انشورنس کمپنیوں نے 2025 میں 10 لاکھ سے زائد کلیمز نمٹائے، ایس ای سی پی

لائف انشورنس کے 410 ارب، نان لائف کمپنیوں کے 138 ارب روپے کے کلیمز ادا کیے گئے، انشورنس صنعت کے اثاثے 4.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے

جمعہ 25 ستمبر 2026 14:20

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2026ء) پاکستان میں انشورنس کمپنیوں نے 2025 کے دوران موٹر، حادثات و صحت اور آگ و املاک سے متعلق 10 لاکھ سے زائد کلیمز نمٹائے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے انشورنس انڈسٹری اسٹیٹسٹکس رپورٹ 2025 جاری کردی، جس میں پہلی بار مختلف شعبوں میں ادا کیے گئے کلیمز کی تعداد بھی شامل کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لائف انشورنس کمپنیوں کے مجموعی کلیمز 410 ارب روپے رہے جبکہ نان لائف انشورنس کمپنیوں نے تقریباً 138 ارب روپے کے کلیمز ادا کیے۔ 2024 میں لائف انشورنس کے کلیمز 380 ارب اور نان لائف انشورنس کے 92 ارب روپے تھے۔لائف انشورنس میں وفات سے متعلق کلیمز کی مالیت 33 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 37 ارب روپے ہوگئی، جبکہ کمپنیوں نے سال کے دوران وفات سے متعلق 33 ہزار سے زائد کلیمز ادا کیے۔

(جاری ہے)

نان لائف انشورنس کمپنیوں نے حادثات و صحت کے 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد، موٹر انشورنس کے 2 لاکھ 82 ہزار سے زائد جبکہ آگ و املاک کے تقریباً 11 ہزار کلیمز نمٹائے۔ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ کلیمز کی ادائیگی انشورنس کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کا اہم پیمانہ ہے۔ کلیمز کی مالیت کے ساتھ ان کی تعداد شائع کرنے سے احتساب بڑھے گا، پالیسی ہولڈرز کا اعتماد مضبوط ہوگا اور انشورنس شعبے کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں انشورنس صنعت کے مجموعی اثاثے 9 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 4.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ مجموعی تحریر شدہ پریمیم 15 فیصد اضافے کے ساتھ 778 ارب روپے ہوگیا۔ لائف انشورنس کے پریمیم میں 14 فیصد اور نان لائف انشورنس کے پریمیم میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔نجی شعبے کی لائف انشورنس کمپنیوں میں صحت انشورنس کا پریمیم 49 فیصد اضافے کے بعد 30.4 ارب روپے جبکہ ٹرم لائف انشورنس کا پریمیم تقریباً 37 فیصد اضافے کے بعد 19.7 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔

نان لائف انشورنس شعبے میں موٹر انشورنس کا پریمیم تقریباً 35 فیصد اضافے کے بعد 78.5 ارب روپے سے زائد جبکہ حادثات و صحت کی انشورنس کا پریمیم تقریباً 42 فیصد اضافے کے بعد 35.7 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والا پریمیم 71 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 6.8 ارب روپے رہا۔ تکافل کا حصہ لائف انشورنس مارکیٹ میں 16 فیصد جبکہ نان لائف انشورنس مارکیٹ میں 15 فیصد رہا۔