High Blood Pressure

ہائی بلڈ پریشر

بدھ جنوری

High Blood Pressure
ہائی بلڈ پریشر دل کے دورے اور اسٹروک کا ایک بڑا سبب ہے،اکثر لوگ اس کے بارے میں کئی حقائق سے واقف نہیں۔
بلڈپریشر زندہ رکھتاہے
دل ایک چھوٹا مگر طاقتور پمپ ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے سے زندگی کی آخری سانس تک باقاعدگی سے دھڑکتاہے ۔دل ہر ایک منٹ میں جسم میں پھیلی ہوئی ان گنت رگوں میں پانچ لیٹر خون پمپ کرتاہے۔

اس عمل یعنی خون کی گردش کو بر قرار رکھنے کے لئے نظام دوران خون میں دباؤ کا ہونا ضروری ہے۔یہی دباؤ بلڈپریشر کہلاتاہے۔بلڈپریشر دو قسم کے ہوتے ہیں:
انقباضی(Systolic)
اور انبساطی(Diastolic)
جب ہمارا دل سکڑتا ہے تو اس وقت بلڈپریشر انقباضی فشار خون یا سسٹولک پریشر کہلاتاہے۔اور جب دل نارمل حالت میں آتاہے تو اسے انبساطی یا ڈائسٹولک پریشر کہتے ہیں۔

(جاری ہے)

اگر بلڈپریشر کی ریڈنگ 80/140ہوتو اس کا مطلب ہو گا کہ سسٹولک پریشر140اور ڈائسٹولک پریشر80ہے۔
دن بھر بلڈ پریشر بدلتا رہتاہے
بلڈ پریشر کی سطح میں تبدیلی واقع ہو تی رہتی ہے۔جب ورزش کی جائے یا کوئی دباؤ ہو تو بلڈپریشر بڑھ جاتاہے ۔جسم جب آرام دہ حالت میں ہو یا نیند کی حالت میں ہوتو پھر اس کی سطح کم ہو جاتی ہے۔
ہائی بلڈپریشر بس ہو جاتاہے!
ہائی بلڈپریشر جسے ہائپر ٹینشن بھی کہا جاتاہے ،بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی شکایت ہو سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں میں خون پہنچانے والی رگوں کی لچک کم ہو جاتی ہے یا یہ قدرے سخت ہو جاتی ہیں۔مگر یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہائی بلڈپریشر لاحق ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی،بس یہ ہو جاتاہے ۔اسے بنیادی یا ابتدائی ہائپر ٹیشن کہتے ہیں۔دس فیصد معاملات میں ہائپر ٹینشن کا کوئی نہ کوئی طبی سبب ضرور ہوتاہے۔

اسے ثانوی ہائپر ٹینشن کہا جاتاہے۔ہائپر ٹینشن لاحق ہونے کی طبی وجوہات میں گردے کے امراض، گردوں کو خون کی رسد میں رکاوٹ ،منشیات کا استعمال اور کچھ ہارمون کے مسائل ہوتے ہیں جو گردوں کو متاثر کرتے ہیں۔یعنی ہائپر ٹینشن کا بلا واسطہ بالواسطہ طور پر گردوں سے اہم تعلق ہوتاہے۔کئی عوامل ہائی بلڈ پریشر کی وجہ بن سکتے ہیں،ان میں سے اہم مندرجہ ذیل ہیں۔


یہ موروثی بھی ہوتاہے۔
موٹاپا ۔
سگریٹ نوشی۔
خوراک میں نمک کی زائد مقدار۔
ورزش کی کمی۔
ذیابیطس۔
گردوں کے امراض۔
ہائی بلڈپریشر سے بے خبری
بیشتر لوگوں میں ہائپر ٹینشن کی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں،لہٰذا وہ اس مرض سے بے خبر رہ کر زندگی گزارتے رہتے ہیں۔بہ ظاہر ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دینے والے افراد بھی ہائی بلڈپریشر میں مبتلا ہو سکتے ہیں،مگر وہ اس بات سے لا علم ہوتے ہیں۔

بہر حال شدیدصورت میں ہائی بلڈپریشر کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ان علامات میں ناک سے خون آنا،سر درد،بے خوابی ،ذہنی پریشانی اور الجھن، اور سانس کے مسائل شامل ہیں۔اگر ہائپر ٹینشن کا علاج نہ کیا جائے تو دل کے دورے اور فالج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ہائپر ٹینشن کا علاج کروا کر اور بلڈ پریشر نارمل رکھ کر کئی بڑے امراض سے محفوظ رہا جا سکتاہے۔

علاج نہ کروانے کی صورت میں دل کے دورے اور فالج کے علاوہ دل کا فیل ہو جانا یعنی خون پمپ کرنے کی صلاحیت کا بہ تدریج کمزور پڑجانا،گردوں کا فیل ہو جانا،ضعف بصارت اور آنکھوں کے امراض سے سابقہ پڑ سکتاہے ۔ہائپر ٹینشن کا علاج نہ کروانے کی وجہ سے پیٹ اور سینے سے گزرنے والی مرکزی شریان پھیل کر پھٹ سکتی ہے اور اس کے خطر ناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔


ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لئے کیا کیا جا سکتاہے؟
ہائپر ٹینشن میں مبتلا ایک چوتھائی افراد محض طرز زندگی میں بد لاؤ لا کر بلڈپریشر کو نارمل سطح پر لے آتے ہیں۔ذیل میں ان تبدیلیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہائی بلڈپریشر پر قابو پانے میں مفید ہو سکتی ہیں۔
سگریٹ نوشی
بلڈ پریشر کو کنٹرول میں لانے اور عمومی صحت بہتر بنانے کے لئے سگریٹ نوشی سے گریز کیا جائے۔

سگریٹ نوشی کی وجہ سے دل کے امراض لاحق ہونے کا خطرہ دگنا اور زندگی مختصر ہو جاتی ہے۔
وزن میں کمی
وزن میں کمی ہائی بلڈپریشر کی سطح نیچے لانے میں معاون ہوگی۔وزن کم کرنے کے لئے روغنی غذاؤں سے گریز کیا جائے۔ مرغ اور مچھلی کا گوشت ،تازہ پھل،سبزیاں اور ریشے دار غذائیں استعمال کی جائیں۔
باقاعدگی سے ورزش
اس مقصد کے لئے جم بھی جوائن کیا جا سکتا،اگر وقت نہ ہوتو پھر ہفتے میں کم از کم چار دن بیس سے تیس منٹ کی تیز قدمی یعنی واک وزن گھٹانے میں معاون ہو گی۔


نمک کم استعمال کیا جائے
کھانوں اور مشروبات میں نمک نہ ڈالیں یا بہت کم استعمال کریں۔فاسٹ فوڈز اور پروسیسڈ فوڈز سے گریز کیا جائے کیونکہ ان میں نمک خاصی مقدار میں ہوتاہے۔اگر درج بالا اقدامات کے باوجود ہائی بلڈ پریشر مکمل طور پر کنٹرول میں نہ آئے تب بھی ان اقدامات کی وجہ سے ،جو دوائیں استعمال کی جارہی ہیں ۔

ان کی تعداد کم ہو سکے گی۔
ہائی بلڈ پریشر کا علم نہ ہونا
جی ہاں واقعی ہو سکتاہے آپ اپنے بلڈ پریشر کو معمول پر سمجھ رہے ہو مگر کیا آپ کو معلوم ہے اس بیماری میں اکثرافراد کو کسی قسم کی جسمانی علامات کا سامنا نہیں ہوتا․․․․․․؟ہائی بلڈپریشر کی ایسی کوئی واضح علامات نہیں جن سے اس کا پتا چل سکے اور یہ علم اس وقت ہوتاہے جب صحت کو نقصان پہنچنا شروع ہوتاہے۔

ایک سروے کے مطابق ملک کی تقریباً 52فیصد آبادی ہائی بلڈپریشر میں مبتلا ہے اور 42فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈپریشر کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں۔120/80یا اس سے کم بلڈ پریشر معمول کا ہوتاہے تاہم اگر یہ 140/90یا زیادہ ہوتو علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔کوئی بھی شخص اس مرض میں مبتلا ہوسکتاہے تاہم کچھ افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتاہے۔ گزشتہ سال نومبر میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور امریکن کالج آف کارڈ یالوجی نے بلڈ پریشر ریڈنگ کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی انسان کے خون کادباؤ 129/79سے زیادہ ہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر تصور کیا جائے گا۔

اس کے نتیجے میں طرز زندگی میں تبدیلیاں بھی ضروری ہوتی ہیں جیسے زیادہ ورزش اور غذا میں تبدیلی۔
کس عمر میں بلڈ پریشر چیک کرانا شروع کیا جائے․․․․․؟
طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا مرض کسی بھی عمر میں سامنے آسکتاہے اور اگر کافی عرصے سے بلڈ پریشر چیک نہیں کرایا تو کروالیا جائے۔یہ خیال کہ ابھی عمر کم ہے اور بلڈ پریشر سے محفوظ ہیں خطر ناک ثابت ہو سکتاہے۔

موجودہ دور میں ہائی بلڈ پریشر کے نوجوان مریضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر کے بعد سے ہی سال میں کم از کم ایک مرتبہ احتیاطاً بلڈ پریشر چیک کروایا جانا مفیدہے ۔درج ذیل پانچ علامات جن کا جاننا ضروری ہے۔
چالیس یا اس سے زائد عمر کے افراد
طبی ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کسی بھی عمر میں بڑھ سکتاہے مگر اس کا خطرہ چالیس سال کے بعد تیزی سے بڑھنا شرع ہو جاتاہے۔

لہٰذا اس عمر سے گھر میں بلڈ پریشر چیک کرنا معمول بنایا جائے۔
مخصوص طرز زندگی
اگر دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارا جائے،تمبا کو نوشی کے عادت ہو اور بہت زیادہ نمک والی غذا بلڈ پریشر کا خطرہ زیادہ ہوتاہے۔بہت سے افراد کی ملازمت ہی بیٹھ کر کی جانے والی ہے ایسے افراد بھی کچھ دیر بعد تیز چہل قدمی کا وقفہ لیں۔ اپنی غذا میں نمک کا استعمال کم کر دیں اور تمباکونوشی سے گریز کرنے کی کوشش کریں۔


موٹاپا
موٹاپا ہائی بلڈ پریشر کا بڑا سبب ہے ۔خاص طور پر اگر تو ند نکلی ہوئی ہے۔اچھی خبر یہ ہے کہ اگر وزن میں محض پانچ کلو تک کی بھی کمی لائی جائے تو اس سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آجاتی ہے۔
خاندان میں بلڈ پریشر
اگر خاندان میں کوئی ہائی بلڈ پریشر کا مریض رہ چکا ہے تو اس کا خطرہ گھر کے باقی افراد کو بھی ہو سکتاہے۔


مفید غذائیں
ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کے لئے خاص طور پر نمک کم استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔
بلڈ پریشر میں مفید چند اشیاء
کیلا:
کیلے پوٹاشیم کے حصول کا قدرتی ذریعہ ہیں۔اس جزو کی کمی جسم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے خاص طور پر پٹھوں اور دل کی دھڑکن پر۔کیلے نہ صرف پوٹاشیم سے بھر پور ہوتے ہیں بلکہ اس میں سوڈیم (نمکیات)کی شرح بھی کم ہوتی ہے جو اسے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کے لئے مفید غذا بناتی ہے۔


دہی:
دہی کیلشیئم سے بھر پور ہوتاہے جس کی کمی ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔دہی میں نمکیات کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔دہی ہائی بلڈ پریشر معمول پر لانے میں مفید ہے اور اس کا مزہ بھی اکثر لوگوں کے دل کو بھاتاہے۔
دار چینی:
دار چینی بلڈ پریشر کو معمول پر لانے میں مفید بتائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دار چینی کو لیسٹرول لیول کو بھی کم کرتی ہے۔

اس مصالحے کو غذا کے ساتھ میٹھی ڈشز اور مشروبات میں بھی شامل کیا جا سکتاہے۔ہر کھانے میں اس کو شامل کرنا صحت کے لئے زیادہ مفید ہے۔
آلو:
آلوؤں میں پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔یہ معدنیاتی عنصر بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مفید ہے۔
مچھلی:
مچھلی پروٹین اور وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔یہ دونوں اجزاء بلڈ پریشر کی شرح کم کرنے میں مفید ہیں، مچھلی میں صحت بخش اومیگا فیٹی ایسڈز بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ کولیسٹرول کی شرح کو کم رکھنے کے لئے مفید ہیں۔


جوکا دلیہ:
جو کا دلیہ بلڈپریشر میں مبتلا افراد کے لئے مفید غذا ہے،یہ غذا فائبر سے بھر پور ہوتی ہے جو کہ بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں مفید ہے اور اس سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتاہے،اسے مختلف تازہ پھلوں کے ساتھ بھی استعمال کرکے مزید خوش ذائقہ بنایا جا سکتاہے۔
لوبیا:
لوبیے کے بیج بھی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے مفید ہیں،یہ بیج پروٹین ،فائبر اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتے ہیں۔

انہیں اُبال کر بھی استعمال کیا جا سکتاہے،ابالنے کے بعد جب یہ نرم ہو جائیں تو انہیں دیگر سبزیوں میں ڈال کر مزیدار پکوان تیار کیے جاسکتے ہیں جو کہ طبی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہوں۔
چقندر:
نائٹریٹ آکسائیڈ سے بھر پور یہ سبزی خون کی شریانوں کو کشادہ کرکے بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے۔چقندر بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے مفید ہے،اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتاہے ۔

جیسے جوس کی شکل میں،پکا کر یا کچی کھا کر کیا جا سکتاہے۔
بادام:
باداموں کے فوائد کئی ہیں۔پروٹین،فائبر اور میگنیشیم سے بھر پور یہ گری بلڈ پریشر کی روک تھام میں بھی مفید ہے۔غذا میں میگنیشیم کی کمی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے،روزانہ تھوڑے سے بادام کھانے کی عادت بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں مفید ہو سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-15

Your Thoughts and Comments