نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر چوہدری شجاعت و سالک کے فارمولے پر عمل کیا جائے، صادق شیخ

منگل 8 ستمبر 2026 20:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 ستمبر2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ق) سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور چوہدری شجاعت حسین لورز پاکستان کے بانی و مرکزی صدر محمد صادق شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنے کے لیے مسلم لیگ (ق) کے قائد چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی سینئر نائب صدر و وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے فارمولے پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، انتظامی مسائل اور عوامی ضروریات میں مسلسل اضافے کے باعث نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ موجودہ حالات میں اس معاملے کو محض سیاسی مطالبے کے بجائے انتظامی ضرورت اور عوامی سہولت کے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

محمد صادق شیخ نے کہا کہ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 25 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث وسائل کی منصفانہ تقسیم، ترقیاتی منصوبہ بندی، سیاسی نمائندگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر انتظامی نظام ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگی قائدین چوہدری برادران کا مؤقف ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو مستقبل قریب میں عوامی مسائل اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ اگر انتظامی ڈھانچہ اسی رفتار سے مؤثر نہ بنایا گیا تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے کے ساتھ سرکاری اداروں پر بوجھ میں بھی اضافہ ہوگا۔محمد صادق شیخ نے کہا کہ انتظامی دباؤ کے نتیجے میں تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے، اس لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ اور جامع غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر زمینی حقائق، آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت اور عوامی سہولت کو بنیادی معیار بنایا جائے تاکہ مستقبل میں بہتر حکمرانی، وسائل کی مؤثر تقسیم اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔