نگران وزیراعظم کیلئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کسی کا نام نہیں دیا،

نواز شریف راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے واپس پاکستان آئیں گے، ملکی اداروں کے خلاف بولنے سے غیر جمہوری طاقتوں کو سازش کرنے کا موقع ملتا ہے پاکستان میں آج جو بھی حالات چل رہے ہیں اسکا ذمہ دار نواز شریف ہے سوموٹو کا رواج افتخار چوہدری سے چل پڑا ہے، چیف جسٹس بڑے بڑے مقدمات ضرور سنیں لیکن چھوٹی عدالتوں پر بھی توجہ دیں آنیوالی حکومت آرٹیکل 62,63میں ترامیم پر رضا مند ہو گی، آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تو وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہو گا، پوری کوشش ہو گی کہ نگران حکومت کا معاملہ پارلیمنٹ میں طے ہو،الیکشن میں 60دن تاخیر کا مطلب 6سال التوا ء ہو گا ،نجی ٹی وی کو انٹرویو

جمعہ اپریل 23:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ اپریل ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے لئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کسی کا نام نہیں دیا۔ نواز شریف راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے واپس پاکستان آئیں گے۔ ملکی اداروں کے خلاف بولنے سے غیر جمہوری طاقتوں کو سازش کرنے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستان میں آج جو بھی حالات چل رہے ہیں اسکا ذمہ دار نواز شریف ہے۔ سوموٹو کا رواج افتخار چوہدری کے دور سے چل پڑا ہے۔ چیف جسٹس بڑے بڑے مقدمات ضرور سنیں لیکن چھوٹی عدالتوں پر بھی توجہ دیں۔ اگلے آنے والی حکومت آرٹیکل 62,63میں ترامیم پر رضا مند ہو گا۔ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تو وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہو گا۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ جب ہم اپنے اداروں کے خلاف بولتے ہیں تو غیر جمہوری طاقتوں کو ملک کے خلاف سازش کرنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔

نواز شریف راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے واپس آئیں گے۔ ملک میں انتشار ہو گا تو عالمی طاقتوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے سازشیں کرتے پھریں۔ ملک کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو قومی اداروں کو اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے مجھ سے مشورہ کرنا چھوڑدیا تب سے پھنستے چلے گئے۔

آج جو بھی حالات ہیں نواز شریف اس کا ذمہ دار ہے۔ ملک میں بر وقت انتخابات نہیں ہوتے تو انتشار پیدا ہو گا ۔ پوری کوشش ہو گی کہ نگران حکومت کا معاملہ پارلیمنٹ میں طے ہو۔ الیکشن میں 60دن تاخیر کا مطلب 6سال التوا ء ہو گا۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں ان کے چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی پوچھا لیکن اصل بات معلوم نہ ہو سکی۔

سوموٹو کا رواج چوہدری افتخار سے شروع ہوا ہے۔ پہلے چیف جسٹس اتنا مشہور نہیں ہوا کرتا تھا لیکن سیاستدانوں کی طرح عدلیہ بھی ہر روز اخبار اور ٹی وی پر آتے ہیں۔ عدلیہ کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیئے۔ چیف جسٹس خود جا کر ہسپتالوں، سکولوں اور دوسرے ملکی منصوبوں کو دیکھتے ہیں۔ اچھی منصوبہ بندی نہ ہونے سے ملکی نظام صحیح طریقے سے نہیں چل رہا۔

چیف جسٹس کو زیر التوا کیسز کے بارے میں سیشن جج اور دوسری تمام ماتحت عدالتوں سے پوچھنا چاہیئے۔ لوگوں کے بیس بیس سال سے عدالتوں میں کیسز پڑے ہیں ۔ چیف جسٹس بڑے بڑے مقدمات ضرور سنیں لیکن چھوٹی عدالتوں پر بھی توجہ دیں وہ ماتحت عدلیہ کے ججز سے پوچھیں کہ کتنے مقدمات آئے، کتنے میں فیصلے ہوئے اور کتنے باقی ہیں عوامی مفادات کی بات غلط ہے۔

لوگ اپنے حقوق کے لئے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں کیا زمینوں سے قبضے چھڑانا بے گناہوں کی رہائی ، چھینی ہوئی رقم کی واپسی جیسے تنازعات عوامی مفاد نہیں انہوں نے کہا کہ اگلی حکومت آرٹیکل62,63میں ترامیم اور انہیں بہتر بنانے کے لئے رضامند ہوگی، ہم نے نواز شریف سے بارہا رابطہ کیا اور کہاکہ مل بیٹھ کر ان قوانین کو تبدیل کر تے ہیں مگر نواز شریف نہیں مانے۔

آج نواز شریف جب خود پھنسے تو ترامیم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ وقت ان چیزوں کا نہیں۔ اس وقت تبدیل کیا گیا قانون جتنا بھی اچھا ہو یہی کہا جائے گا کہ نواز شریف نے خود کو بچانے کے لئے یہ قانون بنوایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو این ایف سی ایوارڈ بناکر دیا۔ ہمارے زمانے میں مہنگائی اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن ابھی بجلی کی قیمت 8سے بڑھ کر14روپے ہو گئی۔ جنوبی پنجاب کے سائنسدان 5سال ن لیگ کے ساتھ عیاشی کرتے رہے اور اب چھوڑ گئے۔ یہ جنوی پنجاب صوبہ کا نعرہ بہانے کے طور پر لگا رہے ہیں ۔ آئندہ انتخابات میں اگر پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو ئی تو بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم ہو گا۔۔

Your Thoughts and Comments