Insaani Ghaza Main Hewani Lehmiyaat Ki Ehmiyat

انسانی غذا میں حیوانی لحمیات کی اہمیت

Dr. Waqar Ali Gill ڈاکثر وقار علی گل منگل جولائی

Insaani Ghaza Main Hewani Lehmiyaat Ki Ehmiyat
حیوانی ذرائع سے حاصل ہونے والی خوردنی اشیاء مثلاً دودھ اور اس کی مصنوعات،گوشت، مچھلی، پولٹری اورانڈوں کا انسانی غذا میں سب سے اہم کردار یہ ہے کہ وہ ہمیں اعلیٰ درجہ کی پروٹین یعنی لحمیات فراہم کرتے ہیں۔ لحمیات نہ صرف لازمی امینوایسڈ فراہم کرتے ہیں جن سے ہمارے جسم کے خلیات جنم لیتے ہیں بلکہ یہ مرکزی لحمیات اور خامروں کی صورت میں نہایت اہم ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے لازمی افعال مثلاً تولید، خلیات کی نشوونما ، بالیدگی، خلیات کی تفریق ، وائرس کی سرگرمیوں اور جینیاتی سرگرمیوں میں بھی عمل افزاء کے طور پر کام کرتے ہیں۔


امینوایسڈ
لحمیات امینوایسڈز سے بنتے ہیں جن میں سے چند ایک لازمی ہوتے ہیں ابتدائی مطالعات کے مطابق ایسے امینوایسڈز جن کی لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والے تجرباتی جانوروں کی خوراک میں عدم موجودگی نشوونمامیں رکاوٹ یا موت کا سبب بن سکتی ہو ان کو لازمی امینوایسڈز کہاجاتا ہے۔

(جاری ہے)


امینوایسڈز کی غذائی جماعت بندی ذیل میں دی گئی ہے۔


لازمی امینوایسڈز (Essential Amino acids): ہسٹڈین، لائی سین، ٹرپٹوفین، فینائل الانین، میتھائیونین، تھرئیونین، لیوسین، آئسولیوسین، اوروے لین۔
نیم لازمی امینوایسڈز (Semi Essential Amino acids): آرجنین، ٹائروسین، سسٹین، گلائی سین اور سیرین ۔
غیر لازمی امینوایسڈز (Non Essential Amino acids): گلوٹامک ایسڈ، اسپارٹک ایسڈ، الانین، پرونین، اورہائیڈروکسی پرولین۔


نیم لازمی امینوایسڈز میں سے آرجنین اور گلائی سین مرغیوں کے لیے لازمی ہیں۔ ٹائروسین اور سسٹین باالترتیب فینائل الانین اورمیتھائیونین کے جزوی متبادل ہیں۔ سیرین، گلاسین کا جزوی یامکمل متبادل ہو سکتاہے۔
لحمیات کی درجہ بندی:
لحمیات کی گروہ بندی اس بناء پر کی جاسکتی ہے کہ وہ حیوانات سے حاصل ہو تے ہیں یا نباتات سے اس طرح انہیں دو اقسام حیوانی لحمیات اور نباتاتی لحمیات میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔

حیوانی لحمیات میں لازمی امینوایسڈز نباتاتی لحمیات کے مقابلہ میں زیادہ مقدار اور تعداد میں
موجود ہوتے ہیں اوران کی غذائی قدروقیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لحمیات کی غذائی اہمیت اورقدروقیمت کا اندازہ کرنے کے لیے سفید چوہوں میں نشوونما کی شرح کو پیمانہ تصور کیاجاتاہے۔ مقررہ وقت میں ایسے چوہے جن کی خوراک میں لحمیات شامل ہوں نباتاتی لحمیات کھانے والے چوہوں کے مقابلے میں دو تین گُنا زیادہ وزن حاصل کر لیتے ہیں۔

دو حیوانی لحمیات اس سے مستثنیٰ ہیں ایک کولاجن یا جیلاٹن اوردوسری الاسٹن، یہ دونوں لحمیات گوشت کے تالیفی خلیات میں پائے جاتے ہیں۔
امینوایسڈز کے درمیان حیاتیاتی فرق کے جدید علم کی بناپر لحمیات کی درجہ بندی مکمل اور نا مکمل لحمیات کی صورت میں کی جاتی ہے۔ حیاتیاتی لحاظ سے مکمل لحمیات وہ ہیں جن میں ہماری جسمانی ضرورت کے تمام لازمی امینوایسڈز مناسب مقدار میں موجود ہوں۔

تقریباً تمام حیوانی لحمیات کو ہم مکمل لحمیات کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ نامکمل لحمیات میں ایک یا ایک سے زیادہ امینوایسڈز کی کمی ہوتی ہے یہ کمی مطلق یا مقابلتاً ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر نباتاتی لحمیات اس بنا پر نامکمل قرار دیئے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی نہ کوئی لازمی امینوایسڈ غائب یا مفقود ہوتاہے۔
مختلف اشیاء کی غذائی قدروقیمت کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈے کی لحمیات کو معیار ماناجاتاہے۔

انڈے میں موجود لازمی امینوایسڈز سے ان کا مقابلہ کیاجاتاہے۔ انڈے کی لحمیات زیادہ قابل ہضم ہیں۔لحمیات کی غذائی قدروقیمت میں لازمی امینوایسڈز کی ترکیب کے علاوہ جو عوامل اہم ہیں ان میں امینوایسڈز کا آزاد حالت میں ہونا اورلحمیات کی ہضم پذیری بھی شامل ہیں۔ بے شمار تجربات سے ثابت ہوچکاہے کہ نباتاتی لحمیات کے برعکس حیوانی لحمیات زیادہ ہضم پذیر ہیں۔

ان غذاؤں مثلاً دودھ ، گوشت اورانڈوں کے امینوایسڈز میں استعمال ہونے کی صلاحیت بہت اعلیٰ ہے۔
ہماری خوراک میں لحمیات کی ضروری مقدار:
اس میں شک نہیں کہ انسانی لحمیاتی ضروریات جن کا اندازہ بچوں اور نوجوانوں میں نشوونما اورتحویل کے تجربات کی بناپر کیاگیاہے۔ نباتاتی اور حیوانی لحمیات کو ملاکر استعمال کرنے سے بطریق احسن پوری کی جاسکتی ہیں۔

بعض نباتاتی لحمیات جن میں کسی خاص لازمی امینوایسڈ کی کمی ہو سے مشکلات بھی پیداہوسکتی ہیں انسانی ضروریات قدرے کم حیوانی لحمیات سے بھی پوری کی جاسکتی ہیں۔ یہ امر مسلّم ہے کہ حیوانی لحمیات غذائی معیار کے لحاظ سے نباتاتی لحمیات کے مقابلہ میں بہترین ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ترقی پذیر ممالک کی نسبت حیوانی لحمیات زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہیں اورجوں جوں عوام کی معاشی حالت بہتر ہوتی جاتی ہے ان میں حیوانی لحمیات کا استعمال بھی بڑھتا جاتاہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں لوگ
حیوانی لحمیات کو زیادہ سے زیادہ اپنی خوراک میں شامل کرتے ہیں۔
لحمیات کی قلت کے اثرات
بہت سے ترقی پذیر ممالک میں خوراک عموماً اناج اور دالوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں حیوانی ذرائع سے حاصل شدہ خوراک بہت کم شامل ہوتی ہے۔ حیوانی غذائیں ان علاقوں میں بہت کم دستیاب ہوتی ہیں۔ حیوانی لحمیات کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

حیوانی لحمیات کی اس کمی سے سوئے تغذیعہ(Mal Nutrition) کی علامات پھیل رہی ہیں جو بچوں میں ایک بیماری”کاشرکر“ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بیماری غذائی قلت کی ایک شدید پیچیدہ شکل ہے۔
قلت غذا کے علاقوں میں اکثر بچوں کی تقریباً 6ماہ تک نشوونما تسلی بخش ہوتی ہے۔ ان کا وزن بھی دوسرے بچوں کی طرح ہی بڑھتاہے کیونکہ ان کی لحمیات کی ضروریات ماں کے دودھ سے پوری ہوتی رہتی ہیں۔

6ماہ کی عمر کے بعد ان کی لحمیاتی ضروریات میں اضافہ ہو جاتاہے۔ اول تو ان کی نشوونما میں اضافے کی وجہ سے اوردوسرے تیزی سے بڑھنے والے عضلات کے سبب اگر اس دوران بڑھتی ہوئی لحمیات کی ضروریات پوری نہ کی جائیں تو نشوونما رک جاتی ہے ۔ اگر قلت غذا زیادہ شدید نوعیت کی ہو تو بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جدید تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ ان حالات میں نہ صرف جسمانی نشوونما بلکہ بچے کی دماغی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

دماغ وہ حصہ ہے جو جسم میں سب سے تیزی سے بڑھتاہے۔ ایک سال کی عمر میں یہ اپنی کل جسامت کا 70فیصد حاصل کر لیتاہے۔ 3سال کی عمر میں دماغ کی جسامت 80فیصد ہو جاتی ہے یہ انتہائی تیز نشوونما اس وقت ہوتی ہے جب اکثر بچوں کو لحمیات کی مناسب مقدار میسر نہیں ہوتی۔ لحمیات کی قلت کی علامات کی روک تھام کا سادہ ترین طریقہ یہی ہے کہ خوراک میں بہترین قسم کی لحمیات کے لیے حیوانی غذائیں مناسب مقدار میں شامل کی جائیں۔

خوراک میں اتنی توانائی بھی موجود ہو جو ان لحمیات کے مناسب استعمال کے لیے ضروری ہے۔
اگرچہ دودھ ، انڈے اورگوشت کی غذائی قدروقیمت مسلّم ہے تاہم ان کی پیداوار اکثر نباتاتی لحمیات کے مقابلے میں منافع بخش ہوتی ہے۔ جانوروں کی خوراک کو حیوانی لحمیات میں تبدیل کرنے کا عمل اکثر سست اور مہنگا ہوتاہے۔بہر حال ایسی اشیاء کی بھی کمی نہیں جو انسانی خوراک میں استعمال نہیں ہو سکتیں بلکہ صرف جانوروں کی خوراک ہی میں اعلیٰ قسم کی حیوانی پروٹین حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ حیوانی مصنوعات کی بہتر پیداوار اور خوراک میں ان کا مناسب استعمال ہماری جسمانی اور دماغی صحت کا ضامن ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-14

Your Thoughts and Comments