Yoga Or High Blood Pressure

یوگا اور ہائی بلڈ پریشر

Yoga Or High Blood Pressure
انسانی صحت کا سب سے زیادہ انحصار صحت مند اور آکسیجن سے بھر پور خون کی قلب سے جسم کو فراہمی اور ناصاف یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ والے خون کی جسم سے قلب کو بلاروک ٹوک واپسی پر ہے۔صاف یعنی Oxygenatedخون قلب سے جسم کے ہر عضو اور ایک ایک خلیے تک پہنچانے والی رگوں کو شریان Arteryکہا جاتا ہے۔نا صاف خون واپس قلب تک لانے والی رگیں ورید(Veins)کہلاتی ہیں۔

قدرت نے ایسا نظام تشکیل دیا ہے کہ آکسیجن سے بھر پور خون جسم کے ایک ایک حصے میں جا کر آکسیجن پہنچاتا ہے اور وہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھرا ہوا خون واپس دل میں آتا ہے ۔جسم کو آکسیجن سانس کے ذریعے پھیپھڑوں سے ملتی ہے۔دوران خون کا نظام جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ براستہ دل پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے ۔سانس لینے سے جسم کو تازہ آکسیجن فراہم ہوتی ہے اور سانس خارج کرنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈجسم سے خارج ہوجاتی ہے۔

(جاری ہے)

جسم میں خون کی روانی کے لیے قدرت کے وضع کردہ نظام کے تحت دل سکڑتا اور پھیلتا ہے۔دل کے سکڑنے کو Systoleاور پھیلنے کو Diastoleکہا جاتاہے۔اس عمل کا اصطلاحی نام بلڈ پریشر ہے ۔انسانوں کا طبعی بلڈ پریشر 120/70مانا گیا ہے۔
بلڈ پریشر دراصل دل کے دھڑکنے سے خون کی رگوں پر پڑنے والا دباؤ ہے۔خون کی رگوں یعنی شریانوں اور وریدوں میں کسی وجہ سے سختی بڑھ جائے یا تنگی آجائے توجسم خون فراہم کرنے کے لیے قلب کو زیادہ قوت لگانا پڑتی ہے ۔

سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ فراہمی خون کے لیے قلب کا زیادہ قوت لگانا ہائی بلڈ پریشر کہلاتا ہے۔اس عمل سے نہ صرف یہ کہ قلب کمزور ہو سکتا ہے بلکہ جسم کے دوسرے اعضائے رئیسہ خصوصاً دماغ اور گردوں پر شدید نقصان دہ اثرات ہو سکتے ہیں ۔خون پہنچانے والی شریانیں جہاں بہت باریک ہوں وہاں دباؤ بڑھ جانے سے ان پر شگاف بھی پڑ سکتا ہے ۔اس شگاف کا نتیجہ اس مقام پر خون کے اخراج Hemorrhoidsکی شکل میں ہو سکتاہے۔


بلڈ پریشر یعنی دل کے سکڑنے اور پھیلنے کی رفتار،طبعی رفتار سے کم ہو جائے تو اسے کم بلڈ پریشر
(Low Blood Pressure)اور طبعی رفتار سے بڑھ جائے تو اسے زیادہ بلڈ پریشر (High Blood Pressure)کہا جاتا ہے ۔یہاں ایک چارٹ میں بلڈ پریشر کے مختلف درجے بتائے گئے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کی زیادتی سے کیا ہو سکتا ہے:
بلڈ پریشر کی زیادتی سے انسانی صحت کو کئی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔

ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے فالج ہو سکتا ہے ۔دل کے امراض حتیٰ کہ ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے ،گردے خراب ہو سکتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات :
1۔خون کی رگوں میں غیر طبعی سختی یا تنگی۔
2۔کولیسٹرول کی زیادتی۔
3۔موٹاپا۔
4۔خون میں ایڈری نلین(Adrenaline) اور کورٹی سول(Cortisol)کی زیادتی۔
واضح رہے کہ اعصابی دباؤ کی وجہ سے ایڈرینلین(Adrenaline)کا تیزی سے اخراج ہوتا ہے۔

اسی لیے شدید اعصابی دباؤ، اسٹریس ،شدید غصہ وغیرہ بلڈ پریشر میں فوری اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
5۔ذیا بیطس۔
6۔گردوں کی کارکردگی میں کمی یا خرابی۔
7۔پر آسائش طرز زندگی ،جسمانی مشقت نہ کرنا،کثرت سگریٹ نوشی یا سیکنڈ ہینڈ اسپوکنگ، کثرت شراب نوشی۔
8۔بعض خواتین میں دوران حمل بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔حتمی اعداد وشمار تو دست یاب نہیں ہیں تاہم اندازہ ہے کہ پاکستان میں بیس فی صد سے زائد مرد وخواتین میں ہائی بلڈ پریشر کی علامت موجود ہوسکتی ہیں ۔

پاکستان میں جولوگ اس بات سے واقف ہیں کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے ان میں سے بھی اکثریت اپنے ٹیسٹ اور علاج میں باقاعدگی اختیار نہیں کرتی۔بلڈ پریشر کے مریض اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر بلڈ پریشر کو با آسانی کنٹرول کر سکتے ہیں ۔طرز زندگی میں تبدیل کا مطلب ہے خوراک میں مطلوبہ تبدیلیاں، باقاعدگی کے ساتھ جسمانی ورزش اور سونے اور جاگنے کے اوقات میں متناسب تبدیلیاں ۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے یو گا ایک بہت ہی مفید ورزش ہے۔
یوگا کے ذریعے مسلز میں ڈھیل اور تناؤ کا عمل:
انسانی جسم ہڈیوں اور پٹھوں(Bones and Muscles)پر مشتمل ہے۔جسم کو مسلسل حرکت اور مشقت نہ دی جائے تو جسم کے مسلز اور جوڑوں میں لچک کم ہونے لگتی ہے۔پٹھوں میںStiffnessاور جوڑوں میں لچک کم ہوجانا کئی طبی مسائل اور کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

حرکت اورمشقت میں کبھی خون میں چکنائی کی زیادتی اور جسم میں انسولین مزاحمت کا سبب بن سکتی ہے ۔ان وجوہات سے وزن میں اضافہ ،جوڑوں میں درد،جگر کے فعل میں نقص ،ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔
پانچ ہزار سال قبل ماہرین یوگ پر یہ حقیقت منکشف ہو چکی تھی کہ جسم کے کسی حصہ کو پہلے ڈھیل اور پھر تناؤکی کیفیت سے دو چار کر دیا جائے تو اس حصہ جسم پر قدرتی لچک بھال ہو جاتی ہے ۔

لچک بحال ہونے سے اس حصہ جسم کی شریانوں اور وریدوں کی سختی میں بتدریج کمی ہوتی جاتی ہے ۔وہاں رکے ہوئے فاسد مادوں کا اخراج ہونے لگتا ہے ۔ڈھیل اور تناؤ کا یہ عمل ہمارے جسم کے مختلف غدودوں کو فعال رکھ کر ان میں بننے والے ہار مونز کی پیدائش کو متوازن کر دیتا ہے۔اس سے ہماری صحت ہی بہتر نہیں ہوتی بلکہ ہارمونز کی مناسب پیدائش ہمیں قبل ازوقت بوڑھا ہونے (Ageing) سے بھی بچاتی ہے۔


یو گا کی کئی اقسام ہیں ۔ہر قسم میں کئی درجات (Level)ہیں ۔ہرلیول کی علیحدہ مشقیں ہیں ۔یو گا کی ایک قسم ہٹھ یو گا(Hatha Yogaٌْْْ)کہلاتی ہے۔ہٹھ یو گا(Hatha Yoga)کے انداز ہائے نشست کچھ اس طرح سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ ہر انداز نشست جسم کے کسی نہ کسی حصے پر اس ڈھیل اور تناؤ کے فارمولے کے ذریعے اثر انداز ہوتا ہے اس حصہ جسم کو لچک دار بنا کر اسے نہ صرف صحت مند بناتا ہے بلکہ اس کی کار کردگی کو بھی بڑھا دیتا ہے۔

ہٹھ یوگا میں مختلف امراض کے لیے علیحدہ انداز نشست مرتب کیے گئے مثلاً اگر کوئی گردوں کا مریض ہے تو اسے کو برا(Dobra)کا انداز نشست اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اگرکوئی دل کا مریض ہے تو اسے“ہل “انداز نشست کی تربیت دی جاتی ہے۔اگر کوئی بلڈ پریشر کی زیادتی کا مریض ہے تو اسے شیوآسن کی ہدایت کی جاتی ہے ۔اگرکوئی ازدواجی تعلقات میں کمزوری محسوس کررہا ہے توا سے سرونگ آسن بتایا جاتا ہے۔

غرضیکہ ہر طبی مسئلے کے حل کے لیے الگ الگ انداز ہائے نشست ہیں۔زیر نظر باب بلڈ پریشر سے متعلق ہے ۔اس کے لیے ہم شیو آسن پیش کررہے ہیں۔
اس موقع پر ایک بات ضرور یاد رکھیے کہ جن لوگوں کا بلڈ پریشر زیادہ بڑھ چکا ہے ان کے لیے ضروری ہے کہ پہلے کسی مستند معالج سے مشورہ کیاجائے۔ڈاکٹر کے مشورے پر ادویات اور پرہیز کے ساتھ ساتھ یوگا کیجیے۔

کسی ماہر استاد کی زیر نگرانی یو گا کی مشقیں ٹھیک طرح کی جائیں تو مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتے عشرے میں ہی نمایاں بہتری محسوس ہوگی۔
شیو آسن
جب آپ شام کو تھکے ماندے گھر آئیں تو کسی تخت یا فرش پر اس طرح لیٹیں کہ آپ کی ایڑیاں ملی ہوئی ہوں اور پنجے کھلے ہوں جبکہ آپ کے ہاتھوں کا رخ آسمان کی طرف ہو ۔آنکھیں بند کرکے داہنے پاؤں کے انگوٹھے پر اپنی توجہ مرکوز کردیں اور یہ تصور کریں کہ داہنے پاؤں کے انگوٹھے کا تناؤ آہستہ آہستہ ختم ہو رہاہے اور انگوٹھا آرام دہ حالت میں آگیا ہے ۔

اب اس انگوٹھے میں کسی قسم کا کھنچاؤ باقی نہیں ۔انگوٹھے میں تناؤ ختم کرنے کا تصور کرنے کے بعد انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کا تناؤ ختم کرنے کا تصور کیجئے ۔حتیٰ کہ تمام انگلیوں کا تناؤ اسی طرح ختم کرنے کا تصور کیجئے۔بعدازاں یہ تصور کیجیے کہ پورے پاؤں یعنی ایڑی تک کا تناؤ ختم ہو گیا ہے۔
اب دائیں پیر کی طرف توجہ مر کوز کیجیے اور انگوٹھے سے شروع کرکے اس کا تناؤ اسی ترتیب سے ختم ہونے کا تصور کیجئے۔

اس کے بعد یہ تصور کیجئے کہ دائیں پنڈ لی تک کا تناؤ ختم ہو گیا ہے اسی طرح دوسرے پاؤں یعنی بائیں پنڈلی کا تناؤ ختم ہونے کا تصور کیجئے۔
اب د ا ہنی ٹانگ کا تناؤ کو لہے تک کرنے کا تصور کیجئے۔اسی طرح بائیں ٹانگ کا کولہے تک تناؤ ختم کرنے کا تصور کیجئے ۔اس کے بعد پیٹ اور سینے کا تناؤ ختم کرنے کا تصور کیجئے۔بعدازاں دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا تناؤ اسی ترتیب سے ختم کرنے کا تصور کیجئے۔

اس کے بعدگردن،چہرے کے مختلف حصے مثلاً رخسار،ہونٹ،ناک ،کان اور آنکھوں کا تناؤ ختم کرنے کا تصور کیجئے۔سب سے آخر میں دماغ کا تناؤ ختم کرنے کا تصور کیجئے۔دماغ کا تناؤ ختم کرنے کا تصور کرتے وقت آہستہ آہستہ یہ فقرے دہراتے جائیے۔
”میرے ذہن پر اب کوئی دباؤ نہیں ہے۔میرا ذہن آرام دہ اور پر سکون حالت میں ہے۔“
اس طرح اب جتنی دیر چاہیں لیٹے رہیں۔

یہ تصوراتی ورزش نوجوان ،ادھیڑ عمر،بڑی عمر کے سب مرد وخواتین کر سکتے ہیں ۔اس ورزش کو صحت مند افراد بھی کرسکتے ہیں اورکسی مرض میں مبتلا افراد بھی ۔یہ ورزش سب کے لیے یکساں مفیدہے ۔قلب کے مریضوں کے لیے تویہ تصوراتی ورزش بہت مفید ہے ۔اس تصوراتی ورزش سے خون کے دباؤ کو نارمل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے ۔تصوراتی ورزش کا دورانہ کم از کم پندرہ منٹ ہے ۔اس کا دورانیہ پندرہ منٹ سے آدھے گھنٹے یا اس سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-27

Your Thoughts and Comments