بند کریں
صحت صحت کی خبریں چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے صدارتی آرڈنینس سینیٹ میں پیش کئے جانے کیخلاف سینیٹر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/04/2014 - 12:57:39 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 12:40:06 وقت اشاعت: 17/04/2014 - 20:51:42 وقت اشاعت: 17/04/2014 - 20:10:56 وقت اشاعت: 17/04/2014 - 19:43:21 وقت اشاعت: 17/04/2014 - 19:01:31 وقت اشاعت: 17/04/2014 - 13:08:59 وقت اشاعت: 17/04/2014 - 12:27:05 وقت اشاعت: 16/04/2014 - 20:33:43 وقت اشاعت: 16/04/2014 - 20:00:54 وقت اشاعت: 16/04/2014 - 14:06:26

چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے صدارتی آرڈنینس سینیٹ میں پیش کئے جانے کیخلاف سینیٹر میاں رضاربانی کا نکتہ اعتراض خلاف ضابطہ قرار دینے کی رولنگ جاری کر دی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17اپریل۔2014ء) چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے صدارتی آرڈنینس سینیٹ میں پیش کئے جانے کے خلا ف سینیٹر میاں رضاربانی کا نکتہ اعتراض خلاف ضابطہ قرار دینے کی رولنگ جاری کر دی ہے۔ 15 اپریل کو سینیٹ کے اجلاس میں جب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (ترمیمی) آرڈنینس 2014 پیش کیا جارہا تھا کہ اپوزیشن بینچوں سے سینیٹر میاں رضاربانی نے موقف اختیار کیا کہ یہ آرڈنینس سینیٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا انہوں نے اپنے دلائل دیئے جبکہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین سینیٹ اس نکتہ اعتراض پر اپنی رولنگ دیں۔

چیئرمین سینیٹ نے نکتہ اعتراض خلاف ضابطہ قرار دیا اور آرڈنینس سینیٹ میں پیش کرنے کی اجازت دے دی چنانچہ حکومت کی طرف سے آرڈنینس سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ۔میاں رضا ربانی نے نکتہ اعتراض اُٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایک ریگولیٹری باڈی ہے اور آئین کے مطابق یہ آرڈنینس پہلے مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظور کیا جانا ضروری ہے چونکہ منظوری نہیں لی گئی ہے اس لئے صدر کا یہ آرڈنینس جاری کرنا غیر آئینی ہے اور غیر آئینی آرڈنینس سینیٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا ۔

میاں رضا ربانی نے مزید کہا کہ یہ آرڈنینس سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج ہو چکا ہے ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں آرڈنینس پر عمل درآمد تو نہیں روکا البتہ آرڈنینس کے تحت قائم کمیٹی کو کام کرنے سے روک دیا تاآنکہ عدالت کا فیصلہ نہیں آجاتا ۔چیئرمین سینیٹ نے اپنی رولنگ میں بیان کیا کہ یہ آرڈنینس 19 مارچ 2014 کو جاری کیا اور 7 مارچ 2014 کو یہ آرڈنینس قومی اسمبلی میں بل کی شکل میں پیش ہو گیا ۔

اب سوال پیدا ہوا کہ آرڈنینس پیش کئے جانے پر بھی اعتراض اُٹھا یا جا سکتا ہے یا نہیں ۔ فوری ضرورت کے پیش نظر صدر پاکستان اپنے اطمینان کے مطابق آرڈنینس جاری کرتا ہے ۔آرڈنینس 89 (2 ) کے تحت آرڈنینس دونوں ایوانوں میں پیش کیا جاتا ہے جس ایوان میں پہلے پیش ہو وہاں آرڈنینس کی حیثیت بل کی ہوتی ہے یہ آرڈنینس قومی اسمبلی میں بل کی شکل میں پیش ہو چکا ہے جب قومی اسمبلی بل سینیٹ کو بھجوائے گی اس وقت بل کو منظور یا مسترد کرنے کا مرحلہ آئے گا ۔ انہوں نے رولنگ میں ایم این کول کو حوالہ دیا جس کے مطابق آرڈنینس کو قانون کی حیثیت حاصل ہو تی ہے محض سپیکر یا چیئرمین کی رولنگ کے ذریعے اس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا البتہ ارکان کے پاس نامنظور کرنے کی تحریک پیش کرنے کا اختیار موجود ہوتا ہے ۔

17/04/2014 - 19:01:31 :وقت اشاعت