Live Updates

کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟. صدرٹرمپ کا ایرانی عوام سے سوال

ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کرنے کی کوشش نہیں کر رہے‘مذکرات کے حوالے سے امریکی صحافیوں کی خبروں پر ٹرمپ کی تنقید

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 2 ستمبر 2026 22:46

کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟. صدرٹرمپ کا ایرانی عوام سے سوال
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 ستمبر ۔2026 ) امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایرانی عوام سے سوال کیا ہے کہ وہ کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟ٹرمپ نے”ٹروتھ سوشل“ پر ایک بیان میں کہا کہ میں ایران کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرنے کی کوشش نہیں کر رہا انہوں نے اس حوالے سے رپورٹ شائع کرنے والے امریکی ٹی وی نیٹ ورک ”اے بی سی نیوز“ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ اب وہ ایران کے ساتھ ایسے معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے جسے انہوں نے بے وقعت معاہدہ قرار دیا.

(جاری ہے)

ادھر امریکی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں نے صدرکی جانب سے ایرانی عوام سے سوال کو ان کی بے بسی اور شکست قراردیا ہے‘ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ عرب ملکوں کی حکومت سے مل کر رجیم چینج کی ناکام کوشش کرچکی ہے ‘اب صدر کی جانب سے دوبارہ وہی بیان ان کی مایوسی کوظاہرکرتا ہے‘ٹرمپ شکست خوردہ صدرنہیں کہلانا چاہتے مگر اس کے لیے بھاری قیمت امریکی شہریوں اور پوری دنیا کو اداکرنا پڑرہی ہے.

ٹرمپ کے مطابق موجودہ صورتحال امریکہ کے لیے زیادہ موزوں ہے بجائے اس کے کہ ایسے مذاکراتی عمل کی طرف واپس جایا جائے جو واشنگٹن کے اہداف پورے نہ کرے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کرنے کی کوشش نہیں کر رہے انہوں نے ان رپورٹس کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ان کی انتظامیہ تہران کو ایک نئے معاہدے کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور معاشی محاذ آرائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے.

واضح رہے کہ امریکا کے معتبر جرائداور نشریاتی ادارے صدر کے قریبی ساتھیوں اور وائٹ ہاﺅس کے ذرائع کے حوالے سے یہ دعوے کررہے ہیںٹرمپ نے کہا کہ وہ موجودہ صورتحال کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ان کے بقول امریکہ کو آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ایرانی معیشت مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے. انہوں نے کہا کہ تہران، ان کے الفاظ میںصرف اس ناگزیر چیز کو موخر کر رہا ہے جس سے بچنا ممکن نہیں امریکی صدر کے یہ بیانات ایران کے حوالے سے ان کے لہجے میں مزید سختی کی عکاسی کرتے ہیں یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چند گھنٹے قبل کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر معاشی دباﺅ جاری رکھے گا، یہاں تک کہ تہران کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے آمادہ ہو جائے ٹرمپ کے یہ بیانات ایران کے اندر بڑے پیمانے پر امریکی حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں تقریباً 100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، بحری تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا.

ادھر تہران کا دعوی ہے اس نے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ آبنائے ہرمزمیں صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوگئی ہے اور برطانوی ادارے نے پیر اور منگل کی درمیانی شپ تین آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات دی تھیں جبکہ سعودی آئل کمپنی نے آج اپنے آئل ٹینکر پر حملے اور اس کے نتیجے میں دو سیلرزکی ہلاکت کی تصدیق کی ہے. ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان دوبارہ تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے صدر ٹرمپ شدیددباﺅ میں ہیں ایک طرف ان کی انتظامیہ کو جنگ کی وجہ سے معاشی مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی مقبولیت کم ترین سطح پر ہے امریکی صحافیوں ٹکرکارلسن اور کرس ہیجزسمیت سینئرتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں برتری کے بعد اپنے مواحذے کی کاروائی سے سخت خوفزدہ ہیں‘تجزیہ نگار پروفیسرجیفری سیکس اسے پاگل پن قراردیا ہے‘ان کا کہنا ہے ٹرمپ صدرکے عہدے کے مزیداہل نہیں رہے کانگریس اور کابینہ کو انہیں فوری طورپر ہٹائے جانے کی کاروائی کرنی چاہیے.

انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ ٹرمپ ایران فتح کرنے کی جتنی شدید ترین خواہش میں مبتلا ہیں اس کے لیے وہ نیوکلیئرآپشن استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے تاہم اس بات کا ا طیمنان ہے کہ امریکی فوج میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو صدر کو ناں کہنے کی جرات رکھتے ہیں ‘ان کے مطابق جوائنٹ چیفس جنرل ڈینئیل اس حوالے سے موقف واضح کرچکے ہیں جبکہ ماضی میں ایک انتہائی حساس کانفرنس میں انہوں نے کھل کر اس خیال کو پاگل پن قراردیا تھا.
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات