بند کریں
صحت صحت کی خبریںسرطان کی بہت سی اقسام کا تعلق تمباکونوشی جیسے خطرے کے عوامل کی بجائے صرف بری قسمت سے ہوتا ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 02/01/2015 - 20:31:18 وقت اشاعت: 02/01/2015 - 20:14:15 وقت اشاعت: 02/01/2015 - 18:03:08 وقت اشاعت: 02/01/2015 - 15:26:38 وقت اشاعت: 02/01/2015 - 13:20:45 وقت اشاعت: 02/01/2015 - 12:31:17 وقت اشاعت: 02/01/2015 - 12:22:08 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 23:32:43 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 23:32:43 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 23:24:35 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 23:00:02

سرطان کی بہت سی اقسام کا تعلق تمباکونوشی جیسے خطرے کے عوامل کی بجائے صرف بری قسمت سے ہوتا ہے تحقیقاتی رپورٹ ،

دو تہائی سرطان کی وجہ طرزِ زندگی کی بجائے ڈی این اے میں اتفاقی تبدیلیوں ہیں، , صحت مندانہ طرزِ زندگی اب بھی سرطان سے بچاوٴ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے کینسر ریسرچ نامی تنظیم کی رپورٹ،

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 2جنوری2015ء)تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرطان کی بہت سی اقسام کا تعلق تمباکونوشی جیسے خطرے کے عوامل کی بجائے صرف بری قسمت سے ہوتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک امریکی ٹیم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ جسم کے بعض خلیوں کو سرطان لاحق ہونے کا خطرہ دوسرے خلیوں کے مقابلے پر لاکھوں گنا زیادہ کیوں ہوتا ہے۔یہ تحقیق سائنس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ دو تہائی سرطان کی وجہ طرزِ زندگی کی بجائے ڈی این اے میں اتفاقی تبدیلیوں ہیں۔

دوسری طرف کینسر ریسرچ یوکے نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ صحت مندانہ طرزِ زندگی اب بھی سرطان سے بچاوٴ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔امریکہ میں 6.9 فیصد لوگ کو زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں پھیپھڑوں کے سرطان اور 0.6 فیصد دماغی سرطان میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ 0.00072 فیصد کے نرخرے میں رسولی پیدا ہو جاتی ہے۔سگریٹ کے دھویں میں موجود زہریلے مواد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پھیپھڑوں کا سرطان اتنا عام کیوں ہے۔

تاہم نظامِ انہضام کو دماغ کے مقابلے پر کہیں زیادہ مضر ماحولیاتی کیمیائی مادوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے باوجود چھوٹی آنت کے مقابلے پر دماغی سرطان کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور بلوم برگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں کے مطابق اس کی وجہ یہ بات سمجھنے میں ہے کہ خلیے کس طرح سے تقسیم ہوتے ہیں۔

جسم کے اندر پرانے خلیے مرتے رہتے ہیں اور سٹیم سیلز کی مدد سے بننے والے نئے خلیے لگاتار ان کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔ ہر تقسیم کے دوران ڈی این اے میں خطرناک تبدیلی پیش آنے کا خطرہ ہوتا ہے اور تقسیم شدہ خلیہ سرطان زدہ ہونے کے خطرے سے ایک قدم قریب ہو جاتا ہے اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ جسم کے اندر مختلف حصوں کے خلیوں کی تقسیم کی شرح مختلف ہوتی ہے۔

سائنس دانوں نے جسم کے 31 حصوں میں مشاہدہ کیا کہ زندگی بھر میں سٹیم سیل کتنی بار تقسیم ہوتے ہیں۔انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ سرطان کی دو تہائی اقسام کی وجہ صرف بری قسمت ہے اور یہ کہ سٹیم سیل کے ڈی این اے میں اتفاقی طور پر مضر تبدیلی رونما ہو جاتی ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا ان میں دماغ ، چھوٹی آنت اور لبلبے کے سرطان شامل ہیں۔تحقیق میں شامل سائنس دان کرسٹین ٹوماسیٹی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس قسم کے سرطانوں سے بچاوٴ ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو تہائی سرطان سٹیم سیلز کی تقسیم کے وقت ڈی این اے کے اندر اتفاقی تبدیلی سے لاحق ہوتے ہیں تو طرزِ زندگی اور عادات کو تبدیل کرنے سے ایک خاص قسم کے سرطانوں سے بچنے میں تو بڑی مدد ملے گی دوسری قسم کے سرطانوں پر یہ چیزیں اتنی موثر ثابت نہیں ہوں گی۔

02/01/2015 - 12:31:17 :وقت اشاعت