بند کریں
صحت صحت کی خبریں رائے ونڈ ، عطائی ڈاکٹر کی غفلت سے غریب والدین کی اکلوتی بچی جاں بحق

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/10/2014 - 13:20:52 وقت اشاعت: 04/10/2014 - 13:05:29 وقت اشاعت: 04/10/2014 - 12:53:17 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 23:58:01 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 23:57:19 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 23:44:36 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 23:25:53 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 23:14:44 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 22:21:14 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 22:10:40 وقت اشاعت: 03/10/2014 - 22:03:22

رائے ونڈ ، عطائی ڈاکٹر کی غفلت سے غریب والدین کی اکلوتی بچی جاں بحق

رائے ونڈ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3اکتوبر۔2014ء) لاہور روڈ پر غیر رجسٹرڈ ہسپتال کے مبینہ عطائی ڈاکٹر کی غفلت سے غریب والدین کی اکلوتی بچی موقع پر جاں بحق ہوگئی ۔ڈاکٹر مری ہوئی بچی کو والدین کے حوالے کرکے فرار ہونے لگا تو لواحقین نے گاڑی کا گھیراؤ کرلیا ۔بوکھلائے ہوئے ڈاکٹر نے گاڑی لواحقین پر چڑھانے کی کوشش کی ۔مظاہرین کے احتجاج پر ڈاکٹر نے منتیں کرنا شروع کردیں کہ بچی اللہ کی رضا سے فوت ہوئی ہے اور اسی دوران ہجوم سے غائب ہوگیا ۔

متوفیہ مریم کے لواحقین نا نا محمد ارشد وغیرہ نے قاتل ڈاکٹر ہائے ہائے کے نعرے لگاکر لاہور روڈ بلاک کردی ۔مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ٹریفک بحال کروائی اور بچی کی نعش اور لواحقین کو تھانہ لے آئے ۔پولیس لاہور روڈ نیشنل بنک کی بالائی منزل پر قائم سٹی میڈیکل سنٹر پرگئی تو اندر موجود عملے سے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا ۔ڈاکٹر کی گاڑی ہسپتال کے باہر لاوارث کھڑی رہی ۔

واقعہ کی اطلاع ایس پی صدر کو ہونے جانے سے مقامی پولیس حرکت میں آئی ،تھانہ میں لواحقین کو پوسٹ مارٹم کروانے کا کہہ کر نیا سبق پڑھانا شروع کردیا ۔موقع پر پہنچنے والے صحافیوں کوہسپتال کے ڈاکٹر کو بچانے والوں کی جانب سے ڈرانے دھمکانے اور خریدنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔لواحقین نے صحافیوں کے انصاف ملنے کی یقین دہانی پر سچ اور جھوٹ کا پتہ کروانے کیلئے معصوم بچی کا پوسٹ مارٹم کروانے کی حامی بھر لی ۔

پولیس نے سست روی سے کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔تاہم ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔مرنے والی بچی ڈیڑھ سالہ مریم کے والدین اللہ رکھا کے مطابق وہ شاہدرہ سے اپنی بیوی کے میکے رائے ونڈسسر محمد ارشد کے گھر آئے کہ جمعہ کے وقت بچی کو تیز بخار ہوگیا ۔جمعہ کے دن شہر میں اکثرمقامی کلینک بند ہونے کی وجہ سے وہ لاہور روڈ پر نیشنل بنک کی بالائی منزل پر واقع سٹی میڈیکل سنٹر پر آگئے ،جہاں مبینہ طور پر ڈاکٹر طاہر جاوید نے بچی کوکمرے میں لیجا کر انجکشن لگایا جس کے بعد بچی بے سدھ ہوگئی اور اس کے جسم پر سرخ دانے بن گئے ۔

لواحقین کے مطابق ڈاکٹر نے انہیں تسلی دی کی بچی دوائی کی وجہ سے نیم بے ہوشی میں ہے گھبرائیں نہیں بچی گھر جاکر ٹھیک ہوجائے گی ۔والدہ حمیرا بی بی نے بتایا کہ انہیں بچی کی حالت دیکھ کر شک ہوا تو انہوں نے چیک کیا تو بچی مرچکی تھی ۔چنانچہ وہاں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔حمیرا بی بی کے لواحقین ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہسپتال کے باہر کھڑے ہوکر احتجاج شروع کردیا ۔

اسی دوران ڈاکٹر نے گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کی ۔مرنے والی بچی کے والدین نے بتایا کہ ان کی شادی سات سال قبل ہوئی جس میں ایک بیٹا پہلے فوت ہوچکا ہے اب یہ بچی ان کی اکلوتی اولاد تھی، ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے وہ ایک بار پھر بے اولاد ہوگئے ہیں ۔اس نے ڈاکٹر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ادھر ڈاکٹر طاہر جاوید کے رابطہ ذرائع سے بتایا گیا کہ ڈاکٹر طاہر جاوید نے یہ ہسپتال ٹھیکے پر دیا ہوا ہے اور وہ وہاں موجود نہیں تھا ۔

بچی کو ہسپتال کے نئے عملہ نے چیک کیا ہے ۔تاہم ہسپتال کے عملے کے غائب ہونے سے اس امر کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔مگر احتجاج کے وقت ڈاکٹر طاہر جاوید ہی موقع پر موجود تھے ۔جو کہ ان کے چاہنے والوں کے مطابق کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں ۔یادرہے کہ رائیونڈ میں عطائی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کی بھرمار ہے ۔نان کوالیفائیڈ ڈاکٹر قصائیوں کی طرح انسانی جسموں کی چیڑ پھاڑ میں مصروف ہیں ۔

اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔محکمہ صحت کے ارباب اختیار کی مجرمانہ غفلت اور کرپشن کی وجہ سے رائے ونڈ عرصہ دراز سے اس شعبہ میں قطعی لاوارث ہوچکاہے ۔اور اس طرح سرجیکل ہسپتال ،کلینک مالکان کروڑوں میں کھیل رہے ہیں ۔شہریوں نے اپیل کی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنے شہر کی خبر لیں ۔کیوں کہ بچوں کے غلط علاج سے مرنے کا یہ واقعہ پہلا نہیں ،ایسا معمول کا حصہ ہے ۔بااثر شخصیات کے ہسپتالوں کے خلاف کبھی موٴثر کارروائی نہیں ہوئی ۔جس کی وجہ سے میڈیکل سٹوروں پر بھی نشیلی دوائیوں کی فروخت بھی دھڑلے سے جاری ہے ۔

03/10/2014 - 23:44:36 :وقت اشاعت