بند کریں
صحت صحت کی خبریںتیس سال کی عمر کے بعد جنک فوڈ ترک کردینے والے متوازن زندگی گزارتے ہیں، برطانوی سائنسدانوں

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/10/2017 - 16:26:12 وقت اشاعت: 27/10/2017 - 15:20:41 وقت اشاعت: 27/10/2017 - 15:20:38 وقت اشاعت: 27/10/2017 - 14:51:59 وقت اشاعت: 27/10/2017 - 14:38:51 وقت اشاعت: 26/10/2017 - 12:13:02 وقت اشاعت: 25/10/2017 - 14:04:58 وقت اشاعت: 25/10/2017 - 14:04:56 وقت اشاعت: 25/10/2017 - 14:04:51 وقت اشاعت: 25/10/2017 - 13:09:25 وقت اشاعت: 25/10/2017 - 10:50:07

تیس سال کی عمر کے بعد جنک فوڈ ترک کردینے والے متوازن زندگی گزارتے ہیں، برطانوی سائنسدانوں

لندن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اکتوبر2017ء) برطانوی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ جو لوگ جنک فوڈ کا استعمال 30 سال کی عمر کے بعد ترک کردیتے ہیں وہ متوازن زندگی گزارتے ہیں اور ان کی قوت 60 سال کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق انسان پیدائش سے لیکر موت تک مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اوربڑھاپا انہی مراحل کے نام ہیں۔

دیکھا جائے تو 30 سال کے بعد لوگ کمزور پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور 60 سال کی عمر آتے آتے وہ بالکل غیر فعال زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ برطانوی سائنسدانوں نے مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ جنک فوڈ کا استعمال 30 سال کی عمر کے بعد ترک کردیتے ہیں وہ متوازن زندگی گزارتے ہیں اور ان کی قوت 60 سال کے بعد بھی برقرار رہتی ہے اور یہی وہ قوت ہے جو انہیں بڑھاپے میں بھی فعال رکھ سکتی ہے۔

یہ تحقیقی رپورٹ ایک ہزار مردوں و خواتین کی خوراک کا تجزیہ کرنے کے بعد مرتب کی گئی ہے اور اس تجزیے کے دوران ان کے مختلف حالات کو سامنے رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سبزی ، پھل، ثابت اجناس کھانے والے بڑھاپے میں بھی توانا رہتے ہیں ا ور ان کی توانائی مغربی اشیائے خورونوش کے عادی افراد سے کہیںزیادہ ہوتی ہے۔
26/10/2017 - 12:13:02 :وقت اشاعت