بند کریں
صحت صحت کی خبریںخیبرپختونخوا میں کینسر کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ ،ْ
نصف ماہ میں کینسرکے 35مریض رجسٹرڈ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/09/2017 - 15:04:35 وقت اشاعت: 25/09/2017 - 15:04:35 وقت اشاعت: 25/09/2017 - 14:44:13 وقت اشاعت: 25/09/2017 - 14:43:56 وقت اشاعت: 23/09/2017 - 14:01:50 وقت اشاعت: 23/09/2017 - 14:01:48 وقت اشاعت: 22/09/2017 - 19:31:38 وقت اشاعت: 22/09/2017 - 16:59:22 وقت اشاعت: 22/09/2017 - 16:53:02 وقت اشاعت: 22/09/2017 - 14:22:11 وقت اشاعت: 22/09/2017 - 12:54:28

خیبرپختونخوا میں کینسر کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ ،ْ

نصف ماہ میں کینسرکے 35مریض رجسٹرڈ کرلئے گئے , ملک میں ہر سال ایک لاکھ 70ہزار سے 2لاکھ تک سرطان کیلئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ،ْڈاکٹر عابد جمیل

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2017ء)خیبرپختونخوا میں کینسر کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیااورنصف ماہ میں کینسرکے 35مریض رجسٹرڈ کرلیے گئے،اب تک رجسٹرڈ ہونے والے مریضوں میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ،ْصوبے میں سالانہ 5سے 6ہزار کیسزسامنے آرہے ہیں ،ْرجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 1865ہوگئی۔اس بات کا انکشاف حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انکالوجی ڈیپار ٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے فری کینسر ٹریٹمنٹ پروجیکٹ کیچھ سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کیا۔

ایچ ایم سی اور ادویہ ساز کمپنی نوونور ڈسک کے باہمی تعاون سے منعقدہ تقریب میں صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی ، ایچ ایم سی بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین صاحبزادہ سعید، میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد اکبر، ڈین خیبرگرلز میڈیکل کالج پروفیسر نوروزیر، ایل آرایچ کے ڈائر یکٹر ڈاکٹرخالد مسعوداوردیگربھی موجود تھے۔ڈاکٹر عابد جمیل کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ 70ہزار سے 2لاکھ تک سرطان کیلئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں انکی تعداد 5سے 6ہزار ہے ،ْزیادہ تر مریضوں میں مرض کی تشخیص نہیں ہوپاتی یا پھر وہ ہسپتالو ں کی بجائے گھر میں علاج کراتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے فری کینسر ٹریٹمنٹ پروجیکٹ کے تحت صوبے اورفاٹاکے 1865 مریضوں کو مفت ادوایات فراہم کی جارہی ہیں، خیبرپختونخوا حکومت نے پروجیکٹ میں توسیع کرتے ہوئے سرطان کے مختلف اقسام میں مبتلا مریضوں کوادوایات دی جارہی ہیں تاکہ انکی جانیں بچائی جاسکیں جس کیلئے رواں سال بجٹ میں 50کروڑ جبکہ اگلے سال 60کروڑ روپے منظورکیے جائیں گے ۔

ڈاکٹر عابد نے کہاکہ صوبے میں کینسر کے 50فیصد مریضوں کی عمریں 45سال سے کم ہے، ڈبلیوایچ اوکے مطابق مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہا تو 2030کے بعد ہرسال 2کروڑ 70لاکھ کیسز سامنے آئیں گے اور2040تک اس سے 1کروڑ 75لاکھ تک اموات ہوں گی اورسرطان اموات کی سب سے بڑی وجہ بن جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ دو تہائی مریض ترقی پذیر ممالک میں ہیں، جن میں 90فیصد علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے، حکومت کیساتھ ساتھ معاشرے اور مخیئرحضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے مریضوں کی مالی معاونت کرے۔

ڈاکٹرعابد نے بتایا کہ صوبے میں کینسرکے رجسٹرڈ 90فیصد مریض زندہ ہیں ،ان میں ایسے مریض بھی شامل ہیں جو 15سال سے مرض میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ علاج سے کینسرکے مریض بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزارسکتے ہیں۔
23/09/2017 - 14:01:48 :وقت اشاعت