نا اہل ہونے کے باوجود جہانگیر ترین عمران خان کے اتنے قریب کیوں؟

عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالت نے جہانگیر ترین کے کسی سے ملنے جلنے پر پابندی عائد نہیں کی؛ شاہ محمود قریشی کی گفتگو

اتوار مئی 14:04

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء) عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی آئین کی شق 62 (ون۔ ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کا فیصلہ سناتے ہوئے انھیں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔اسی متعلق جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمودقریشی سے سوال کیا گیا کہ سانق وزیراعظم نواز شریف کو اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو ایک ہی قانون کو کے تحت تا حیات نا اہل قرار دیا گیا تھا تو کیا اس کے با وجود بھی جہانگیر ترین کا پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے قریب رہنما درست ہے۔

جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب عدالت عظمی کا جہانگیرترین کے خلاف فیصلہ آیاتھا تو تب ہی جہانگیر ترین نے اپنا استعفی پیش کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

تا ہم سپریم کورٹ نے کسی سے ملنے جلنے پر پابندی نہیں لگائی۔عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین کوئی عہدہ نہیں رکھ سکتے۔اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتتے۔تو انہوں نے عدلیہ کے اس فیصلے کو احترام کے ساتھ قبول کیا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے اپنی ایک ریویو پٹیشن دائر کی ہوئی ہے۔لیکن عدالت نے کسی سے ملنے جلنے یا مشاورت پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین ابھی پارٹی امور میں حصہ لیتے ہیں۔اور جہانگیر ترین سے بھی مختلف امور پر مشاورت کی جاتی ہے تا ہم اب جہانگیر ترین پہلے جیسا پارٹی کا عہدہ نہیں رکھتے۔اور نہ ہی وہ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔لیکن پارٹی امور میں ان کی ائے اہمیت رکھتی ہے۔یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی آئین کی شق 62 (ون۔ ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کا فیصلہ سناتے ہوئے انھیں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

Your Thoughts and Comments