بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتکھچڑی

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کھچڑی
کسانوں سے لے کر بادشاہوں تک کی پسندیدہ غذا
شوکت رحمان خٹک:
کھچڑی نام ہے غذائیت سے بھرپور اس لذید کھانے کا جو بر صغیر کے تمام گھرانوں میں ملک صوبے اور قوم کے فرق کے بغیر مشہور ومقبول ہے۔ بچوں کو بھی کھچڑی کھلائی جاتی ہے زیادہ عمر کے نوجوانوں کے لئے بھی مکمل غذاہے۔ کچھڑی کی تاریخ کچھ ہزار سال پرانی ہے اور یہ برصغیر کی اتنی ہی اپنی ہے جتنی کہ برصغیر کی اپنی مٹی۔ فاتحین دریافت کنندہ اور بادشاہ ہر کسی نے مقامی کھچڑی کو آزمایا اور اسے پسند کیااسے اپنے ذائقے کے مطابق تبدیل کیاا ور تمام طرح کے مصالحے اس میں شامل کئے مگر کوئی بھی اس کے اصل ذائقے جتنا بہترین نہیں ہو سکتا جس میں چاول‘ مونگ کی دال‘ گھی‘ تیل‘ لونگ‘ زیرہ اور پانی ہوتا ہے یہ کسانوں سے لے کر بادشاہوں تک کی پسندیدہ غذاہے۔ یہ ایسا آیورویدک کھانا ہے جسے جسم سے فاسد مادوں کے خاتمے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے۔ چاول اور دالیں جب ساتھ پکائی جائے تو یہ ان امائنوایسڈ کا ملاپ ہوتا ہے جو ہماری جسم کی بنیادی ضرورت ہوتے ہیں۔ آئرن اوروٹامن بی سے بھرپور ہونے کے علاوہ دال پروٹین کابنیادی ذریعہ بھی ہے۔مثال کے طور پر چاول کا قابل استعمال پروٹین 60فیصد اور دال کا قابل استعمال پروٹین 65فیصد اس وقت 85فیصد ہوجاتا ہے جب ان دونوں کے ساتھ کھایا جائے۔جب جلاوطن مغل شہنشاہ ہمایوں فارس میں رہ رہے تھے تو انہوں نے فارس کے بادشاہ کی ہندوستانی طرز کی دعوت کی بچوں کو چنوں کے ساتھ استعمال کی ہندوستانی ڈش بہت پسند آئی جو کہ کھچڑی کی ایک مقبول صورت تھی۔
سولہویں اورستارویں صدی کے ہندوستان میں ہر خطے کی اپنی ترکیب تھی اور یہ اس پر منحصر تھا کہ وہ کوسنی دال زیادہ اگاتے ہیں‘ گجراتی کھچڑی کو مغل دربار میں جہانگیر نے متعارف کروایا۔صوبہ گجرات سے گزرتے ہوئے انہوں نے مقامی کھچڑی چکھی جس میں چاول کے بجائے باجرے کااستعمال کیاگیا تھا۔ فوراََ ہی ایک گجراتی خانساماں کو شاہی باورچی خانے میں بھرتی کرلیا گیا اور اس طرح ایک دیہاتیوں کے دور حکومت میں سمہاسٹین میزہک کو بنگالیوں کی دعوت میں کھلائی جانے والی کھچڑی سے کہیں زیادہ مہنگی کھچڑی کھلائی گئی اس میں بیش قیمت اجزاء جیسے بادام ‘ کشمش’ لونگ جاوتری‘ جافل‘ دارچینی‘ اور کالی مرچ شامل کی۔کھچڑی کیڈیگری میں تبدیل کیاانہوں نے اس میں ابلے ہوئے انڈے اور مچھلی شامل کی۔ کھچڑی کیڈیگری سے اینگلو انڈینز کھچڑی( دال اور چاول والی) صبح کے ناشتے میں تازہ پکڑی گئی مچھلی کے ساتھ کھاتے تھے مگر مرکزی برطانیہ میں متعارف ہونے کے بعد وہاں کے بڑے لوگوں نے ناشتے میں کیڈیگری کھانا شروع کی اور مچھلی کو چاولوں میں شامل کرکے دال کوترک کردیا۔
کیڈیگری جو حقیقت میں کھچڑی ے ایک روایتی ہندوستانی ڈش ہے جسے کئی صدیوں سے سیاح بیان کرتے آرہے ہیں۔ ہوبسن جوبسن عرب سیاح ابن بطوطہ ( 1340ء) کے حوالے سے لکھتے ہیں منج (مونگ) کو چاول کے ساتھ ابالا جاتا ہے اور پھر مکھن کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔ اسے یہ لوگ کھچڑی کہتے ہیں اور اس سے صبح کا ناشتہ کرتے ہیں۔
اجزاء : آدھاکپ مونگ کی دال‘ ایک کپ چاول ‘ تین سے چارکپ پانی یاحسب ضرورت چوتھائی چمچ زیرہ ‘ تین سے چارکڑی پتہ‘ تین سے چارر کپ لونگ، نمک حسب ذائقہ
طریقہ: چاول اور دال کو الگ الگ دوگھنٹے کے لئے بھکودیں۔پھر انہیں اچھی طرح دھولیں۔ تین سے چار چمچ تین یاگھی لے کر اس میں کڑی پتہ اور لونگ کو چند سکینڈ کے لئے تلیں اور پھر دال اور چاول کو آہستہ آہستہ سے اس میں شامل کردیں۔آٹھ سے دس منٹ کے لئے تلیں۔ اب پانی ڈالیں اور درمیانی آنچ پر رکھیں۔ڈھک کر پکائیں اور آنچ کو بالکل ہلکا کرکے (ڈھکے رکھ کر) تب تک پکائیں جب تک دال اور چاول نرم نہ ہوجائے۔ضرورت ہوتو مزید پانی شامل کریں۔جب کھچڑی تین چوتھائی تیار ہوچکی ہو۔ زیرہ اور پیاز کا بگاراس پر چھڑکیں اوررائتہ سلاد اور شامی کباب کے ساتھ پیش کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے