اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اکتوبر 2026ء) حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کیے گئے نئے قواعد میں پاکستان میں صارفین کے ساتھ انٹرایکشن کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس لگانے کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ان قواعد نے ویوز، آمدن اور حتیٰ کہ اخراجات کے حساب سے متعلق بھی کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کیا کہتے ہیں؟
ثاقب بشیر، جو ایک صحافی ہیں اور یوٹیوب چینل بھی چلاتے ہیں، کا کہنا ہےکہ نیا نظام کافی پیچیدہ ہے اور کریئیٹرز اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت آخر کرنا کیا چاہتی ہے۔
(جاری ہے)
ان کے مطابق حکومت پہلے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کر چکی ہے اور گوگل سے ان کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم پر یہ ٹیکس کٹ جاتا ہے۔
لیکن اب حکومت ویوز کی بات بھی کر رہی ہے، جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ یوٹیوب نے 24 اگست کو ویوز شمار کرنے کا طریقہ تبدیل کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ویڈیو چلنا شروع ہوتے ہی اسے ایک ویو شمار کیا جاتا ہے، جبکہ 'انگیجڈ ویوز‘ ایک الگ پیمانہ ہے، جس سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ناظرین ابتدائی چند سیکنڈ کے بعد بھی ویڈیو دیکھتے رہے یا نہیں۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے کریئیٹرز کی آمدن متاثر نہیں ہوتی اور آمدن کا حساب اب بھی انگیجڈ ویوز اور انگیجڈ واچ آورز کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ثاقب بشیر کہتے ہیں کہ کریئیٹرز کے نقطۂ نظر سے اس تبدیلی کے بعد ویوز کی تعداد تو بظاہر بڑھ گئی ہے، لیکن ان ویوز سے حاصل ہونے والی آمدن اسی تناسب سے نہیں بڑھی۔ "اس صورت حال میں کریئیٹرز کے سامنے ایک بنیادی سوال ہے کہ اگر حکومت ٹیکس کا حساب لگانے کے لیے ویوز کو بنیاد بنائے گی تو آخر کون سے ویوز شمار کیے جائیں گے؟"
ایف بی آر
کے نئے قواعد میں یوٹیوب کے لیے فی ایک ہزار ویوز 195 روپے کی شرح مقرر کی گئی ہے، جسے بعد میں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ قواعد کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین اصل میں حاصل ہونے والی رقم یا مقررہ شرح کے تحت کیے گئے حساب، دونوں میں سے جو زیادہ ہو، اس کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ دوسری جانب اخراجات کی مد میں کل آمدن کے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی کی اجازت دی گئی ہے۔ٹیکس کا حساب کیسے ہو گا؟
صحافی
اور سوشل میڈیا انفلوئنسر حبیب اکرم کے لیے سوال کچھ اور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کسی کریئیٹر کی کمائی اس کے اکاؤنٹ میں آ جاتی ہے اور اس آمدن کا تعین ہو جاتا ہے تو حکومت کو یہ دیکھنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے کہ اسے دیکھنے والے کتنے لوگ ہیں۔حبیب اکرم 30 فیصد اخراجات کی حد پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وڈیوز بنانے کے اصل اخراجات بعض اوقات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر کام کی نوعیت کے لحاظ سے، اور اخراجات کی کٹوتی کو محدود کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کریئیٹرز کو اس آمدن پر بھی ٹیکس دینا پڑے جو حقیقت میں ان کے پاس نہیں بچتی۔
ان کا یہ بھی خیال ہے، "نئے نظام کی پیچیدگی حکام کو سوشل میڈیا کریئیٹرز کی زیادہ نگرانی اور دباوٗ کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ان صحافیوں کے لیے جو اپنی صحافت کے لیے تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔" حبیب اکرم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسے قواعد لوگوں کو اپنی آمدن ملک سے باہر وصول کرنے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں۔
غیر ملکی کریئیٹرز سے ٹیکس کیسے وصول ہو گا؟
یہ بات بھی اہم ہے کہ نئے قواعد صرف پاکستان میں موجود کریئیٹرز تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک رہنے والے ان افراد پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں جن کی سوشل میڈیا آمدن پاکستانی صارفین سے منسلک ہو۔ ایک مالی سال میں 50 ہزار یا کسی سہ ماہی میں 12 ہزار 250 سے زیادہ صارفین کے ساتھ مسلسل ڈیجیٹل انٹرایکشن کی صورت میں یہ قواعد لاگو ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کریئیٹر پاکستان سے باہر رہتا ہو، پلیٹ فارم بھی بیرونِ ملک ہو اور ادائیگی بھی وہیں سے ہو رہی ہو تو ایف بی آر کیسے معلوم کرے گا کہ پاکستانی صارفین سے کتنی آمدن حاصل ہوئی؟
ٹیکس ماہرین کے مطابق اس حساب کے لیے درکار زیادہ تر معلومات خود پلیٹ فارمز کے پاس موجود ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو عملی طور پر ایسے ڈیٹا تک رسائی درکار ہوگی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ صارفین کس ملک میں موجود ہیں اور ان صارفین سے کتنی آمدن حاصل ہوئی۔
ڈیجیٹل اسکلز کے ماہر اور ٹرینر تنویر ناندلا کے مطابق، یہ نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ بظاہر اس کا مؤثر طریقے سے چلنا مشکل دکھائی دیتا ہے اور اس کے ناکام ہونے کے امکانات کامیابی کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو نے گوگل سے بھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسی معلومات پاکستانی حکام کے ساتھ کس طرح شیئر کی جا سکتی ہیں اور کیا حکومت نے ایسی پالیسی بنانے سے پہلے ان سے بھی کوئی رہنمائی لی لیکن گوگل نے بھیجے گئے سوالات پر کوئی جواب نہیں دیا۔
اس وقت سوشل میڈیا پر کانٹینٹ بنانے والے کریئیٹرز ہی الجھن کا شکار نہیں ہیں بلکہ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ حکومت اپنی ہی بنائی ہوئی نئی پالیسی پر کیسے عمل کرے گی۔
ادارت: جاوید اختر