کمپنیز ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیاں،573مقدمات پر فیصلے جاری،مجموعی طور پر 4.73 ارب روپے کے جرمانے

ہفتہ 19 ستمبر 2026 18:00

v اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 ستمبر2026ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) نے کمپنیز ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیوں پر 573 مقدمات پر فیصلے جاری کرتے ہوئے مجموعی طور پر 4.73 ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کی تعیناتی کے بعد کمیشن کے قانونی وعدالتی معاملات کے شعبہ کو مزید مستحکم کیا گیا۔

شعبے نے 969 ایڈجیوڈیکیشن ریکمنڈیشن نوٹسز میں سے 953 کا جائزہ مکمل کیا اور 573 کیسز میں کارروائی مکمل کرکے فیصلے جاری کیے۔ قانونی کارروائی شروع کرنے سے متعلق باقی سفارشات بھی بہتر نگرانی اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے ذریعے نمٹا دی گئی ہیں، جس کے بعد شعب ایڈجیوڈیکیشن کا تمام بیک لاگ ختم ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ جرمانے لسٹڈ، ان لسٹڈ اور نجی کمپنیوں کے علاوہ سکیورٹیز بروکرز، انشورنس کمپنیوں اور نان بینکنگ فنانس کمپنیوں پر کمپنیز ایکٹ، سکیورٹیز ایکٹ اور دیگر قوانین اور ریگولیٹری ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر عائد کیے گئے۔

سرکاری ملکیتی کمپنیوں کی جانب سے قابل اطلاق کارپوریٹ اور ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزیوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور اس ضمن میں 117 فیصلے جاری کیے گئے۔کیسز میں کمپنیز ایکٹ، سکیورٹیز قوانین اور انسدادِ منی لانڈرنگ کے ضابطہ جاتی فریم ورک کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ اہم خلاف ورزیوں میں مالیاتی گوشوارے اور قانونی معلومات جمع نہ کرانا، سالانہ اجلاس بروقت منعقد نہ کرنا، لازمی معلومات ظاہر نہ کرنا، مالیاتی رپورٹنگ اور کارپوریٹ گورننس کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا، اور خواتین اور آزاد ڈائریکٹرز کی عدم تعیناتی شامل تھی۔

چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ ایڈجیوڈیکیشن کے تمام معاملات میں بروقت، شفاف اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثر کیس مینجمنٹ کے ذریعے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانا، قانون کی عمل داری یقینی بنانا، کمپنیوں میں کمپلائنس کے کلچر کو فروغ دینا اور سرمایہ کاروں، بالخصوص اقلیتی حصص یافتگان، کے مفادات کا تحفظ کمیشن کی اولین ترجیحات ہیں۔