بند کریں
صحت صحت کی خبریںبرطانیہ میں نومولود بچی کی کامیاب سرجری کے بعد سینے کے اوپر دھڑکنے والا دل اس کے جسم کے اندر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/12/2017 - 15:16:01 وقت اشاعت: 15/12/2017 - 12:55:55 وقت اشاعت: 15/12/2017 - 12:54:18 وقت اشاعت: 15/12/2017 - 12:54:15 وقت اشاعت: 15/12/2017 - 12:42:26 وقت اشاعت: 14/12/2017 - 16:44:27 وقت اشاعت: 14/12/2017 - 11:40:56 وقت اشاعت: 13/12/2017 - 16:55:16 وقت اشاعت: 13/12/2017 - 15:37:27 وقت اشاعت: 12/12/2017 - 13:01:51 وقت اشاعت: 12/12/2017 - 13:01:51

برطانیہ میں نومولود بچی کی کامیاب سرجری کے بعد سینے کے اوپر دھڑکنے والا دل اس کے جسم کے اندر لگا دیا گیا

بچی کا دل جسم میں واپس لگانے کی یہ سرجری برطانیہ کی پہلی کامیاب سرجری سمجھی جارہی ہے ،ْرپورٹ

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 دسمبر2017ء)برطانیہ میں ایک نومولود بچی کی کامیاب سرجری کے بعد سینے کے اوپر دھڑکنے والا دل اس کے جسم کے اندر لگا دیا گیا۔دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق بچی کا دل پیدائشی طور پر اس کے جسم سے باہر تھا، ڈاکٹرز نے نومولود بچی کے والدین کو خبردار کردیا تھا کہ اس کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہوں گے تاہم ڈین ولکنز اور ان کی اہلیہ ناؤمی فنڈلے نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی وینلوپ کی زندگی کیلئے ہار نہیں مانیں گے اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

وینلوپ کی دل کی پہلی سرجری کا دورانیہ 50 منٹ تھا، جو کامیاب رہی جس کے بعد اس کے بچنے کے امکانات ایک کرشمے کی طرح بڑھ گئے اور والدین کی امیدیں بًر آئیں۔بچی کے والد کے مطابق سرجری کے بعد وہ خود سانس لینا بھول گئے تھے لیکن جیسے ہی بچی نے پہلی مرتبہ سانس لی اور وہ روئی تو ان کی سانسیں بھی بحال ہوگئیں اور وہ بھی خوشی کے مارے رونے لگے۔ڈین کا کہنا تھا کہ ان کی بچی کی سانسیں واپس آنا کسی کرشمے سے کم نہیں تھا۔

بچی کا دل جسم میں واپس لگانے کی یہ سرجری برطانیہ کی پہلی کامیاب سرجری سمجھی جارہی ہے کیونکہ اس سے پہلے ایسے کیسز میں نومولود تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ پائے ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق یہ ایک کرشمہ ہی ہے کیونکہ سرجری کے دوران 50 سے زائد ادویات کا استعمال کیا گیا اور ساتھ ہی دل میں سانس کی نالی بھی 50 منٹ تک لگی رہی۔نومولود بچی کی والدہ ناؤمی نے اپنی بچی کا نام ڈزنی فلم ’ریک اٹ رالف‘ کے ایک کردار سے متاثر ہوکر وینلوپ رکھا ہے کیونکہ وہ ایک باہمت اور ضدی لڑکی تھی جو آخر میں شہزادی ہی بن کر رہتی ہے اور کبھی ہار نہیں مانتی۔

ناؤمی کا کہنا تھا کہ پیدائش سے قبل جب ٹیسٹ کیے گئے تو مجھے کافی رونا آیا ،ْڈاکٹرز نے حمل کو ضائع کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن میرا دل نہیں مانا اور میں نے اپنی بیٹی کی زندگی کی سانسوں کے لیے لڑنے کی ٹھان لی۔ناؤمی کا کہنا تھا کہ کبھی بھی نا امید نہیں ہونا چاہیے ،ْ میں اور میری بیٹی سب کیلئے ایک مثال ہیں۔دوسری جانب کنسلٹنٹ ڈاکٹر نک مورے کا کہنا تھاکہ وینلوپ کی سرجری حیران کن ہے اور اب وہ اپنی زندگی آگے جی سکتی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق وینلوپ اب عام بچوں کی طرح صحت پکڑ رہی ہے اور اس کے وزن میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
14/12/2017 - 16:44:27 :وقت اشاعت