معاشرے کے تمام طبقات کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بیرسٹر عقیل ملک

پاکستان کا مستقبل ایسے نوجوانوں کی تیاری سے وابستہ ہے جو پراعتماد، باصلاحیت، ذمہ دار اور قیادت کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں، خطاب

جمعہ 28 اگست 2026 20:55

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2026ء) وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کی سب سے بڑی قوت ہیں، اس لیے معاشرے کے تمام طبقات کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان کا مستقبل ایسے نوجوانوں کی تیاری سے وابستہ ہے جو پراعتماد، باصلاحیت، ذمہ دار اور قیادت کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) اور نیشنل یوتھ لیڈرشپ پروگرام (این وائی ایل پی)کے زیر اہتمام نیشنل یوتھ لیڈرشپ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آئی سی سی آئی کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یوتھ لیڈرشپ پروگرامز نوجوانوں کی صلاحیت اور مواقع کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہیں عملی، پیشہ ورانہ اور قومی زندگی میں زیادہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بیرسٹر عقیل ملک نے نجی شعبے، تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو ہنر، رہنمائی، عملی تجربے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی پر سرمایہ کاری محض افراد پر سرمایہ کاری نہیں بلکہ پاکستان کے استحکام، خوشحالی اور عالمی مسابقتی صلاحیت پر سرمایہ کاری ہے۔

آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، کاروبار اور قومی اداروں کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے لہذا ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے جس میں نوجوان آج ہی قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں، بجائے اس کے کہ انہیں صرف مستقبل کے رہنمائوں کے طور پر دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی توانائی، تخلیقی صلاحیتوں اور عزم سے بھرپور ہے، جسے درست سمت، تربیت اور مواقع فراہم کرکے ملکی معاشی ترقی کی ایک طاقتور قوت بنایا جا سکتا ہے۔

سردار طاہر محمود نے کہا کہ آئی سی سی آئی نوجوانوں کو بااختیار بنانے کو ایک اہم معاشی سرمایہ کاری سمجھتا ہے جبکہ کاروباری برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو رہنمائی، مارکیٹ تک رسائی، کاروباری مواقع اور پیشہ ورانہ تجربہ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈیمیا، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط روابط، انٹرن شپ اور انٹرپرینیورشپ کے زیادہ مواقع، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، فنانس اور عالمی منڈیوں تک رسائی نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

چیئرمین آئی ایچ آر سی-آر ایف ٹی ایمبیسڈر ڈاکٹر شاہد امین نے نوجوانوں کو قیادت اور باہمی روابط کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر این وائی ایل پی اور آئی سی سی آئی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی مواقع اور عالمی اداروں سے روابط فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ روابط اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس تک رسائی نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں ان کے موثر کردار کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر عرفان چوہدری نے یوتھ ڈویلپمنٹ، استعداد کار میں اضافے اور مشترکہ اقدامات کے لیے چیمبر کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو نتیجہ خیز کاروبار، روزگار اور قیادت میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے، چیمبرز آف کامرس اور تعلیمی اداروں کو مل کر ایک مضبوط ماحول تشکیل دینا ہوگا۔

سمٹ کے دوران ایک جامع پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے آنے والے 300 سے زائد نوجوان مندوبین نے مختلف شعبوں کے ماہرین سے براہ راست گفتگو کی اور سوالات کیے۔ پینل میں صدر آر ڈی ایف بریگیڈیئر (ر) اسلم خان، ڈائریکٹر سی ڈی اے کاشف نذیر، صدر کوپیر آمنہ منور، ایڈیٹر ان چیف ٹریبیون میڈیا گروپ افتخار مشوانی اور پرنسپل کیڈٹ کالج مری آفتاب احمد شامل تھے۔

پینلسٹس نے قیادت، انٹرپرینیورشپ، کیریئر ڈویلپمنٹ، ادارہ جاتی روابط اور قومی ترقی میں نوجوانوں کے کردار سمیت مختلف موضوعات پر اپنے تجربات اور خیالات سے شرکا کو آگاہ کیا۔این وائی ایل پی کے چیئرمین خواجہ شیراز علی نے سمٹ کا افتتاح کرتے ہوئے شرکا اور شراکت دار اداروں بالخصوص آئی سی سی آئی اور ڈی واٹسن گروپ، کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت، کاروباری برادری، تعلیمی اداروں اور سفارتی قیادت کے درمیان موثر تعاون ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو عملی علم، پیشہ ورانہ روابط اور قومی و بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔