بند کریں
صحت صحت کی خبریںزیادہ رونا بچوں کی دماغی نشو نما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/05/2010 - 17:26:00 وقت اشاعت: 03/05/2010 - 17:42:55 وقت اشاعت: 01/05/2010 - 16:02:41 وقت اشاعت: 30/04/2010 - 18:32:25 وقت اشاعت: 30/04/2010 - 18:30:42 وقت اشاعت: 27/04/2010 - 15:09:51 وقت اشاعت: 26/04/2010 - 18:57:06 وقت اشاعت: 24/04/2010 - 12:15:34 وقت اشاعت: 22/04/2010 - 15:16:30 وقت اشاعت: 21/04/2010 - 15:36:20 وقت اشاعت: 17/04/2010 - 22:15:39

زیادہ رونا بچوں کی دماغی نشو نما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے

لندن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔26 اپریل ۔2010ء) چھوٹے بچوں کو زیادہ دیر تک روتے ہوئے چھوڑنا اس کی دماغی نشوو نما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایک تازہ ترین طبی تحقیق کے مطابق چھوٹے بچوں کو زیادہ دیر تک روتے ہوئے چھوڑنا اس کے دماغ کی نشو و نما کو نقصان پہنچاتا ہے، ایسے بچے جو 15 سے 20 منٹ تک روتے رہتے ہیں کے دماغ کی نشو و نما میں رکاوٹ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔

چھوٹے یا نومولود بچوں کے دماغ میں سونے کے اوقات کیلئے پختگی نہیں پائی جاتی، اس لئے انہیں بلا وجہ رلانے سے پرہیز کرنا چاہیے، اس سے ان کے دماغ میں سٹریس ہارمونز”کارٹیسول“ کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس مطالعہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچہ بالکل نہ روئے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ روتے بچے پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ اسے گھنٹوں روتا چھوڑا جائے۔
27/04/2010 - 15:09:51 :وقت اشاعت