بند کریں
صحت صحت کی خبریںکمزور اور معمر افراد کی سہولت کے لئے 226برقی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی ،
حادثات سے بچنے کے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/10/2014 - 22:03:22 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 22:03:22 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 21:48:18 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 21:39:45 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 19:33:27 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 19:33:27 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 18:46:58 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 18:40:47 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 17:41:49 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 17:20:53 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 16:56:24

کمزور اور معمر افراد کی سہولت کے لئے 226برقی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی ،

حادثات سے بچنے کے لئے سوا چار ارب ریا ل سے پانچ منزلہ جمرات پل تعمیر کر لیا گیا

منٰی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3اکتوبر 2014ء)سعودی وزارت بلدیات و دیہی ترقی نے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے جانے والے بزرگ‘ معذور ‘ کمزور اور بیمار افراد اور خواتین کی سہولت کے لئے 226الیکٹرک گاڑیاں مہیا کردی ہیں جن سے 70ہزار افراد استفادہ کریں ۔دریں اثنا ء مناسک حج کے سلسلے میں حاجیوں کی طرف سے شیطان کو تین دن علامتی طور پر کنکریاں مارنے کے دوران حادثات کی روک تھام کے لئے سعودی عرب کی حکومت نے سوا چار ارب ریا ل کی لاگت سے وادیِ منٰی میں 950میٹر طویل اور 80میٹر چوڑا پانچ منزلہ جمرات پل کمپلیکس تعمیر کر لیاہے۔

حاجیوں کے یہاں آنے اور واپس جانے کے لئے12 علیحدہ علیحدہ داخلی اور خارجی راستے بنائے گئے ہیں۔ یہاں ایک گھنٹے دوران تین لاکھ افراد کے رمی کرنے کی گنجائش ہے اور اس سا ل دنیا بھر سے آنے والے 25لاکھ سے زائد حاجی یہ پل استعمال کر سکیں گے۔سعودی وزارت حج تمام معلمین کو ہدایت کی ہے کہ کنکریاں مارنے کے لئے حاجیوں کو طے شدہ ٹائم شیڈول کے مطابق روانہ کیا جائے تا کہ جمرات پل پر اکٹھے ہونے والے حاجیوں کے ہجوم کو کنٹرول کیا جا سکے ۔

جمرات کی چار منزلوں پر درجہ حرارت 24سے 29سینٹی گریڈ کے درمیان رکھنے کے لئے 360نئے اور کولر نصب کئے گئے ہیں جبکہ بالائی منزل پرشیڈ بنایا گیا ہے۔خادم الحرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کے حکم پر اس کثیر المنزلہ منصوبے پر کام کا آغاز 2006ء میں کیا گیا تھا جب حج 1426ھ کے دوران 12 جنوری2006ء کو رمی جمرات کے موقع پر یہاں بھگدڑ کے نتیجے میں 346افراد جاں بحق اور289زخمی ہو گئے تھے۔

منصوبے کا گراؤنڈ اور فرسٹ فلور دسمبر 2006ء یعنی حج 1427ھ سے قبل تیار کر لیا گیا تھا جس کے بعد یہاں کوئی حادثہ رو نما نہیں ہوا ۔یاد رہے کہ اس منصوبے کی تعمیر شروع ہونے سے قبل یہاں1963 میں تعمیر کیا جانے والا صرف ایک منزلہ پل واقع تھا جو ہر سال حاجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ناکافی ہو چکا تھا اور حج کے موقع پر بھگدڑ کے باعث سینکڑوں افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

03/10/2014 - 19:33:27 :وقت اشاعت