Masnoi Jild - Sokhta Mareezoon K Liye Umeed Ki Kiran

مصنوعی جلد۔سوختہ مریضو ں کے لیے اُمید کی کرن

Masnoi Jild - Sokhta Mareezoon K Liye Umeed Ki Kiran
آصف محمود
آپ نے اسپتالوں میں ایسے مریض دیکھے ہوں گے،جو آگ سے جھلس جانے کی وجہ سے تکلیف واذیت میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ان کے جھلسے ہوئے چہرے بدنما ہو جاتے ہیں ،لہٰذا وہ اپنا چہرہ یا جسم چھپانے لگتے ہیں۔ ایسے مریض نفسیاتی طور پر آزردگی یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔باوجود اس کے کہ موجودہ دور میں پلاسٹک سرجری نے کافی ترقی کرلی ہے اور سوختہ،یعنی آگ سے جھلسے ہوئے مریضوں کا علاج بہ آسانی ہوجاتا ہے ،لیکن اس میں خرچہ بہت آتا ہے ،اس لیے یہ وطن عزیز میں مریضوں کے لیے ایک خواب سابن کررہ گیا ہے۔


جن مریضوں کا مناسب علاج نہیں ہو پاتا،وہ مجبوراً اپنی داغ دار اور بدنما جلد کے ساتھ زندہ رہتے ہیں یا پھر زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں ۔بہر حال آگ سے جھلسے ہوئے مریضوں کے لیے اب اُمید کی ایک کرن روشن ہوئی ہے کہ مقامی پاکستانی ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ذاتی لیبارٹری میں مصنوعی جلد تیار کریں گے۔

(جاری ہے)


اس معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے ،کیوں کہ اس سلسلے میں یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پاکستان کی دو اساز ایسوسی ایشن کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے ۔پہلے ایسی مصنوعی جلد غیر ملک سے 900 ڈالر (127440روپے)فی انچ کے حساب سے درآمد کی جاتی تھی ،لیکن اب اسی قسم کی انسانی جلد ایک ہزار رُوپے میں پاکستان ہی میں تیار ہو سکے گی۔
اس مصنوعی جلد سے بڑے پیمانے پر سوختہ مریض شفایاب ہو سکیں گے۔

ان میں وہ مریض بھی شامل ہوں گے ،جن کاجسم 70فیصد تک جل چکا ہو۔ انسانی جلد کی جگہ مصنوعی جلد لگانے کا عمل پاکستان میں پہلی بار مقامی سطح پر 2015ء میں شروع ہوا،تاہم یہ تجرباتی طور پر کیا گیا تھا،اب اس جلد کو وسیع پیمانے پر تیار کیا جارہا ہے،جس سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد مستفید ہو سکے گی۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرام نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جل کر مرنے کی مختلف وجوہ ہوتی ہیں ،جن میں مختلف قسم کے تعدیے(انفیکشنز)،خلیوں سے پانی کا اخراج اور متاثرہ شخص کے جسم سے معدنیات(منرلز)کا تیزی سے ضائع ہو نا شامل ہیں۔


انھوں نے مزیدکہا کہ مریضوں کی شرح اموات اس بنا پر زیادہ ہوتی ہے کہ وہ 70فیصد کے بجائے90 فیصد تک جھلس چکے ہوتے ہیں۔جب ہماری اپنی لیبارٹری میں مصنوعی جلد وسیع پیمانے پر تیار ہونے لگے گی تو متاثرہ افراد کی تکلیف 20فیصد تک کم ہو جائے گی اور مریضوں کے بچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
دراصل غیر ملک سے درآمد کی جانے والی مصنوعی جلد بہت مہنگی پڑتی ہے،خاص طور پر متوسط طبقے کے مریضوں کے لیے،لہٰذا وہ علاج کرانے سے گریز کرتے ہیں اور نتیجے کے طورپر موت کے منھ میں پہنچ جاتے ہیں۔


انھوں نے احمد پورشرقیہ میں تیل کے ٹینکر کے حادثے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس حادثے میں بہت سی اموات صرف اس وجہ سے ہوئیں،کیوں کہ ہمارے اسپتالوں میں مصنوعی جلد بڑی تعداد میں دستیاب نہیں تھی ۔ہماری لیبارٹری میں تیار کردہ مصنوعی جلد ہر چند کہ یورپ اور امریکا سے درآمد شدہ جلد کے مقابلے میں نہایت سستی ہوگی ،مگر اس کا معیار اُسی جلد جیسا ہو گا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم جو جلد پاکستان میں تیار کریں گے،وہ کئی لحاظ سے درآمد شدہ جلد سے بہتر ثابت ہو گی۔یہاں تیار ہونے والی جلد کو ہم نے امریکا کے صحت کے سب سے بڑے ادارے میں ٹیسٹ کرایا تھا اور انھوں نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے سوختہ مریضوں کے لیے موزوں ومفید قرار دیا۔ہم نے تجربے کے طور پر اس جلد کو بہت سے مریضوں پر استعمال کیا اور انھیں شفایابی نصیب ہوئی۔


پروفیسر جاوید اکرم نے جلد کی تبدیلی کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے دو طریقے ہیں:ایک طریقہ تکنیکی اور دوسرا انضباطی کہلاتا ہے ۔تکنیکی طور پر ہم نے 17ایجادات کی ہیں ،جن میں مصنوعی جلد ،انسانی آنکھ کی پتلی،گردے کے خلیے(سیلز)اور ”انٹر فیرن انجکشن“(INTERFERON INJECTION)،جوسوزشِ جگر (ہیپاٹائٹس)کے مریضوں کو لگایا جاتا ہے ،شامل ہیں ۔

سائنس دانوں کا کام یہ ہے کہ وہ لیبارٹری میں چیزیں ایجاد کریں ،مگر اصل بات تب بنتی ہے ،جب ان چیزوں کو مریضوں پر استعمال کیا جائے اور انھیں شفایابی حاصل ہو۔
ڈاکٹر جاوید اکرام نے ان رکاوٹوں کا بھی تذکرہ کیا،جو مصنوعی جلد کی تیاری میں انھیں درپیش ہیں ۔سب سے بڑی دشواری قواعد وضوابط کی ہے۔پھر رجسٹر یشن کے معاملے میں دشواریاں حائل ہیں،یعنی ہم نے جلد تو تیار کرلی ،لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ کون سا ادارہ اسے رجسٹر کرے گا؟کون سی دواساز کمپنی اسے تجارتی پیمانے پر تیار کرے گی اور فروخت کے لیے بازار میں لائے گی۔


اس ضمن میں ابتدائی طور پر تو ہمیں بہت دقت پیش آئی ۔وہ ڈرگ مافیا ،جو مصنوعی جلد اور مختلف قسم کی ادویہ بیرونی ممالک سے درآمد کررہی ہے ،اس کے مفادات ختم ہو جاتے ،لہٰذا وہ ہمارے کام میں رکاوٹیں ڈالنے لگی۔اس کے علاوہ ہم جو دوایا کیمیکل طلب کرتے ،وہ دستیاب نہیں ہوتا یا اس کی مصنوعی قلت پیدا کردی جاتی ،جس سے ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔


میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے اس معاملے پر سوموٹو ایکشن(عدالتی اختیار کہ وہ کوئی بدعنوانی دیکھے تو اس کے خلاف خود اقدام اٹھائے،یہ انتظار نہ کرے کہ کوئی دوسرا فرددعوادائرکرے)لیا اور ایک کمیٹی تشکیل دے دی کہ وہ معاملات کی نگرانی کرے۔اسی عدالتی فیصلے سے ہمیں کامیابی ہوئی،ہم الجھنوں سے نجات پا گئے اور مصنوعی جلد تیار کرنی شروع کردی۔

اس سے مریضوں کی شفایابی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دُور ہو گئیں۔
ڈاکٹر جاوید اکرام اور ان کے ساتھیوں نے جو جلد تیار کی ہے،وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)کورجسٹر کرنے کے لیے بھیج دی ہے۔اُمید ہے کہ اس کے مثبت نتائج نکلیں گے اور سوختہ مریضوں کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔
معاہدے کی بنیاد پر پاکستان کی دواساز ایسوسی ایشن کے نام زد نمایندے نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ 20دواساز کمپنیاں اس مصنوعی جلد کو تیار کر سکتی ہیں ۔

اس سلسلے میں علاج کے لیے تیار ہونے والی ادویہ سستے نرخوں پر مہیا کی جائیں گی اور ضرورت پڑنے پر برآمد بھی کی جاسکیں گی۔
مذکورہ جلد کی تیاری میں ڈاکٹر رؤف احمد نے بھی بہت اہم کردار اداکیا ہے،جو لاہور جناح اسپتال کے اس شعبے میں کام کرتے ہیں،جو جلنے والے مریضوں کے لیے مخصوص ہے ۔ڈاکٹر رؤف احمد جو حیاتیات جرثومی(MICROBIOLOGY) میں پی ایچ ڈی ہیں ،انھوں نے اخباردی ایکسپریس ٹری بیون کو مصنوعی جلد کے بارے میں بتایا کہ یہ مریض کے جسم کی اس کھال سے تیار کی جاتی ہے ،جو آپریشن کے دوران استعمال نہیں کی جاتی ،یعنی بچ جاتی ہے یا پھر جانوروں کی کھالوں سے مدد لی جاتی ہے ،مثلاً گائے اور بھینس وغیرہ۔


پہلے مرحلے میں جلد کی اوپری تہ کو کیمیائی اجزاء سے صاف کیا جاتا ہے ،جسے طبی اصطلاح میں ”ڈی ایپی ڈرملائزیشن “(DE-EPIDERMALISATION)کہتے ہیں ۔دوسرے مرحلے میں مریض کے جسم کا وہ حصہ ،جو متاثر ہو چکا ہوتا ہے ،اُسے”ڈی سیلولرائزیشن“
(DE-EPIDERMALISATION)کہاجاتا ہے ۔مریض کو ان دونوں مراحل سے گزارنے کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس کی جلد کو وائرسوں سے بالکل پاک کردیا جائے،تاکہ جسم کا مدافعتی نظام نئی جلد کے ٹکڑوں کو قبول کرلے۔

تیسرے مرحلے میں استعمال کی جانے والی جلد کو چراثیم سے پاک کیا جاتا ہے ۔یہ سارے کام مشینوں سے کروائے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر رؤف احمد کے مطابق مصنوعی جلد کو ٹھوس حالت میں ایک سال کے لیے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ،جب کہ کولڈ اسٹوریج میں چھے مہینے کے لیے رکھی جاسکتی ہے ۔جب اسے استعمال کرنا ہوتا ہے تو مختلف محلولوں کے ذریعے اسے پتلا کیا جاتا ہے ۔

پھر جب اسے مریض کے جسم کی متاثرہ جگہ پر رکھا جاتا ہے تو یہ چپک کر جسم کا حصہ بن جاتی ہے۔پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک قدرتی جھلی اس کے اوپر آجاتی ہے اور اس طرح وہ جلد کے قدرتی رنگ میں گھل مل جاتی ہے۔
ڈاکٹر رؤف احمد نے بتایا کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ امریکی سائنس دانوں کے مقابلے میں پاکستانی سائنس داں نے یہ مصنوعی جلد کیسے سستی تیار کرلی؟اصل میں یہ محض ان کیمیائی اجزاء اور کیمیائی مرکبات کا فرق ہے،جو مصنوعی جلد کو تیار کرنے میں کام آتے ہیں ،وہ یہاں سستے ملتے ہیں ،اس لیے سستی جلد کی تیاری ممکن ہو سکی۔


ڈاکٹر رؤف نے جلد سے متعلق تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم آٹھ دنوں میں جلد کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تیار کر پاتے ہیں،اس لیے کہ ہماری لیبارٹری چھوٹی سی ہے ،لہٰذا ابھی ہم چھوٹے پیمانے پر کام کر سکتے ہیں۔
امریکا اور یورپ کی طرح ہمارے پاس بڑی ،جدید اور ذاتی لیبارٹریاں نہیں ہیں ،ورنہ ہم ملکی ضروریات پوری کر دیتے۔پاکستان کی دوا ساز ایسوسی ایشن کے نمائندے حسیب خاں نے بتایا:”اب ہم ایک معاہدے کے تحت کینیڈا اور اسپین سے مصنوعی جلد تیار کرنے کے لیے مشینری منگوار ہے ہیں۔

ہماری لیبارٹری میں جلد تیار کرنے والی ساری چیزیں بین الاقوامی معیار کی ہوں گی،چاہے وہ آنکھ کی پتلی ہویا گردے کے خلیے ۔ابھی یہ بتانا دشوار ہے کہ بڑے پیمانے پر مصنوعی جلد کب تک تیار ہو سکے گی،لیکن جب بھی ہوگی،اس کی قیمت بے حد کم ہو گی۔“
تاریخ اشاعت: 2019-06-26

Your Thoughts and Comments