بند کریں
صحت صحت کی خبریںشام میں مسلح فریقین کے بھرتی کردہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، بچوں کو بار برداری، محافظ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/03/2013 - 20:08:58 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 19:57:02 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 17:06:20 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 17:02:42 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 14:29:39 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 13:10:35 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 23:20:00 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 23:20:00 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 20:46:07 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 19:47:21 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 16:33:37

شام میں مسلح فریقین کے بھرتی کردہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، بچوں کو بار برداری، محافظ ، معلومات جمع کرنے اور لڑائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بچوں کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں، بیس لاکھ بچوں کو امداد کی ضرورت ہے،بچوں کے لئے کام کرنے والی تنظیم کی رپورٹ

نیویارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔آئی این پی۔ 13مارچ 2013ء)شام میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں مسلح فریقین بھرتی کر رہے ہیں،شام میں بچوں کو بار برداری، محافظ کے طور پر، معلومات جمع کرنے اور لڑائی کے لیے جبکہ بعض معاملات میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،بہت سارے بچوں کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے اور وہ مخدوش حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بمیاری لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہیں،شام میں اس وقت بیس لاکھ بچوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں بچوں کو بار برداری، محافظ کے طور پر، معلومات جمع کرنے اور لڑائی کے لیے جبکہ بعض معاملات میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔تنظیم کے ایک اندازے کے مطابق شام میں اس وقت بیس لاکھ بچوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں جاری تنازع کی وجہ سے زندگی کے تمام پہلو متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ’ بچپن گولیوں کی زد میں‘ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سارے بچوں کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے اور وہ مخدوش حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بمیاری لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ان بچوں کے خاندان خوراک کے حصول کی جدو جہد کر رہے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خوراک غریب لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔

بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری تنازع کی وجہ سے وہاں پوری ایک نسل ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے صرف تشدد کو جانتے ہوئے بڑے ہو رہے ہیں اور وہ تعلیم کے حق سے محروم ہیں اور زندگی بھر خوف کے حالت میں رہ سکتے ہیں۔اس رپورٹ میں بچوں کے تعلیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شام میں دو ہزار کے قریب سکول تباہ ہونے یا عارضی کیمپ میں تبدیل ہونے سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

لڑائی میں شامی بچے بھولے ہوئے متاثرین ہیں جنہیں موت اور صدمے کا سامنا ہے اور بنیادی امداد سے محروم ہیں۔تنظیم نے بچوں کی امداد کے لیے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے لیکن اس کے ساتھ کہا ہے کہ بچوں کی مشکلات کو جنگ کے انجام سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
13/03/2013 - 13:10:35 :وقت اشاعت