ایس ای سی پی نے زیر التوا ایڈجیوڈیکیشن کیسز کا 98 فیصد بیک لاگ کلیئر کردیا

فیصلے جاری، مختلف قانونی خلاف ورزیوں پر 4.73 ارب روپے کے جرمانے عائد، کمپنیوں، بروکرز، انشورنس کمپنیوں اور این بی ایف سیز کے خلاف کارروائیاں

ہفتہ 19 ستمبر 2026 16:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2026ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیز ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق زیر التوا ایڈجیوڈیکیشن کیسز کا 98 فیصد بیک لاگ کلیئر کرتے ہوئے 573 فیصلے جاری کردیئے ہیں، جبکہ مختلف قانونی خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 4.73 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق ضابطہ جاتی کارروائیوں کے تحت لسٹڈ، اًن لسٹڈ اور نجی کمپنیوں کے علاوہ بروکرز، انشورنس کمپنیوں اور نان بینکنگ فنانشل کمپنیوں (این بی ایف سیز) کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں۔ سرکاری ملکیتی کمپنیوں کی جانب سے کمپنیز ایکٹ کی خلاف ورزیوں سے متعلق 117 فیصلے بھی جاری کیے گئے۔ایس ای سی پی کے مطابق زیرِ کارروائی کیسز میں کمپنیز ایکٹ، سکیورٹیز ایکٹ اور انسدادِ منی لانڈرنگ قوانین کی مختلف خلاف ورزیاں شامل تھیں۔

(جاری ہے)

مالیاتی گوشوارے بروقت جمع نہ کرانے، سالانہ جنرل اجلاس منعقد نہ کرنے اور قانونی معلومات افشا نہ کرنے سمیت کارپوریٹ گورننس سے متعلق خلاف ورزیوں پر بھی کارروائی کی گئی۔ریگولیٹر کے مطابق خواتین اور آزاد ڈائریکٹرز کی مطلوبہ تعیناتی نہ کرنے سے متعلق خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لیا گیا اور متعلقہ کیسز میں فیصلے جاری کیے گئے۔ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ ایڈجیوڈیکیشن کیسز کے بیک لاگ میں نمایاں کمی ادارے کی جانب سے انفورسمنٹ کے عمل کو تیز کرنے اور ضابطہ جاتی کارروائیوں کو بروقت مکمل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ایس ای سی پی پہلے بھی انفورسمنٹ کو مضبوط بنانے اور کیسز کے بیک لاگ کو کم کرنے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہا ہے۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ تمام کیسز میں بروقت اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کارروائیوں کا بنیادی مقصد قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ایس ای سی پی پاکستان کے کیپٹل مارکیٹس، کارپوریٹ سیکٹر، انشورنس اور نان بینکنگ فنانشل سیکٹر کا ریگولیٹر ہے اور اس کی موجودہ سربراہی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کر رہے ہیں۔