سی آئی اے کی نامزد سربراہ کامنصب سنبھالنے سے انکار،

ٹرمپ انتظامیہ کے منت ترلے جینا نے تین دہائیوں تک ملک کی خدمت کی ہے اور وہ اس منصب کیلئے انتہائی موذوں اہلکار ہیں،ترجمان وائٹ ہائوس

پیر مئی 12:08

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)صدر ٹرمپ کی طرف سے سی آئی اے کیلئے نامزد کردہ سربراہ جینا ہسپیل نے نازدگی سے دستبردار ہونے کی کوشش کی ہے۔اس اقدام کی وجہ سی آئی اے میں تحقیقات کے طریق کار میں اٴْن کے متنازعہ کردار کے حوالے سے تشویش بتائی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جینا نے نامزدگی سے دستبردار ہونے کی کوشش کی۔

جینا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سی آئی اے میں تحقیقات کے دوران واٹر بورڈنگ جیسی نئی ٹیکنیک کے استعما ل کی زبردست حامی رہی ہیں جسے دنیا بھر بدترین تشدد قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔جینا کو اٴْن کے تحقیقاتی طریقوں کے استعمال کے بارے میں گفتگو کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس طلب کیا گیا جہاں اٴْن کی اہلکاروں سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق جینا ہسپیل نے وائٹ ہاؤس کو کہا کہ وہ بدھ کے روز سنیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں ہونے والی اٴْن کی نامزدگی کی توثیق کے سلسلے میں متوقع طور پر سخت اور مشکل سماعت کے پیش نظر دستبردار ہونا چاہیں گی۔ اس ملاقات کے بعد جینا لینگلے ورجینیا میں موجود اپنے دفتر واپس لوٹ گئیں۔بتایا جاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قانون سازی کے امور سے متعلق اہلکار مارک شارٹ اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز اٴْس کے فوراً بعد لینگلے میں جینا کے دفتر گئے جہاں اٴْنہوں نے کئی گھنٹے تک جینا سے ملاقات کی اور اٴْن سے اپنا فیصلہ بدلنے پر زور دیا۔

تاہم جینا رضامند نہ ہوئیں۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے کہا کہ جینا نے تین دہائیوں تک ملک کی خدمت کی ہے اور وہ اس منصب کیلئے انتہائی موذوں اہلکار ہیں۔

Your Thoughts and Comments