ملاوٹ مافیا کی تلاش اور فوڈ اتھارٹی افسران کی کارکرگی پر نظر رکھنے کے لیے ویجیلنس سیل کے قیام کی حتمی منظوری

حساس اداروں سے کر نل کے برابرعہدے دارکو سربراہ کے طور پر بھرتی کیا جائے گا،نورالامین مینگل سیل کا قیام وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے عین مطابق ہے،ڈی جی فوڈ اتھارٹی

پیر جنوری 12:01

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30جنوری۔2017ء ) پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ملاوٹ مافیا کے خاتمہ کے لیے موثر معلومات کے حصول اور ادارے کے اندر کرپشن پر قابو رکھنے کے لیے ویجیلنس سیل کے قیام کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ملٹری انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی سے ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل یا اس کے برابر عہدے دار کو سربراہ کے طور پر بھرتی کیا جائے گا۔

پنجاب فوڈاٹھارٹی کے ساتھ ساتھ ویجیلنس ونگ کا دائرہ کار دسمبر 2017 کے آخر تک صوبے بھر میں پھیلایا جائے گا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے بتایا کہ اس سیل کا قیام وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے عین مطابق ہے اور اس کی پیشگی منظوی وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ اداروں سے لی جا چکی ہے۔

(جاری ہے)

اس ونگ کے قیام سے ملاوٹ مافیا کی تلاش اور خاتمے کے ساتھ فوڈ اتھارٹی چھاپوں میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

نورالامین مینگل نے مزید بتایا کہ فوڈ اتھارٹی کو مکمل چوکس رکھنے کے لیے اس سیل کو قائم کیا جا رہا ہے جس کے سربراہ کوپرکشش تنخواہ اور مراعات دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ پانچ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں سے ہر ایک کے لئے دو جونیئر کمیشنڈ افسران کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی 5ڈویژنزکے 17اضلاع تک توسیع کے لیے پنجاب حکومت نے حال ہی میں63 کروڑ کی کی منظوری دی ہے جس کے تحت توسیع کا پہلا مرحلا 30جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔ویجیلنس یا نگرانی سیل کا قائم مقام انچارج ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس کو بنایا گیا ہے

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments