8 فروری2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات نہ مان کر عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی تھی

آج پھر پولیس غلط احکامات کی مزاحمت کرے، ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، پُرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں، پُرامن احتجاج سے روکنا ہے تو آئین سے رائٹ ٹو اسمبلی کی شق نکال دیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 24 ستمبر 2026 19:55

8 فروری2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات نہ مان کر عوامی مینڈیٹ ..
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 24 ستمبر 2026ء ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 8 فروری2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات نہ مان کر عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی تھی ، آج بھی پولیس غلط احکامات کی مزاحمت کرے، ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، پُرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس سے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے خیبرپختونخوا پولیس اور عوام مسلسل دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 تک عمران خان کی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا، 2022 میں رجیم چینج آپریشن اور ریاست کی غلط پالیسی کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی لائی گئی، ہم نے احتجاج، امن پاسون اور ہر فورم پر آواز اٹھائی کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے، آج ریاست کی غلط پالیسی کے باعث فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، جب تک امن نہیں ہوگا تب تک ترقی اور خوشحالی نہیں آ سکتی، 15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے، گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، رواں سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کیا ہے۔

(جاری ہے)

❌ Twitter oEmbed API returned HTTP Code: 503
Response: upstream connect error or disconnect/reset before headers. reset reason: connection timeout
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس فرنٹ فٹ پر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے، ان کی قربانیوں کا احساس ہے، خیبرپختونخوا عوام اور پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے، پولیس کے شہداء پیکیج میں اضافہ کیا ہے اور جدید آلات کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے پیں، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ہے، گزشتہ سال سے ادائیگی کے باوجود خیبرپختونخوا کی اے پی سیز اب تک نہیں آئیں، اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کرکے دے دی گئیں لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو اے پی سیز نہیں ملیں، میں نے ان سے کہا کہ اسلام آباد کو دی جانے والی اے پی سیز صرف پی ٹی آئی کے خلاف استعمال ہوں گی، یہ خیبرپختونخوا پولیس کو دی جائیں۔

NRTC کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں بھی خیبرپختونخوا حکومت کر چکی ہے، NRTC اور HIT سے مطالبہ ہے کہ جیمرز، اے پی سیز اور دیگر آلات جلد از جلد فراہم کیے جائیں، دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ہے،15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا، کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے اور غلط ایف آئی آر کا حکم نہیں دیا، جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں۔

کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، ہماری ترجیح دہشتگردی سے نمٹنا ہے، اگر پولیس کا مفاد بھی سیاسی جماعت کو ختم کرنا بن جائے تو خیبرپختونخوا کے عوام کہاں جائیں گے، عمران خان کے ویژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا، نہ کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت کی اور نہ پوسٹنگ ٹرانسفر میں، گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے، پولیس مزاحمت کرے، 8 فروری 2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات ماننے سے انکار کرکے عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی، آج بھی پولیس غلط احکامات کی مزاحمت کرے، ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم پُرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔

پُرامن احتجاج روکنے کا حکم دینے والوں سے کہیں کہ آئین سے رائٹ ٹو اسمبلی کی شق نکال دیں، جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے ہم احتجاج کریں گے۔