Orange - Article No. 2042

کینو - تحریر نمبر 2042

پیر 28 دسمبر 2020

Orange - Article No. 2042
ہماء غفار
سردیوں میں خوشبو دار اور لذیذ کھٹے میٹھے کینو کا بے تابی سے دنیا بھر میں انتظار رہتا ہے۔کینو کو قدرت نے نہ صرف لذیذ ذائقے سے بھر دیا ہے بلکہ یہ پھل اپنے اندر ان گنت غذائی اجزاء سے مالا مال ہونے کے باعث بے شمار بیماریوں کے علاج کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔یہ غذائی اجزاء سے بھرپور ہے۔اس پھل میں وٹامن اے،وٹامن سی،وٹامن بی،6 وٹامن،9 پوٹاشیم،پروٹین،معدنی نمک،کاربوہائیڈریٹس،فائبر تھایممین،فاسفورس اور فولیٹ وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔

کینو چار چیزوں کا مرکب ہے،چھلکا،گودا،بیج اور رس۔ان چاروں میں ہر جزو کارآمد ہے حتیٰ کہ اس کے چھلکے اور بیج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ایک کینو دن کی نوے فیصد وٹامن اے کی ضرورت پوری کرتا ہے ۔

(جاری ہے)

سب سے کم کیلوریز کینو میں ہوتی ہیں۔مثلاً کینو میں صرف 35 کیلوریز کے مقابلے میں مالٹے میں 60 کیلوریز ہوتی ہیں۔جبکہ اس میں وٹامن سی کی مقدار باقی سٹرس پھلوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

سٹرس خاص طور پر کینو میں چھلکے اور گودے کے درمیان ایک سفید تہ ہوتی ہے جسے انگریزی میں پتھ،Pith کہتے ہیں عموماً لوگ اسے کھانے سے کتراتے ہیں جبکہ جدید تحقیق کے مطابق یہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو صحت کیلئے انتہائی مفید ہوتا ہے۔فرانس میں کینو بچوں کو ہاضمے کیلئے اور ہچکیاں روکنے کیلئے جبکہ چین میں یہ متلی اور ہاضمے کیلئے تواتر سے استعمال کیا جاتا ہے۔

انتہائی کم کیلوریز کے باعث یہ وزن کرنے میں بھی انتہائی سود مند واقع ہوا ہے۔
امراض قلب سے بچاؤ
وٹامن سی کی فراوانی اور پوٹاشیم اور نمکیات کی کم سطح کے باعث یہ خون کی شریانوں کو سکڑنے سے روکتا ہے جس کے سبب خون کی روانی اعتدال کے ساتھ جاری رہتی ہے۔لہٰذا ایک طرف بلڈ پریشر اعتدال میں رہتا ہے تو دوسری جانب دل کے دورے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

اکثر ماہر امراض قلب یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ اس میں وٹامن سی،وٹامن بی،6 پوٹاشیم اور فائبر موجود ہے جس کے سبب یہ دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور فالج کے خطرات کو 49 فیصد کم کر دیتا ہے۔
نظام انہضام کی حفاظت
اس میں معدنی نمک کی معقول مقدار پائی جاتی ہے جس کے سبب معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کے لئے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر معدہ کمزور ہو یا بد ہضمی لاحق ہو تو ناشتے میں کینو کا استعمال بہتر نتائج کا حامل واقع ہوا ہے۔کینو معدے کے بہت سارے امراض میں بہت سود مند ثابت ہوا ہے۔بالخصوص اس کا استعمال قبض نہیں ہونے دیتا۔جبکہ اس کا جوس بھوک بڑھاتا ہے۔
جلدی امراض کی حفاظت
اکثر ماہرین موسم سرما میں اس کا لگاتار استعمال یا اس کے جوس کے استعمال پر زور دیتے ہیں کیونکہ اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار اور اینٹی آکسیڈنٹس کی موجودگی کے باعث یہ چہرے پر پڑنے والی جھریوں کا خاتمہ کرکے جلد کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے۔

ماہرین غذا یہ کینو کے جوس کا ایک گلاس روزانہ استعمال کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف چہرے اور جلد کی افزائش اور حفاظت ہوتی ہے بلکہ بالوں کی موٴثر افزائش میں بھی یہ اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
کینسر سے بچاؤ
اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس،خلیات اور ڈی این اے کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتے ہیں جو کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔جدید تحقیق کے مطابق کینو کا لگاتار استعمال آنتوں کے کینسر میں بہت مفید پایا گیا۔


دماغی صحت اور الزائمر
یہ دماغ کو قوت بخشتا ہے کیونکہ اس میں موجود پوٹاشیم وٹامن بی 9 اور اینٹی آکسیڈنٹس دماغ کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑھتی عمر میں پوٹاشیم کی وافر مقدار دماغ میں خون کی سپلائی کو فعال بناتی ہے اور وٹامن بی 9 کی موجودگی دماغ کی کمزوری دور کرتی ہے جس کے باعث الزائمر یعنی بھولنے کی بیماری دور ہوتی ہے۔

نیز اس کا استعمال ٹیومر کی گروتھ کو روکتا ہے۔
قوت مدافعت میں اضافہ
قدرت نے ہر انسان کے جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مدافعاتی نظام یعنی بیماریوں کا مقابلہ کرنے والا نظام بنا رکھا ہوتا ہے جسے میڈیکل کی زبان میں امیون سسٹم کہتے ہیں۔وٹامن سی میں قدرت نے امیون سسٹم کو طاقت ور بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھی ہوئی ہے جس کے باعث اس کا استعمال انسانی جسم میں قوت مدافعت کو فعال رکھتا ہے۔


جسم کا سن ہونا
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے عمر رسیدہ افراد جن کے ہاتھ اور پاؤں سن ہو جاتے ہیں ان میں کینو کا جوس دوران خون بڑھا کر بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔اور اگر انہیں تین ماہ تک باقاعدگی سے کینو کا جوس استعمال کرایا جائے تو بہت افاقہ ہو گا۔تاہم شوگر کے مریض اس کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کریں۔
خون کے خلیات کی افزائش
اس کا لگاتار استعمال نہ صرف خون کی گردش بڑھاتا ہے بلکہ سرخ خلیات کی پیداوار میں مدد فراہم کرکے نیا خون بناتا ہے۔

اس میں موجود فولیٹ اور وٹامن بی خون کی گردش میں تیزی اور نئے خون کی پیداوار میں مدد فراہم کرتا ہے۔کولیسٹرول میں کمی:ایک حالیہ فرانسیسی سٹڈی کے مطابق چونکہ اس میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جس کے باعث یہ جسم میں سوڈیم کے اثرات کو کم کرتا ہے۔جس کی وجہ سے بلڈ پریشر کی سطح بڑھنے نہیں پاتی اور کولیسٹرول بھی اعتدال میں رہتا ہے۔معالجین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا باقاعدہ استعمال اچھے کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے جبکہ برے کولیسٹرول کو بتدریج کم کرتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-12-28

Your Thoughts and Comments