بند کریں
صحت صحت کی خبریںقدرتی ماحول اور زرعی اجناس کے تحفظ کیلئے حکومت قدرتی فائبر، پٹ سن سے بنے تھیلوں کو فروغ دے،محمد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/12/2014 - 23:20:26 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 23:05:51 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:57:29 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:51:13 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:32:41 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 22:00:29 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:54:26 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:50:31 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:07:41 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 20:51:19 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 20:38:55

قدرتی ماحول اور زرعی اجناس کے تحفظ کیلئے حکومت قدرتی فائبر، پٹ سن سے بنے تھیلوں کو فروغ دے،محمد یونس،

مصنوعی فائبر کے بنے پلاسٹک کے تھیلے اجناس کے ذخیروں، انسانی صحت اور ماحول کیلئے خطرناک ہیں،سیکرٹری پی جے ایم اے

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24دسمبر 2014ء) قدرتی ماحول اور زرعی اجناس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پولی پروپلین تھیلوں کی بجائے قدرتی فائبر، پٹ سن سے بنے تھیلوں کو فروغ دے۔ مصنوعی فائبر کے بنے پلاسٹک کے تھیلے اجناس کے ذخیروں، انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرناک ہیں۔یہ بات محمد یونس سیکریٹری پاکستان جوٹ ملز ایسوسی ایشن (پی جے ایم اے) نے جاری بیان میں کہی۔

یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کرنے اور 27 معاہدوں پر دستخط کے بعد حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ماحولیاتی نقصاندہ تمام مصنوعات کو ماحول دوست مصنوعات کے ساتھ تبدیل کرے اور اس ضمن میں گندم سمیت تمام زرعی اجناس کے ذخیروں کے لیے پولی پروپلین تھیلوں کی بجائے پٹ سن کے تھیلوں کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس اقدام سے حکومت اس ضمن میں اپنی پیش رفت کا اظہار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں پاکستان جی ایس پی کا درجہ حاصل کرتے ہوئے گندم اور غلہ اسٹور کرنے کے لئے 64ملین پولی پروپلین تھیلوں (3.520 ارب پولی تھیلین تھیلوں کے مساوی)کا استعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی انحطاط کا مرتکب ہوا تھا۔یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ پولی پروپلین مصنوعی فائبر اور آئل ریفائنریوں کی ایک ذیلی پیداوار ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”پولی پروپلین تھیلے کا پاوٴڈر مہلک عناصر کا مرکب تصور کیا جاتا ہے جیسا کہ لیڈ، کیڈمیم، کرومیم، کوپر، نکل ، اور زنک۔ فیبرک میں اینٹی آکسیڈینٹس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ مخصوص عناصر میں جلد میں سوزش پیداکرتے ہیں۔“انہوں نے بتایا کہ ایک سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ ایک کلو گرام PP میں 66ملی گرام لیڈ؛ 0.2 ملی گرام کیڈمیم؛ 23ملی گرام کرومیم؛ 13ملی گرام کوپر؛ 0.9 ملی گرام نکل؛ اور 79ملی گرام زنک شامل ہوتا ہے، جب کہ مرکری اور آرسینک کی مقدار کا تجزیہ کرنا ابھی باقی ہے۔

انہوں نے کہا ان نتائج کی تصدیق کے لئے حکومت الگ سے تجزیئے کا اہتمام کر سکتی ہے۔بائیو کیمسٹ طاہر احمد نے اس حوالے سے کہا کہ ”پولی پروپلین اور پلاسٹک کی پروڈکٹس بہت تیزی سے آکسیڈائز ہوجاتی ہیں، لہٰذا اس میں اینٹی آکسیڈینٹس شامل ہو جاتے ہیں۔ اینٹی مانی ٹرائی آکسائیڈز کو استحکام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور کارسینوجینک شعلہ پروف ایجنٹ ہے۔

“ انہوں نے مزید کہا کہ سانس کے ذریعے نکل کو بہت زیادہ اندر لے جانے سے شدید یا کم شدید زہریلی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔ نکل کی دھول، اور نکل دھات کا ایروسولز، نکل آکسائیڈ اور دیگر کارسینوجینک (سرطان کی وجہ) ہیں۔ اینٹی مانی ڈائی آکسائیڈجسے PPمیں استحکام اور شعلہ پروف ایجنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، بھی کارسینوجینک ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ حکومت ایک جانب ہمارے ماحول کو تحفظ دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن دوسری جانب گندم کو ذخیرہ کرنے کے لئے پولی پروپلین تھیلوں کے استعمال کے ذریعے ماحولیاتی انحطاط کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی ادارے اس حقیقت کے باوجود گندم ذخیرہ کرنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں جن پر عمل در آمد سے گندم کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایک اور تحقیق نگار نے کہا ہے کہ پولی پروپلین تھیلوں کی بے تحاشہ خریدار ی اور استعمال ملک میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جوٹ کے تھیلے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی(PSQCA) کے معیارات پر عمل کرتے ہوئے تیار کئے جاتے ہیں جبکہ پولی پروپلین کے تھیلوں کے لیے کوئی معیارات متعین نہیں ہیں اور یہ بغیر کسی معیارات کے تیار کئے جاتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ پلاسٹک کمپاوٴنڈز (جس سے PPتھیلے تیار ہوتے ہیں) ہمارے پانی کے ذرائع میں داخل ہوجاتے ہیں، اس میں حل نہیں ہوتے، اور اس طرح پانی میں آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔

پلاسٹک کمپاوٴنڈز کو جب زمینی مٹی کے ساتھ مل جاتے ہیں تو ختم نہیں ہوتے اور اس طرح جڑوں کے زون میں پودوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے زرعی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کا ضائع کرنے کا واحد طریقہ اسے جلانا ہے جو ماحولیاتی بگاڑ اور درجہ حرارت میں اضافے ہے؛ اس کے ذرے فضا میں بکھر جاتے ہیں؛ اور N2 اور CO2 کے اثر میں اضافہ اور O2 کے اثر میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”سانس کے ذریعے پلاسٹک کے ذرات اور بوکے مسلسل اندر جانے سے ٹی بی، دمہ اور دیگر امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پٹ سن 100فی صد قدرتی فائبر ہونے کی وجہ سے بائیو ڈی گریڈایبل ، ماحول دوست ہے اور اسے بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی مرتبہ استعمال کئے جانے کی وجہ سے یہ لاگت کے لحاظ سے پولی پروپائلین کے تھیلوں کی نسبت جنہیں صرف ایک بار ہی استعمال کیا جا سکتا ہے، کہیں کم ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ”روایتی طور پر گندم، چاول، کاٹن اور دیگر زرعی پروڈکٹس اور پٹ سن کے تھیلوں میں ذخیرہ کیا جاتا اور پیک کیا جاتا ہے۔ پٹ سن کے تھیلوں کے اندر مواد مکمل طور محفوظ اور حفاظت سے رہتا ہے۔جوٹ یا پٹ سن کے تھیلے گندم کے طویل المدت ذخیرے اور نقل و حمل کے لئے بہترین ہیں۔

24/12/2014 - 22:00:29 :وقت اشاعت