خیبرپختونخوا میں ماہ ستمبر کی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح، 73 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر

جمعہ 18 ستمبر 2026 20:00

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2026ء) خیبرپختونخوا میں ماہ ستمبر کی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ وزیرِ صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمٰن اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے مہم کا مشترکہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ فیاض علی شاہ، پولیو صوبائی ایمرجنسی اپریشنز سنٹر، بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے حکام اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔

افتتاح کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے بتایا کہ یہ مہم 21 ستمبر سے 27 ستمبر تک پورے صوبے میں بیک وقت جاری رہے گی، جس میں 35 ہزار پولیو ٹیمیں، سیکیورٹی اہلکار اور دیگر متعلقہ ادارے حصہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے دوران 73 لاکھ بچوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ انہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا سکیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مہم میں بھرپور حصہ لیں تاکہ پولیو کے مرض کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا بھی شکریہ ادا کیا جو مہم کو خود مانیٹر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے بتایا کہ رواں سال سامنے آنے والے تینوں پولیو کیسز ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بچوں تک رسائی مشکل رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایک بچے کے معذور ہونے سے پورے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، شمالی وزیرستان اور بنوں میں گزشتہ تین ماہ کے دوران تین خصوصی مہمات چلائی گئیں تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں 2400 ڈاکٹروں کی بھرتی اور تعیناتی، ادویات کی ایم سی سی فہرست کی حتمی منظوری اور خریداری، اور دور دراز کے 72 ہسپتالوں کی انتظامیہ کو پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے آؤٹ سورس کرنا شامل ہے، جس کے تحت مریضوں کو مفت علاج کی سہولت جاری رہے گی جبکہ اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

اس کے علاوہ روٹین امیونائزیشن کو مربوط کرنے کے لیے ایک روڈ میپ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پولیو کا خطرہ صرف صوبے تک محدود نہیں بلکہ سرحد پار افغانستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں آگاہی پھیلانے پر زور دیا، خصوصاً غریب اور پسماندہ علاقوں کے بچوں تک رسائی کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ ان بچوں تک صحت کی سہولیات پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔