بند کریں
صحت صحت کی خبریں پولیوایک اذیت ناک مرض ،والدین کی لاپرواہی کے بعد بچوں کو لاحق ہونے کی صورت میں ان کے لئے زندگی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2014 - 22:37:09 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 21:48:59 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 21:41:51 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 21:22:04 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 21:09:04 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 21:05:38 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 20:42:24 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 20:23:11 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 19:11:02 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 19:08:53 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 18:33:20

پولیوایک اذیت ناک مرض ،والدین کی لاپرواہی کے بعد بچوں کو لاحق ہونے کی صورت میں ان کے لئے زندگی بھرکی اذیت بن جانتی ہے ، مفتی محمدنعیم

کراچی (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 15نومبر 2014ء) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم شیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ پولیوایک اذیت ناک مرض ہے جووالدین کی لاپرواہی کے بعد بچوں کو لاحق ہونے کی صورت میں ان کے لئے زندگی بھرکی اذیت بن جانتی ہے ، عوام سے اپیل کی ہے کہ اپنے بچوں کوزندگی بھرکی معذوری اوردوسروں کی محتاجی سے بچانے کیلئے پولیوویکسین ضرورپلوائیں۔

ملک کے ممتازعلماکرام نے اپنے طورپرپولیوویکسین کی نامورڈاکٹرزاورماہرین طب سے تحقیق کروائی ہے جس کے بعدیہ ثابت ہوچکاہے کہ پولیوویکسین میں انسانی صحت کیلئے کوئی مضراشیاء شامل نہیں ہے اوریہ ویکسین بچوں کوزندگی بھرکی معذوری سے بچانے کے علاوہ دیگر کئی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ہفتہ کوجامعہ بنوریہ عالمیہ میں سے جاری بیان میں مفتی محمدنعیم نے مزیدکہاکہ نامورماہرین طب کی آرااورتحقیق کے بعد جامعہ بنوریہ عالمیہ نے پاکستان میں سب سے پہلے شرعی نقطہ نظر سے اس حوالے سے فتویٰ دیااور عوام سے اپیل بھی کی کہ اپنے بچوں کوپولیوسے جیسے خطرناک بیماری سے بچانے پولیوویکسین ضرورپلوائیں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں علماکرام کے تحقیق کرنے سے پہلے پولیو ویکسین پلوانے والی ٹیموں کیخلاف عام عوام اوربالخصوص دیہی علاقوں میں خدشات پائے جاتے تھے لیکن نوبت یہاں تک نہیں پہنچی تھے کہ کبھی ان ٹیموں پرحملے ہوئے ہوں لیکن ڈاکٹر شکیل آ فریدی جیسے مکروہ عناصرنے ان خدشات کوتقویت دی اوراب عوام نے یہ پختہ یقین کرلیاہے کہ پولیوٹیمیں دراصل مغربی ایجنڈے پرکام کرنے اوران کیلئے جاسوسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان سمیت پولیوکیخلاف عالمی سطح پرکام کرنے والی ٹیموں کوچاہئے کہ عوام کوترغیب دینے اورآگاہی مہم کیلئے اداکاروں ،کرکٹرزودیگرلوگوں کے بجائے علماکرام اورمذہبی طبقے سے کام لیں مساجدومدارس کے ذریعے اعلانات ہونے چاہئے کیوں علماکرام معاشرے میں اوربالخصوص دیہی علاقوں میں اثرورسوخ رکھتے ہیں اورعوام ان کی بات کوسنجیدگی سے لیتے ہیں اسی طرح جس علاقے میں ویکسین پلوانی ہوتوبجائے دوسرے علاقو ں سے لوگوں کولینے کے بجائے مقامی لوگ منتخب کئے جائیں جیسے اگرجامعہ بنوریہ میں ویکسین پلوانی ہوتوجامعہ بنوریہ کے ہی افراد کواس کیلئے ذمہ داری دی جانی چاہئے ۔#

15/11/2014 - 21:05:38 :وقت اشاعت