بند کریں
صحت صحت کی خبریںڈاکٹر قدیرخان کی صحت سے متعلق حکومتی دعوئے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں ،میرے بھائی کو چوبیس گھنٹے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 02/12/2006 - 13:58:24 وقت اشاعت: 02/12/2006 - 12:23:25 وقت اشاعت: 01/12/2006 - 19:33:16 وقت اشاعت: 01/12/2006 - 14:44:32 وقت اشاعت: 30/11/2006 - 13:24:12 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 20:34:56 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 18:13:26 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 17:45:38 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 15:25:23 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 13:54:09 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 11:52:47

ڈاکٹر قدیرخان کی صحت سے متعلق حکومتی دعوئے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں ،میرے بھائی کو چوبیس گھنٹے طبی نگہداشت کی ضرورت ہے،رضیہ حسین،صحافیوں سے بات کرنے سے بھی گھبراتی ہوں ،جب بھی ہم نے کوئی بات کرنا چاہی، حکومت نے ڈاکٹر صاحب سے ہماری ملاقات پر پابندی لگا دی،بی بی سی کو انٹرویو

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29نومبر۔2006ء)معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بہن رضیہ حسین نے اپنے بھائی کی صحت سے متعلق حکومتی دعووٴں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی دعوئے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اورمیرے بھائی کو چوبیس گھنٹے طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے رضیہ حسین نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دانت اور کان میں سخت تکلیف ہے جبکہ ان کی ایک ٹانگ بیماری کے باعث دوسری ٹانگ سے ایک انچ موٹی ہو گئی ہے۔

رضیہ حسین نے مزید کہا کہ ہم تو اخبار ی نمائندوں سے بات بھی کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ جب بھی ہم نے کوئی بات کرنا چاہی، حکومت نے ڈاکٹر صاحب سے ہماری ملاقات پر پابندی لگا دی۔ لیکن ہم بھی مجبور ہیں، آخر کس سے فریاد کریں‘، رضیہ حسین نے کہا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں انہوں نے ایک پورا نظام وضع کیا ہوا تھا جس کے تحت صبح سے شام تک ڈاکٹر قدیر کے رشتہ دار ان سے آ کر ملتے رہتے اور ان کا دل بہلا رہتا۔

کھانا بھی ان کی پسند کا بنتا جس میں پلاوٴ، زردہ، قیمہ کریلے یا کوئی نہ کوئی سبزی ضرور شامل ہوتی۔’ہم ان سے ہر وقت مذاق کرتے رہتے تھے، پرانے وقتوں کی یادوں کو دہراتے اور کوشش کرتے تھے کہ گھر کا ماحول خوش و خرم رہے۔ ان کے ڈاکٹر کا بھی کہنا تھا کہ انہیں کم از کم تین ماہ تک کراچی میں ہی رہنا چاہئیے۔‘’لیکن خدا جانے حکومت کو کس چیز کی جلدی تھی۔

‘انہوں نے بتایا کہ ہر وقت ایک برگیڈیئر آ کر پوچھتا رہتا کہ وہ واپس جانے کو تیار ہیں یا نہیں۔ ’ان دنوں اتنے فوجی ہمارے گھر کے آس پاس گھومتے رہتے تھے کہ میرے کتے نے دہشت زدہ ہو کر کھانا ہی چھوڑ دیا اور تین دن بعد وہ مر گیا۔‘انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو واپس لیجانے کے لیے اتنا چھوٹا جہاز استعمال کیا گیا کہ سارا رستہ ان کو جھٹکے لگنے سے ان کی طبیعت اور بھی خراب ہو گئی۔

’انہوں نے کہا کہ جس شخص نے تن تنہا ایٹم بم بنا لیا وہ تو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کا عادی ہو گا۔ اب وہ ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گھر والوں سے دور ایک گھر میں محصور کیا کرے؟:انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان نے جو کیا اپنے ملک اور قوم کے لیے کیا۔ عوام کی ان سے محبت کا ثبوت وہ لاکھوں پھول ہیں جو ان کے چاہنے والوں نے ان کی صحتیابی کی دعاوٴں کے ساتھ ہسپتال بھیجے۔

‘رضیہ حسین نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان کے بھائی کو فوری طور پر پاکستان کے اندر کھلا گھومنے پھرنے کی اجازت دے۔ ’وہ نہ تو ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں اور نہ ہی سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ ہے۔ پھر حکومت نے خود ان سے وعدہ کیا تھا کہ قوم سے معافی مانگنے کے ایک ہفتے بعد ان کو رہا کر دیا جائے گا۔لیکن رضیہ حسین کے مطابق نہ صرف حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا بلکہ اب جب بھی کوئی ملک ان کے بارے میں کچھ بھی کہتا ہے تو حکومت فورا ان کی قید تنہائی مزید سخت کر دیتی ہے۔

رضیہ حسین کراچی کے علاقے محمد علی سوسائٹی میں بچوں کا سکول چلاتی ہیں اور ڈاکٹر قدیر کی نظربندی سے لے کر اب تک وہی ان کا خیال رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب ڈاکٹر قدیر کو آپریشن کے لیے کراچی لایا گیا تھا تو انہوں نے رضیہ حسین کے گھر ہی قیام کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ کو فوجی ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر قدیر کو روبصحت بتایا گیا تھا
29/11/2006 - 20:34:56 :وقت اشاعت