بند کریں
صحت صحت کی خبریںسیکرٹری صحت 70ملین کی بے ضابطگی کے ذمہ داروں کا تعین کریں ،پی اے سی ون

صحت خبریں

وقت اشاعت: 06/08/2014 - 17:34:54 وقت اشاعت: 06/08/2014 - 17:19:01 وقت اشاعت: 06/08/2014 - 17:11:09 وقت اشاعت: 06/08/2014 - 14:15:40 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 16:50:00 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 16:40:14 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 14:03:44 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 13:50:13 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 13:13:37 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 13:01:01 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 22:26:20

سیکرٹری صحت 70ملین کی بے ضابطگی کے ذمہ داروں کا تعین کریں ،پی اے سی ون

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5اگست۔2014ء) پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی ون کا اجلاس چیئرمین کمیٹی میاں محمودالرشید کی صدارت میں پنجاب اسمبلی میں کمیٹی روم سی میں منعقدہ ہوا جس میں ممبران کمیٹی سبطین خان ،ڈاکٹروسیم اختر ،سائرہ افتخار ،ثاقب خورشید نے شرکت کی ۔کمیٹی نے ہیلتھ فاوٴنڈیشن کی طرف سے 70ملین کی خطیر رقم ٹرسٹ بنک میں جمع کروانے کے غیر قانونی اقدام کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو ذمہ داروں کا تعین کر کے 2ماہ کے اندر اندر انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی میاں محمود الرشید نے ریمارکس دئیے کہ یہ کوئی غلطی نہیں مجرمانہ اقدام ہے ،ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچنا چاہیے ۔پی اے سی ون کے دوسرے روز پنجاب ہیلتھ فاوٴنڈیشن کے آڈٹ پیرے زیر بحث آئے پیرا نمبر 4-2-1-3-2010میں آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے نشاندہی کی کہ پنجاب حکومت نے 18دسمبر 2008میں تحریری ہدایات جاری کیں کہ محکمے سرپلس فنڈز بنک آف پنجاب میں ڈیپازٹ کروائیں مگر پنجاب ہیلتھ فاوٴنڈیشن لاہور نے ان ہدایات کے برعکس 20ستمبر 2009کو 50ملین اور23جنوری 2010کو 20ملین روپے ٹرسٹ بنک میں جمع کروا دئیے ۔

ٹرسٹ بنک سرکاری اکاوٴنٹ حاصل کرنے کے حوالے سے سرے سے ہی مجاز نہ تھا آڈٹ پیرا کے مطابق 70ملین ایک سال کے لئے جمع کروائے گئے تاہم ایک سال کے بعد ٹرسٹ بنک نے رقم دینے سے انکار کر دیا تاہم کسی قسم کی محکمانہ انکوائری اور ذمہ داروں کا تعین کئے بغیر معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کر دیا گیا محکمہ نے رقم ریکور کرنے کا دعوی کیا ہے تاہم آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے کمیٹی کے روبرو انکشاف کیا کہ معاملہ تاحال بنکنگ کورٹ میں ہے ۔

چیئرمین کمیٹی میاں محمود الرشید نے کہا کہ حیرت ہے اتنے بڑے فراڈ کی ہیلتھ فاوٴنڈیشن یا محکمہ ہیلتھ نے اپنے طور پر کوئی انکوائری نہیں کی اور نہ ہی تاحال کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ؟۔ڈی جی ہیلتھ فاوٴنڈیشن نے استفسار پر بتایا کہ اس وقت طارق آفریدی ڈی جی ہیلتھ فاوٴنڈیشن تھے ۔میاں محمودالرشید نے ہیلتھ فاوٴنڈیشن کے ڈی جی سے سوال کیا کہ فاوٴنڈیشن کو رقم ڈاکٹرز کو نجی کلینک یا ہسپتال قائم کرنے کے لئے حکومت سے ملتی ہے بنکوں میں انویسٹ کرنے یا سود کھانے کے لئے نہیں ۔

ڈی جی نے جواب دیا کہ اگرچہ لون انٹریسٹ فری ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر پراپرٹی گروی رکھوانے کے لئے تیار نہیں ہوتے شخصی ضمانت پر قرضہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کی رولز اجازت نہیں دیتے ۔انہوں نے کہا کہ شرائط کو مزید آسان بنانے کے لیے بورڈ آف گورنر غور کرے گا۔

05/08/2014 - 16:40:14 :وقت اشاعت