بند کریں
صحت صحت کی خبریں ڈینگی بخار کی ویکسین کی تیاری میں کامیابی ، اگلے سال دستیاب ہو گی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/09/2014 - 17:35:51 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 17:07:57 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 17:07:57 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 15:25:20 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 15:25:20 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 15:07:52 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 14:15:35 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 14:00:05 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 13:13:11 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 13:05:33 وقت اشاعت: 09/09/2014 - 12:37:08

ڈینگی بخار کی ویکسین کی تیاری میں کامیابی ، اگلے سال دستیاب ہو گی

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9ستمبر 2014ء) ڈینگی بخار کے خلاف دوا ساز ادارے سانوفی پاسٹیئر کے ماہرین نے ایک ویکسین تیار کی ہے۔ آج کل اسے اس وائرس کے شکار بچوں پر آزمایا جا رہا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق ڈینگی بخار سے بچاو کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین پر مختلف مراحل میں تجربات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کیے جانے والے تازہ کلینکل ٹرائل کے نتائج مثبت آئے ہیں تاہم اس کے باوجود ماہرین تحفظات کا شکار ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ ابھی تک وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ویکسین ڈینگی بخار کے خلاف کس حد تک موثر ہے۔ سانوفی پاسٹیئر کے مطابق یہ تجربات تین مراحل پر مشتمل ہیں اور اس دوران مختلف کلینکل ٹرائل کرائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے کے دوسرے کلینکل ٹرائل کے نتائج کو عام کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انجکشن 60.8 فیصد موثر ثابت ہوئی ہیں اور اس طرح اصل ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

اس دوا کا 60.8 فیصد موثر ہونے کا مطلب ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں نصف تک کی کمی ہے۔ دوا ساز ادارے سانوفی کے مطابق اس ویکسین کے استعمال سے شدید بیمار افراد کی تعداد میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہو جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پندرہ لاکھ افراد ڈینگی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔

صحیح طبی وسائل مہیا نہ ہونے کی وجہ سے کئی سو افراد موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس انجکشن کی قیمت کتنی ہو گی۔ تاہم یہ دوا ساز ادارہ دو دہائیوں پر مشتمل اپنی اس تحقیق پر اب تک 1.3 ارب یورو خرچ کر چکا ہے۔ اگلے برس کے وسط تک اس ویکسین کو رجسٹر کرانے کا منصوبہ ہے ، تاکہ 2015 کی دوسری ششماہی سے یہ مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے۔


ڈینگی بخار کے خلاف دوا ساز ادارے سانوفی پاسٹیئر کے ماہرین نے ایک ویکسین تیار کی ہے۔ آج کل اسے اس وائرس کے شکار بچوں پر آزمایا جا رہا ہے۔



پیرس (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا کے مطابق ڈینگی بخار سے بچاو کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین پر مختلف مراحل میں تجربات کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں کیے جانے والے تازہ کلینکل ٹرائل کے نتائج مثبت آئے ہیں تاہم اس کے باوجود ماہرین تحفظات کا شکار ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ابھی تک وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ویکسین ڈینگی بخار کے خلاف کس حد تک موثر ہے۔ سانوفی پاسٹیئر کے مطابق یہ تجربات تین مراحل پر مشتمل ہیں اور اس دوران مختلف کلینکل ٹرائل کرائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے کے دوسرے کلینکل ٹرائل کے نتائج کو عام کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انجکشن 60.8 فیصد موثر ثابت ہوئی ہیں اور اس طرح اصل ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

اس دوا کا 60.8 فیصد موثر ہونے کا مطلب ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں نصف تک کی کمی ہے۔ دوا ساز ادارے سانوفی کے مطابق اس ویکسین کے استعمال سے شدید بیمار افراد کی تعداد میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہو جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پندرہ لاکھ افراد ڈینگی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔

صحیح طبی وسائل مہیا نہ ہونے کی وجہ سے کئی سو افراد موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس انجکشن کی قیمت کتنی ہو گی۔ تاہم یہ دوا ساز ادارہ دو دہائیوں پر مشتمل اپنی اس تحقیق پر اب تک 1.3 ارب یورو خرچ کر چکا ہے۔ اگلے برس کے وسط تک اس ویکسین کو رجسٹر کرانے کا منصوبہ ہے ، تاکہ 2015 کی دوسری ششماہی سے یہ مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے۔ - See more at: http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/Technology/235917#sthash.jr5eQKgh.dpuf
09/09/2014 - 15:07:52 :وقت اشاعت