بند کریں
صحت صحت کی خبریںدیپالپور ،ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی سہولیات کافقدان،
انتظامیہ کامریضوں سے ناروا سلوک،ایمبولینس،الٹراساؤنڈ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:57:29 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:51:13 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:32:41 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:00:29 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:54:26 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:50:31 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:07:41 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 20:51:19 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 20:38:55 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 19:04:31 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 19:02:41

دیپالپور ،ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی سہولیات کافقدان،

انتظامیہ کامریضوں سے ناروا سلوک،ایمبولینس،الٹراساؤنڈ مشین عرصہ دراز سے خراب

دیپالپور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24دسمبر 2014ء)ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی سہولیات کافقدان،ہسپتال انتظامیہ کامریضوں سے ناروا سلوک،ایمبولینس،الٹراساؤنڈ مشین عرصہ دراز سے خراب،ہسپتال میں گندگی کے ڈھیر،مفلس مریض مہنگا پرائیویٹ علاج کرانے پر مجبور، دوائیں نایاب ہو گئیں تفصیلات کے مطابق آبادی اور رقبے کے اعتبار سے لاکھوں نفوس پر مشتمل پنجاب کے کئی اضلاع سے بڑی تحصیل دیپالپورمیں قائم محکمہ صحت کا سب سے بڑا ادارہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جو بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے محض بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے جس میں میڈیکل آفیسر کی چودہ آسامیوں پر صرف چار ڈاکٹرز تعینات ہیں جن میں سے ایک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شعیب انور بھی صرف یہاں اٹیچ ہیں کام کسی اور ہسپتال میں کرتے ہیں اس طرح صرف تین ڈاکٹر فرائض انجام دے رہے ہیں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بارہ اسامیوں پر بھی صرف چار تعینات ہیں جن میں دو گائنی کالوجسٹ ،چائلڈ سپیشلسٹ اور ایک سرجن شامل ہیں جبکہ باقی نفرالوجسٹ،آرتھوپیڈک،آئی سپیشلسٹ،ای این ٹی،انتھیٹیسٹ،فزیشن،پتھالو جسٹ اور ریڈیالوجسٹ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی سہولیات حکومت پنجاب کی جانب سے بہم نہیں پہنچائی گئیں جس کے باعث ہزاروں مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں انتہائی مہنگے علاج کرانے پر مجبور ہیں حکومت سے بھاری معاوضہ وصو ل کرنے والے اکلوتے سرجن نے رواں سال میں انتہائی کام چوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک درجن کے قریب نارمل آپریشن کئے باقی تمام مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا اور زیادہ تر مریضوں کے اپنے پرائیویٹ ہسپتال میں آپریشن کئے حکومت پنجاب کی جانب سے دی جانے والی مرسڈیز ایمولینس عرصہ دراز سے خراب پڑی ہے ،الٹرا ساؤنڈ مشین بھی کئی سال سے خراب ہے شدید سردی کے موسم میں ہیٹر کی سہولت نہیں پورے ہسپتال میں سوئی گیس کا کنکشن نہیں ،گزشتہ سال دواؤں کی مدمیں ایک کروڑ روپے بجٹ مختص تھا مگر رواں سال صرف دواؤں کی مد میں ساٹھ لاکھ مختص کئے گئے جس کی وجہ سے مریضوں کو مہنگی ادویات بازار سے خریدنا پڑتی ہیں میڈیکل آفیسر ڈاکٹر خرم کا مریضوں سے ہتک آمیز رویہ کسی عذاب سے کم نہیں ، ایڈمنسٹریشن کی کمزوری کے باعث ہسپتال ملازمین شتربے مہار ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کے لئے سوالیہ نشان ہیں شہر بھر کی سیاسی ،سماجی ، مذہبی کاروباری تنظیمیں اور خاص طور پرغریب عوام وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے خصوصی توجہ اور نوٹس لینے کے منتظر ہیں،

24/12/2014 - 21:50:31 :وقت اشاعت