Bakarkhani Aur Naan Khatai - Article No. 2271

باقر خانی اور نان خطائی․․․صبح و شام کے ناشتے - تحریر نمبر 2271

بدھ 13 اکتوبر 2021

Bakarkhani Aur Naan Khatai - Article No. 2271
سہیل احمد صدیقی
باقر خانی میٹھی روغنی ٹکیہ ہے جو بسکٹ جیسی ہلکی پھلکی تہہ دار میٹھی چیز ہے اور عام طور پر صبح اور شام کے ناشتوں میں استعمال ہوتی ہے۔باقر خانی کا قدیم وطن ڈھاکا ہے یہ عہد مغلیہ کی ایجاد ہے۔بنگال کے علاقے میں جو اقسام مشہور ہیں ان میں گاؤ جوبان، شوکھا،نیم شوکھی،گائے چار روٹی،ملام،چن شوکی اور کشمیری ہیں۔

باقر خانی کی تیاری میں سوجی،میدہ،گھی،زعفران میں ڈبویا ہوا گڑ، کلونجی،خشخاش اور نمک استعمال ہوتے ہیں۔
حکایت،باقر خانی
کہتے ہیں کہ اس کا نام نواب بنگال مرشد قلی خان کے لے پالک اور نواب سراج الدولہ کے جرنیل،آغا باقر خان اور اس کی محبوبہ خانی بیگم سے منسوب کیا جاتا ہے۔باقر خانی کا اولین ذکر 1746ء کے قصہ مہر افروز و دلبر میں ملتا ہے۔

(جاری ہے)

ایک اونس کی باقر خانی میں 12.2 چکنائی اور 18.8 ڈگری کاربوہائیڈریٹس موجود ہیں۔
اہل لاہور کا دعویٰ
موچی گیٹ لاہور کے اندرونی بازار میں خلیفہ بیکرز کو اب خاصی شہرت ان میں دو لوازمات یعنی باقر خانی اور نان خطائیوں سے ملی ہے جبکہ یہ بیکری کے دوسرے لوازمات بھی تیار کرتے ہیں۔لاہور کی اس باقر خانی کی مٹھاس قدرے زیادہ ہے جبکہ ڈبل روٹی کی ایک صنعت رسول گروپ نے انتہائی ارزاں یعنی کم قیمت کی باقر خانی متعارف کرائی جسے عوامی حلقوں میں خاطر خواہ پذیرائی ملی۔

اب کراچی میں بھی ان کی فرنچائز قائم ہو گئی ہے۔نان خطائی کو خطا کی روٹی کہا جاتا رہا ہے۔خطاء چین کے اسلامی خطے شن جی یانگ جسے سنکیانگ بھی کہا جاتا ہے یہ روٹی وہاں ناشتے میں کھائی جاتی تھی۔اس علاقے کے قریب ختن نامی جگہ ہے جس کا مشک بہت مشہور ہے۔یہ مشک ہرن کے نافے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔جو لوگ خطا کا مطلب بسکٹ سے لیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔

یہ مشک نان خطائی کے اجزاء میں شامل کیا جاتا تھا۔نان خطائی کو کلچہ خطائی بھی کہا جاتا ہے اور 16 ویں صدی میں سورت کے مقام پر اسے چاول اور گندم کے آٹے،شکر،دہی،نمک،مکھن اور دودھ کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا۔آج بھی کم و بیش یہی اجزاء باداموں اور خشک میووں کے ساتھ شامل کئے جاتے ہیں۔فارسی میں روٹی کو نان کہا جاتا ہے۔ایک روائت یہ بھی ملتی ہے کہ ایران سے چین جانے والوں نے اس مقوی غذا کو اپنے یہاں متعارف کرایا اور اس کا نام نان خطائی لکھ دیا۔


100 گرام نان خطائی میں موجود حراروں کی مقدار
مجموعی حراروں کی تعداد 85.1
چکنائی 4.3 گرام
سیچوریٹد فیٹ 6.0 گرام
ٹرانس فیٹس 8.4 گرام
ایران اور افغانستان میں اسے آج بھی کلچہ خطائی کہا جاتا ہے۔ایرانی بسکٹ نان خطائی کی شکل کے ضرور ہیں مگر یہ پاکستان اور بھارت میں بنانے والی نان خطائیوں سے یکسر مختلف ہیں۔بھارت میں نان خطائی بنانے کی روائتیں تقریباً ترک ہونے لگی ہیں مگر بزرگ حضرات و خواتین اب بھی گنجان آباد اور پرانے شہروں میں موجود کاریگروں کو ڈھونڈ نکالتے ہیں اور فرمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-10-13

Your Thoughts and Comments