بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکومت کی اولین ترجیح شعبہ تعلیم اور صحت کو بہترین سے بہتر بنانا ہے ،مشتاق غنی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/10/2014 - 18:28:31 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 17:40:08 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 17:35:25 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 17:35:25 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 17:34:14 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 17:31:56 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 17:18:13 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 16:53:20 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 15:19:05 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 15:08:51 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 15:04:20

حکومت کی اولین ترجیح شعبہ تعلیم اور صحت کو بہترین سے بہتر بنانا ہے ،مشتاق غنی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18 اکتوبر۔2014ء)خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات واعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح شعبہ تعلیم اور صحت کو بہترین سے بہتر بنانا ہے ۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بارایک خودمختار اور اباعتماد ادارے این ٹی ایس کے زریعئے 8500افراد کو میرٹ پر محکمہ تعلیم میں بھرتی کیا گیا جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں 6لاکھ طلبا و طالبات کا اندراج کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز گورنمنٹ گرلز کالج نواں شہر میں تقسیم انعامات اور مختلف سوسائٹی کی طالبات کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ورثہ میں مسائل کا انبار ملا ،دہشت گردی، کرپشن، لوٹ مارلا قانونیت ، اور اقرباء پروری کا بازار گرم تھا ،۔

گزشتہ حکومت کا گند صاف کرنے میں کچھ وقت درکار ہے تاہم موجودہ حکومت نے اپنے ڈیڑھ سال کے کم عرصہ میں میرٹ کو یقینی بنایا ، سرکاری سکولوں ، کالجوں میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا، صوبائی اسمبلی سے 32 نئے قانون منظور کرائے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے جس تبدیلی کا نعرہ لگایا ہے وہ خیبر پختونخوا میں محسوس کی جا رہی ہے۔ تمام کام میرٹ پر کئے جا رہے ہیں۔

صوبے میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے 35 میگا واٹ پر مشتمل بجلی کے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے جس سے صوبہ بھر کے دور دراز 356دیہاتوں کو 2روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ7 ارب لگایا تھا جبکہ ہماری حکومت اسی منصوبہ کو 5 ارب کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچائے گی۔

مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈ زکو احتیاط سے خرچ کیا جا رہا ہے تاکہ کرپشن کو روکا جا سکے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کسی بھی ڈگری پروگرام کیلئے خواتین کو داخلہ لینے کے لئے عمر کی حد ختم کر دی ہے، معذور افراد کے لئے تعلیم باالکل مفت کر دی گئی ہے جبکہ پی ایچ ڈی لیول تک کے امیدواروں کو بھی عمر کی حد میں 10سال کی مزید مہلت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ہونہار اور قابل طلباء جو ااپنی پروفیشنل تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ان کے لئے 500 ملین روپے کا فنڈ قائم کیا گیاہے جس سے ان طلباء کی تعلیمی اخراجات پورے کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پپر گورنمنٹ گرلز کالج نواں شہر کو گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج نواں شہر کا درجہ دینے کا اعلان کیا اسمیں اسی سال سے BSپروگرام کا بھی آغاز کیا جائیگا آخر میں صو با ئی وزیر نے طا لبا ت میں انعا ما ت اور ٹرا فیا ں تقسیم کیں۔

18/10/2014 - 17:31:56 :وقت اشاعت