Qadam Barhaye - Umer Barhaye

قدم اُٹھائیے،عمر بڑھائیے

Qadam Barhaye - Umer Barhaye
شیخ عبدالحمید عابد
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مختلف مشینوں کے ذریعے سخت ورزشوں کے بغیرموٹے اور بھدّے جسم کو متناسب بنانا ممکن نہیں،جب کہ بعض لوگ طویل فاصلے کی دوڑ کومٹاپے سے چھٹکارے کی واحد صورت تصور کرتے ہیں،تاہم حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف بیس منٹ کی چہل قدمی بھی ذہنی وجسمانی صحت کے لیے اتنی ہی مفیدہے ،جتنی پر مشقت ورزش اور بھاگ دوڑ۔

چہل قدمی بڑھا ہوا وزن گھٹانے اور اسے قابو میں رکھنے میں بے حد مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ماہرین صحت کا دعوا ہے کہ روزانہ چہل قدمی کرنے سے عارضہ قلب کا خطرہ پچاس فی صد کم ہو جاتا ہے۔بیماریوں کے خلاف مدافعت میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ چہل قدمی آپ کے مزاج پر بھی خوش گوار اثرات مرتب کرتی ہے۔

(جاری ہے)

آپ کی یادداشت میں بہتری اور کمر کی پیمائش میں کمی واقع ہو تی ہے۔


اچھی صحت اور متناسب جسم کے لیے برطانیہ کے معالجین روزانہ تیس منٹ تک اوسط رفتار سے چہل قدمی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔لوگوں کو چہل قدمی کی جانب مائل کرنے والے برطانوی ماہر صحت کے مطابق چہل قدمی کے بہترین فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ چلنے کا درست انداز اختیار کیا جائے۔چلتے وقت اپنی کمر سیدھی رکھیں اور یہ تصور کریں کہ آپ کے کان سے نکلنے والی ایک لائن
کا ندھے اورکولھے سے گزر کر آپ کے ٹخنے تک پہنچ رہی ہے۔

اپنے پاؤں کی ایڑی پہلے زمین پر رکھیں،پھر تلوااور پنجہ زمین کو چھوئے۔آپ کا وزن قدرے آگے کی جانب رہے ،تاکہ آپ اپنے پنجوں کو زور ڈال کر پیچھے دھکیل سکیں۔اپنے بازوؤں کو موڑلیں اور کہنیاں جسم کے قریب رکھیں۔بازوؤں کو کاندھے سے حرکت دیں اور انھیں چھاتی کی طرف اس طرح اٹھائیں کہ وہ آپ کے کولھوں کی لائن میں رہیں۔چلتے وقت معمول کے مطابق سانس لیتے رہیں ،تاکہ آپ کی جسمانی حالت بہتر رہے۔

اپنی رفتار بڑھائیں اور بازوؤں کوٹانگوں کی حرکت کے ساتھ گردش میں لانے کی کوشش کریں۔چھوٹے قدم اٹھائیں اور ہلکے پھلکے انداز میں سانس لیتے رہیں۔
چہل قدمی بہت مفید ورزش ہے اور اس کے بے شمار فائدے ہیں،مثلاً دوران خون میں تیزی اور روانی پیدا ہوتی ہے ۔جسم میں توانائی کی لہر بیدار ہوتی ہے ۔ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے اور عمر لمبی ہوتی ہے۔چہل قدمی اور سحر خیزی بہت فائدہ مند ہیں۔صبح سویرے چہل قدمی کرکے دیکھیے،تمام درخت آپ کے خون کو سرخ رکھنے ،آپ کے پھیپڑوں کو صاف ہوا فراہم کرنے اور آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اوکسیجن کا تحفہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔مشہور جرمن فلاسفر نوئیل کانٹ صبح سویرے چہل قدمی کا اتنا پابند تھا کہ آندھی آئے یا طوفان ،بارش ہو یا برف باری ،وہ مقررہ وقت پر پیدل سیر کے لیے نکلتا اور حسب معمول فاصلہ طے کیے بغیر نہ لوٹتا۔

بعض لوگ اس مفید عادت کی قدر کرتے ہیں ،مگر کئی ایسے بھی ہیں ،جو اسے فضول اور غیر مفید سمجھتے ہیں ۔کانٹ صبح کی چہل قدمی کا اتنا پابند تھا کہ وہ ناغے کا تصوربھی نہیں کر سکتا تھا۔اس کی اس اچھی عادت نے 80برس کی عمر میں بھی اس کو صحت مند اور جوان رکھا ہوا تھا۔
حال ہی میں امریکی ماہرین صحت نے 17ہزارمردوں اور عورتوں کی عادات واطوار پر برسوں تحقیق کے بعد یہ رائے دی ہے کہ جو لوگ چہل قدمی کرتے ہیں وہ دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

وہ اچھی صحت سے لطف اٹھاتے ہیں اور طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے دلوں کو صحت مند رکھنے کے لیے دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔چہل قدمی کرنے سے جسم میں ایک خاص قسم کی حرکت پیدا ہوتی ہے ،جس سے پورے جسم میں خون کی گردش رواں رہتی ہے۔چہل قدمی صحت بخش غذاؤں یا مفید صحت حیاتین (وٹامنز)کی طرح ہے۔دل کو توانا رکھنے کے لیے روزانہ چہل قدمی ضروری ہے۔

اگر کوئی دل کا مریض ہے تو اس کے لیے بھی چہل قدمی ضروری ہے۔ چہل قدمی اعصابی نظام کے لیے ایک بہترین ٹانک کاکام کرتی ہے،خاص طور پر ایسے لوگ جو اپنی زندگی سے مایوس اورمسائل سے نڈھال ہوگئے ہوں ،وہ چہل قدمی کرکے نہ صرف اپنا علاج کر سکتے ہیں،بلکہ اپنے مسائل بھی حل کر سکتے ہیں ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چہل قدمی سے بھوک بڑھتی ہے ۔اس طرح جسم میں زیادہ حراروں (کیلوریز )کا اضافہ اور وزن بڑھنے لگتا ہے،لیکن یہ بات درست نہیں اور ایسی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں ،جو چہل قدمی کے بے شمار فوائد کو مد نظر نہیں ر کھتے۔


کسی بھی ورزش سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ کی جائے ۔چہل قدمی ایک ایسی ورزش ہے،جس کے لیے کسی مشیر ،معالج یا مشین کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس میں کوئی خرچہ بھی نہیں ہوتا،بلکہ جو محنت کی جاتی ہے اس کا ایک خاص لطف وفائدہ ہے ،لہٰذا آپ کی صحت اور طویل عمری کے لیے ضروری ہے کہ سادہ غذائیں کھائیں اور بقدر حوصلہ روزانہ چہل قدمی کریں اور صحت سے بھر پور خوش وخرم زندگی بسر کریں۔
تاریخ اشاعت: 2019-09-13

Your Thoughts and Comments