اسلام آباد بند نہیں ہونے جارہا ہے،اسمارٹ لاک ڈائون کی تجویز پر بات نہیں ہوئی، طارق فضل

نائب وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کے معاملے پر بات ہوئی ہے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور وزیراعظم کے دروازے پر بیل دے کر کہیں گے استعفیٰ دیں تو کیا وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے، وزیرا عظم نے کئی بار مذاکرات کی دعوت دی ، گفتگو

بدھ 16 ستمبر 2026 06:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈائون کی تجویز زیر غور نہیں آئی اور نہ ہی اسلام آباد بند ہونے جا رہا ہے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈان کی بات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں تبادلہ خیال نہیں ہوا اور نہ ایسی کوئی بات میرے علم میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر بحث ہوئی ہے اور تین مہینوں کے لیے تھری ویلر، 800 سی سی گاڑی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو آگاہی فراہم کریں۔

(جاری ہے)

قبل ازیں نجی میڈیا کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قومی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کی تجویز زیرغور ہے، جس کا اطلاق سرکاری اور نجی سطح پر دفاتر اور تعلیمی اداروں پر ہوگا۔

ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکام نے تمام متعلقہ محکموں کو نئے شیڈول کی تیاری اور ضابطہ کار وضع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، نئے نظام میں چند عملے کو دفتری حاضری جبکہ دیگر کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی جائے گی۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہاکہ اسلام آباد بند ہونے نہیں جا رہا لیکن ستمبر کے مہینے میں تین مارچز کی باتیں ہو رہی ہیں، سب سے زیادہ پرتشدد اور انتشار سے بھرا مارچ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ شہریوں کی آمد و رفت کو بحال رکھنا ہے، عوامی مقامات پر کسی بھی جماعت کے لیڈرز کو قبضہ نہیں کرنے دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی ڈیوٹی کر رہی ہے، سوچنا ان کو چاہیے جو بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں، نام پرامن مارچ کا دیتے ہیں اور پرتشدد مظاہرے کرتے ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نظام بدلنے آرہے ہیں تو کیا ان کی تشریف سے نظام بدل جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے دروازے پر بیل دے کر کہیں گے استعفیٰ دیں تو کیا وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے، وزیراعظم نے کئی دفعہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز لاہور میں جو مناظر دیکھے اس سے زیادہ سیاسی نا پختگی اور کسی منصب کی تذلیل نہیں ہو سکتی، آپ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، کبھی آپ کسی گاڑی پر بیٹھتے ہیں کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھتے ہیں، تمام وزرائے اعلیٰ ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور اپ اپنے منصب کی عزت کریں۔