرف روایتی تجارتی شعبوں بلکہ نئی ٹیکنالوجیز، سرمایہ کاری، اور صنعتی تعاون میں بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ زبیر چھایا نے کہا کہ کاٹی کا تجارتی وفد جکارتہ میں منعقدہ ہونے والی ایکسپو میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد سے
پاکستان درآمدات پر زیادہ انحصار کر نے والی معیشت بن گئی تھی، اب انڈسٹری کی ترجیح ہے کہ درآمدات کے متبادل ذرائع تلاش کئے جائیں جس میں انڈونیشیا
پاکستان کی بہت مدد کر سکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین راشد صدیقی نے کہا کہ انڈونیشیا اور
پاکستان کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانا دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
پاکستان میں استعمال ہونے والا خوردنی
تیل خاص طور پر پام آئل کا 90 فیصد انڈونیشیا سے درآمد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تجارتی تعلق دہائیوں پر محیط ہے، تاہم دوطرفہ تعاون اور مشاورت سے
پاکستان کی انڈونیشیا برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ بزنس فورمز، تجارتی وفود کے تبادلے، دونوں ممالک کے سیاحت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر کے تجارتی حجم کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ تقریب سے کاٹی کے سینئر نائب صدر زاہد حمید، انڈونیشیا قونصلیت کے احمد سفیان، ایتھوپیا کے اعزازی قونصل جنرل ابراہیم تواب نے بھی خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے بڑھتے مواقعوں پر اپنے خیالات کا اظہارکیا۔