فیصلہ سازوں کیلئے اب مسئلہ سہیل آفریدی کی حکومت کا ہوگیا ہے، ذرائع کا دعویٰ

حکومت نے ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کے 3 مطالبات مان لیئے، گزشتہ رات سے دونوں میں رابطہ تھا، سینئر صحافی

جمعہ 25 ستمبر 2026 22:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2026ء) نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ فیصلہ سازوں کیلئے اب مسئلہ سہیل آفریدی کی حکومت کا ہوگیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کے حوالے سے خبر سامنے آئی ہے کہ اب فیصلہ سازوں کیلئے صرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ مسئلہ سہیل آفریدی کی حکومت ہے۔

ذرائع کا دعوی ٰہے کہ مسئلہ اب لانگ مارچ سے آگے بڑھ چکا ہے، کیونکہ اب مسئلہ قومی سلامتی کا ہے۔ اس لیے اب یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔دریں اثناء سینئر اینکر پرسن جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حکومت کا تحریک انصاف سے گزشتہ رات سے ہی رابطہ تھا جس میں پی ٹی آئی کے تین مطالبات تھے کہ اگر حکومت یہ مان لیتی ہے تو ہم اس لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف کا پہلا مطالبہ تھا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو جو فیصلہ جاری کیا اس پر عملدرآمد ہو، دوسرا مطالبہ تھا کہ عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کیا جائے اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو وہ پمز ہسپتال پر بھی متفق ہو گئے تھے ۔انہوںنے کہاتیسرا مطالبہ یہ تھا کہ عمران خان کی بہنوں کو رہا کر دیا جائے اور ان پر کوئی کیسز نہ بنائے جائیں، حکومت ان تمام چیزوں پر مان گئی ہے ، یہ فیصلہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی پر یہ فیصلہ چھوڑ دیا گیاہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی چاہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کروا دی جائے، اس چیز پر مسئلہ ہے کہ ملاقات کروائی جائے یا نہیں، اگر یہ ملاقات ہو جاتی ہے تو محمود اچکزئی اعلان کر دیں گے ہم لانگ مارچ کو موخر کر رہے ہیں ،جذبہ خیر سگالی کے تحت عمران خان کی بہنوں کو رہا کیا جاتا ہے تو بھی لانگ مارچ موخر کر دیا جائے گا۔