Bachoon K Liye Nashta Buhat Zaroori Hai

بچوں کے لئے ناشتا بہت ضروری ہے

جمعہ فروری

Bachoon K Liye Nashta Buhat Zaroori Hai
لاراڈونلی
بچے کی زندگی کے ابتدائی برس بہت اہم ہوتے ہیں،اس لئے کہ اس زمانے میں اس کی ذہنی وجسمانی نشوونما کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ اس زمانے میں جسم ودماغ کے خلیات (سیلز) کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتاہے۔ ابتدائی برسوں میں بچے کی 90فیصد ذہانت اُبھر کر سامنے آجاتی ہے اور معمول کی جسمانی وذہنی بڑھوتری اور فروغ کے ساتھ اس میں جذبات ،خواہشات اور احساسات کے اظہار کی صلاحیت بھی پنپنے لگتی ہے۔

اس زمانے میں بچے کو متوازن غذا کی بے حد ضرورت ہوتی ہے۔ متوازن غذا کی عدم دستیابی کی صورت میں بچے کے بڑھنے اور نشوونما پانے کی صلاحیت پر خراب اثر پڑتاہے۔ صبح کی پہلی غذا،یعنی ناشتا اس ضمن میں بنیادی کردار ادا کرتاہے ،جو بچے عام طور پر صبح کے وقت ناشتا کرنے کے عادی نہیں ہوتے ،وہ پڑھائی میں اپنی جماعت کے دوسرے ساتھیوں سے پیچھے رہتے ہیں ،جب کہ وہ بچے جو روزانہ ناشتا کرکے سکول جاتے ہیں،وہ اپنے ہم جماعتوں سے سبقت لے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایسے بچوں کا تعلیمی ریکارڈ بہت اچھا ہوتاہے۔
برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی (LEEDS UNIVERSITY) میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سکول جانے والے ایسے بچے جو صبح کے پہلے کھانے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے،وہ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔اس رجحان میں دوسرے عوامل بھی شامل ہیں،جو بچے کی تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں،مثلاً بچے کے والدین کی مالی طور پر کمزور سماجی حیثیت وغیرہ۔


تحقیق کاروں کے مطابق بچے کی پڑھائی میں دلچسپی زنجیر کی وہ پہلی کڑی ہے ،جس کا ناشتے اور تعلیمی کارکردگی سے تعلق ہے۔ لیڈز یونیورسٹی میں پڑھانے والی ماہر نفسیات ڈاکٹر کیٹی نے بتایا کہ ہمارا تعلیمی نصاب اس طرح بنایا گیا ہے کہ سکول آنے والے بچے اگر صبح کا آغاز ناشتے سے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دماغوں کو ضروری ایندھن فراہم نہیں کرتے اور اس طرح وہ اپنا نقصان کرتے ہیں اور اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہیں۔

ہمارے مرتبہ نصاب میں دماغ کی فعالیت بہت ضروری ہے۔
برطانیہ میں 5لاکھ ایسے بچے ہیں،جو صبح کا ناشتا کرنے سے محروم رہتے ہیں،اس لئے کہ ان کے والدین کے معاشی حالات اچھے نہیں ہیں، لہٰذا وہ مجبوراً خالی پیٹ سکول جاتے اور تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن چونکہ ان کے دماغ فعال نہیں ہوتے ،اس لئے وہ جو کچھ پڑھتے ہیں ،بھول جاتے ہیں ۔

روزانہ متوازن ناشتا کرنے سے بچے کے دماغ پر بہت مثبت اثرات پڑتے ہیں اور اُس کی فہم وادراک کی قوت خوب کام کرتی ہے۔ متوازن ناشتے میں نشاستے(کاربوہائیڈریٹ) ،لحمیات (پروٹینز)،چکنائی ،حیاتین(وٹامنز)اور معدنیات (منرلز)کی مناسب مقدار ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کیٹی کے مطابق جب بچے کو دن کے آغاز میں ضروری واہم غذائیت والا کھانا نہیں ملتا تو سکول میں اس کی کارکردگی ضرور متاثر ہوتی ہے۔

اس ضمن میں ایک سروے کرایا گیا،جس میں مغربی یارک شائر(WEST YORKSHIRE) کے علاقے میں سکولوں اور کالجوں کے تقریباً 300طلباء شریک تھے۔ تحقیق کاروں کو اس سروے سے معلوم ہوا کہ سکول آنے والے 29فیصد بچے کبھی کبھار ناشتا کرتے یا بالکل نہیں کرتے ہیں،جب کہ 18فیصد بچے شاذو نادر ہی ناشتا کرتے ہیں اور 53فیصد بچے اکثر ناشتا کرتے ہیں۔وہ بچے جو کبھی کبھار ناشتا کرتے تھے ،انھوں نے امتحانات میں ان بچوں سے بہت کم نمبر حاصل کیے، جو روزانہ ناشتا کرنے کے عادتی تھے۔

اس سلسلے میں سماجی حیثیت ،عمر ،جنس،وزن معلوم کرنے کے طریق کار (BMI) اور نسلی گروہ جیسے عوامل کو چیک کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ جو بچے ناشتے سے بھاگتے یا غربت کی وجہ سے ناشتا نہیں کرپاتے اور خالی پیٹ سکول جاتے ہیں ،ان کی تعلیمی کارکردگی ناقص ہوتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ ناشتے میں بچوں کو دودھ ضرور پینا چاہیے،اس لئے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے ۔

جدید تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دودھ بے حد مفید غذا ہے اور اس میں تقریباً وہ سارے صحت بخش اجزاء شامل ہوتے ہیں ،جن کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ دودھ کا خاص جزو کیلسیئم ہے ،جو ہڈیوں اور دانتوں کے لئے بہت مفید ہے ۔اس کے علاوہ ناشتے میں بچوں کو دال اور پالک بھی دی جاسکتی ہے ۔دال میں لحمیات ہوتی ہیں، جب کہ پالک میں فولاد اور حیاتین الف(وٹامن اے)بھی پائی جاتی ہے ۔

ایک اور مفید ترین غذا، یعنی گاجر بھی ناشتے میں دی جا سکتی ہے ،اس میں بھی حیاتین الف ہوتی ہے ،جو آنکھوں اور جگر کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔
برطانیہ میں تعلیم کے ایک شعبے نے دو خیراتی اداروں،یعنی چیرٹی میجک بریک فاسٹ (SHARITY MAGI BREAKFAST) اور فیملی ایکشن(FAMILY ACTION)کوفنڈ دے کر اور معاشی طور پر کمزور گھریلو حالات والے بچوں کو دیکھتے ہوئے بریک فاسٹ نامی ایک پروگرام شروع کیا ہے ،جس کے تحت برطانیہ میں واقع 1800سے زیادہ غریب سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو مفت ناشتے تقسیم کیے گئے۔

اس کے علاوہ لندن میں 480سکولوں کو بھی مفت ناشتا فراہم کیا گیا۔اس پروگرام کو قانونی شکل دی جارہی ہے ،تاکہ مستقل بنیاد پر بلا تفریق غریب سکولوں کو مفت ناشتا ملتا رہے اور ملک کی نوجوان نسل صحت مند اور توانا رہے۔برطانیہ میں کچھ سکول ایسے بھی ہیں،جنھوں نے ناشتے کے ذاتی کلب تک قائم کر رکھے ہیں۔ان کلبوں کو مختلف کمپنیاں فنڈ دیتی رہتی ہیں،مثلاً کیلگس(KELLOGGS)وغیرہ۔


میجک بریک فاسٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹیو کے مطابق یہ پروگرام ایک ایسا بصیرت افروز پروگرام ہے ،جو سکولوں اور کالجوں میں بچوں کے لئے ناشتے کی قدر واہمیت اور افادیت کو آشکار کرتاہے ۔یہ حصول علم کی راہ میں موجود بہت ساری رکاوٹوں کو دور کرنے کا سبب بنتاہے ،اس لئے کہ ایک صحت مند جسم میں ہی ایک صحت مند دماغ ہوتاہے اور برطانیہ کی نئی نسل کو تندرست وتوانا ہونا چاہیے ،کیونکہ انھوں نے ہی مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔

درخشاں مستقبل کے لئے اچھی صحت کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔اس لئے کہ اچھی صحت ہی تعلیم کے حصول میں مدد دیتی ہے اور تعلیم ملک کی ترقی کے لئے اتنی ہی ضروری ہے ،جس طرح جسم کے لئے صحت مند خون۔نئی نسل جب ذہنی وجسمانی نشوونما پاتی ہے تو معاشرے کی ترقی وخوشحالی یقینی ہو جاتی ہے۔مذکورہ پروگرام کے منیجر نکو لا ڈالٹن نے کہا کہ ناشتا بچوں کی ذہنی وجسمانی نشوونما کے لئے اتنا ضروری ہے کہ یہ والدین کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے ۔جدید تحقیقات کے مطابق ناشتا بچوں کے فہم واد راک میں اضافہ کرتا،کلاس میں ان کی کارکردگی کو شان دار بناتا،ارتکاز توجہ کی طرف مائل کرتا،دوسروں کے ساتھ برتاؤ بہتر کرتا اور ترقی وخوشحالی کی طرف گامزن کرتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-14

Your Thoughts and Comments