بند کریں
صحت صحت کی خبریںصوبے میں ماں بچہ کی صحت، شرح اموات میں کمی اور بہبود آبادی کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/02/2015 - 21:29:46 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 21:14:32 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 20:44:15 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 20:44:15 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 20:15:41 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 20:12:34 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 19:00:56 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 16:01:49 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:56:10 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:45:12 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:19:33

صوبے میں ماں بچہ کی صحت، شرح اموات میں کمی اور بہبود آبادی کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں ‘ ترجمان

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5فروری2015ء ) محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ صوبے میں ماں بچہ کی صحت، شرح اموات میں کمی اور بہبود آبادی کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں اور اس مقصد کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی سربراہی میں انٹیگریٹڈ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگرام (IRMNCH) شروع کیاگیا ہے جس کے تحت صوبے کے 150بنیادی ہیلتھ سینٹرز (BHUs) پر 24گھنٹے لیبر روم کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور 30اپریل 2015تک 650بنیادی مراکز صحت میں یہ سہولیت فراہم کر دی جائے گی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ برطانیہ کے ادارے DFIDکی فراہم کردہ گرانٹ کو ماں بچہ کی صحت اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام پر خرچ کرنے کیلئے تیزی سے اقدامات جاری ہیں۔ آئی آر ایم این سی ایچ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ بہبود آبادی کیلئے کاؤنٹرا سیپٹوز(Contraceptives) کی خریداری کیلئے 10جنوری 2015کو پری کوالیفکیشن کیلئے فرموں سے ٹینڈر طلب کرنے کا اشتہار اخبارات میں شائع ہوچکا ہے اور 12فروری کو ٹینڈر اوپن کئے جا رہے ہیں اور DFIDّ ْکی گرانٹ سے اس مقصد کیلئے 550ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ DFID کی گرانٹ سے 1025ملین روپے حاملہ خواتین اور ماں بچوں کو فوڈ سپلیمنٹ فراہم کرنے کیلئے رکھے گئے ہیں اور فوڈ سپلیمنٹ کی یونیسف کے ذریعے خریداری کی اجازت کیلئے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دی گئی ہے اور بقایا فنڈز ایمبولینسز کی خریداری اور مختلف ہیلتھ پروگراموں پر خرچ کئے جائیں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گذشتہ دنوں DFIDکے وفد نے محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران سے ملاقات میں حکومتی اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے فنڈز کی اگلی قسط بھی جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے لہٰذا DFIDکی گرانٹ کے ضائع ہونے یا مزید فنڈز کی فراہمی میں رکاوٹ کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

05/02/2015 - 20:12:34 :وقت اشاعت