کمشنر لسبیلہ ڈویژن کی زیرصدارت چیمبرآف کامرس حب میں صنعتکاروں لیڈاآفیشل انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ لیبرویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کا مشترکہ اجلاس

جمعہ 25 ستمبر 2026 17:16

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 ستمبر2026ء) کمشنر لسبیلہ ڈویژن کی زیرصدارت چیمبرآف کامرس حب میں صنعتکاروں لیڈاآفیشل انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ لیبرویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرحب جنعدادمندوخیل معروف صنعتکار چیمبرآف کامرس کی ایگزیکٹیوکمیٹی کے صدریعقوب کریم اور جنرل سیکرٹری رفعت انجم ایگزیکٹیو کمیٹی ممبرشعیب ودیگر شریک ہوئے۔

چیمبرآف کامرس کے جنرل سیکرٹری رفعت انجم نے اجلاس کے شرکاء کوحب انڈسٹریل زون کے صنعتی یونٹس کی آپریشنل سرگرمیوں اوربلوچستان کی صنعتی شعبےسے وابستہ صنعتکاروں کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔ انہوں نے بتایا کہ لسبیلہ چیمبرآف کامرس 1995 میں رجسٹرڈکی گئی 2022میں انتظامی تبدیلی کے بعدحب چیمبرآف کامرس قائم کی گئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ انویسٹرزتیزی سے پھیلتےصنعتی شہرحب کے اسپیشل صنعتی زون میں سرمایہ کاری کرناچاہتے ہیں حکومت نے 406 ایکڑ sez کیلئے مختص کئےہیں۔

جنرل سیکرٹری چیمبرآف کامرس نے بتایا کہ نئے صنعتی زون اورانڈسٹریز کی صنعتی ضروریات کیلئے بجلی فراہمی میں کےالیکٹرک کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے کی وجہ سےلیڈا کا sez منصوبہ آگے نہیں بڑھ ریا ہے ، ملکی معیشت کی ترقی کیلئے صنعتکاراربوں روپے ٹیکس ادائیگی کے باوجود مسائل سے دوچار ہیں ۔کراچی پورٹ سے نزدیک ترین لیڈاکےصنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 50میگاواٹ کےپاورپلانٹ کا منصوبہ کئی سالوں سے پائپ لاِئن میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے لیکن بلوچستان کے صنعتکار آج بھی گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں حالانکہ یہ ہماراآئینی بنیادی حق ہے کہ جس صوبے سے گیس نکلتی ہے اس صوبے کے صنعتی اداروں کوگیس کی سہولت فراہم کی جائے ۔ چیمبرآف کامرس کے جنرل سیکرٹری نے تجویز ہیش کی کہ حکومت کراچی سے گڈانی تک ریلوے لائن ٹریک بچھانے کی منظوری دے تو گڈانی کی شپ بریکنگ انڈسٹری سمیت ضلع حب کی انڈسٹریزکی صنعتی پیداوارآگے بڑھیں گی ، صنعتی ترقی کیساتھ سیاحت کوبھی فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نےکمشنر کوبریفنگ میں بتایا کہ حب انڈسٹریل زون کے فیکٹریز کے آڈٹ اورجدید ٹیکنالوجیز کی مشینری انسٹالشین کیلئے فارنرانجینئرزکی خدمات حاصل کرنے کیلئے این او سی کی ضرورت ہوتی ہے، این او سی اجراء کیلئےسیکیورٹی ایس اوپیز کو سہل بنانے کی ضرورت ہے۔ ماربل انڈسٹری سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ماربل سٹی کا انفراسٹرکچرسسٹم ناکارہ ہوچکاہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ماربل سٹی میں ان لوڈنگ ہونیوالی قیمتی معدنیات بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لائی جاتی ہیں ۔

انہوں نےبتایا کہ ایم ڈی لیڈا کی کوششوں سے ایس پی حب نے پولیس سیکیورٹی تعیناتی کے آرڈر کئےان پرعمل نہیں ہوا ، گڈانی ماربل سٹی کے بجلی سپلائی لائن کی تاریں چوری ہونا معمول بن چکی ہیں لیڈا کی ٹیمیں گھنٹوں کیبل کی سرچنگ کرتی ہیں، انڈسٹریز بند ہونےکیوجہ سےمنرل پراسیس کاعمل رک جاتا ہے، مائنزاونرسہولیات کے فقدان کے باعث کراچی منگوپیر لیجانےپر مجبورہوحاتےہیں ۔ انہوں نےکمشنر لسبیلہ ڈویژن کی جانب سے صنعتکاروں اورچیمبر آف کامرس لیڈاودیگراسٹیک ہولڈر کی جوائنٹ میٹنگ کے انعقادپر انتظامیہ کی کوآرڈینیشن کو مثبت اقدام قراردیا۔