بند کریں
صحت صحت کی خبریںسیکرٹری صحت خالد شیخ آج جناح اسپتال اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کے ملازمین پرمشتمل جوائنٹ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/02/2015 - 16:51:43 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 16:45:40 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 15:19:43 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 15:16:19 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 15:07:42 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 14:51:07 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 14:33:33 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 13:40:27 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 12:52:58 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 12:52:58 وقت اشاعت: 08/02/2015 - 12:03:03

سیکرٹری صحت خالد شیخ آج جناح اسپتال اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کے ملازمین پرمشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 8فروری 2015ء ) صوبائی وزیر صحت جام مہتاب ڈہر کی ہدایت پر اسپیشل سیکرٹری صحت خالد شیخ آج پیر کو جناح اسپتال اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کے ملازمین پرمشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس میں ملازمین کے مسائل پر بات چیت کی جائے گی،حکومتی سطح پر مذاکرات کے آغاز کے باعث جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج پیر کو جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ میں او پی ڈی بند رکھنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے جس کے بعد دونوں اسپتالوں میں او پی ڈی معمول کے مطابق جاری رہے گی ۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے میڈیا ترجمان سید امیر حسین شاہ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت وفاق سے صوبے کو منتقل ہونے والے ادارے جناح اسپتال اور قومی ادارہ برائے صحت واطفال کے ملازمین ڈیپوٹیشن الاؤنس سے گذشتہ 3برس سے محروم ہیں ، ،ہیلتھ الاؤنس اور سابق وزیر اعظم کی ہدایت پرنیورو سرجری کے ملازمین کی مستقلی میں100ملازمین کے معاملہ اب تک التواء کا شکار ہے،ان مطالبات کے حل کے لئے جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ کے ملازمین گذشتہ ایک ماہ سے 2گھنٹے کی علامتی ہڑتال کر رہے تھے لیکن حکومت اور متعلقہ وزارت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا مجبورا ہم نے دونوں اداروں میں او پی ڈی بند کر کے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا اور حکومت کو مقررہ مدت کے اندر مسئلہ حل کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا جس پر صوبائی وزیر صحت نے اسپیشل سیکریٹری کو ہمارے پاس مذاکرت کے لئے بھیجا اور مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی پر صرف پیر کے احتجاج کو واپس لیا ہے اگر پیر کے روز مذاکرات میں مسئلے کا حل نہ نکلا تو منگل کی صبح جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ( جناح بچوں کے اسپتال ) میں او پی ڈی بند کرکے کراچی پریس کلب پر ان دونوں اداروں کے ملازمین احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور بعد ازاں وزیر اعلی ہاؤس،گورنر ہاؤس یا بلاول ہاؤس میں سے کسی ایک مقام پر دھرنا دیں گے اور یہ دھرنا مطالبات کی منظور تک جاری رہے گا۔

08/02/2015 - 14:51:07 :وقت اشاعت