بند کریں
صحت صحت کی خبریںفیصل آباد، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں تین روزہ شوگر کین ٹریننگ پروگرام “ کا آغاز ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/03/2015 - 14:24:41 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 13:31:30 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 13:27:34 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 13:10:58 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 12:52:01 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:26:34 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:17:21 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:17:21 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:11:55 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:04:15 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 22:33:24

فیصل آباد، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں تین روزہ شوگر کین ٹریننگ پروگرام “ کا آغاز

فیصل آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 24 مارچ 2015ء )شوگرکین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب کے تعاؤن سے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں تین روزہ شوگر کین ٹریننگ پروگرام “ کا آغاز ہو گیا،ٹریننگ پروگرام میں رانا ذوالفقار علی ڈائریکٹر تحقیقاتی ادارہ کماد، ڈاکٹر محمد افضل شوگر کین سپیشلسٹ ، خلیل احمد کھیڑاکوارڈینیڑ شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، مراد علی بھٹی پاکستان سوسائٹی آف شوگر کین ٹیکنالوجسٹ اورڈاکٹر عبدالحفیظ ترقی پسند کاشتکار کے علاوہ شوگر ملزکے نمائندگان اور کماد کے کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد محمود ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ ) نے کہا کہ چینی کی قلت کے خاتمہ اور اقیمت میں کمی کے لیے کماد کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔

کاشتکار جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو اپنا کرکماد کی فصل سے منافع حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ کاشتکار کی اولین ترجیح منافع کا حصول ہی ہے اور اس کے لیے جوش کے ساتھ ہوش سے عمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کماد کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کئے بغیر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اوریہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے ۔ کماد کے کاشتکار اگر زمین کی تیاری، بیج کا انتخاب ، وقت کاشت ، کھادوں و آبپاشی کا استعمال ، جڑی بوٹیوں ،بیماریوں وکیڑوں کا انسداد ،باکفایت اور بروقت کریں تو فی ایکڑپیداوار میں اضافہ کرکے نہ صرف خود منافع کما سکتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹریننگ پروگرام کا مقصد نہ صرف کاشتکاروں کو فنی رہنمائی فراہم کرنا ہے بلکہ ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کرکے شوگر ملز مالکان اور کاشتکاروں کی باہمی مشاورت سے قابل عمل حل تلاش کرنا ہے تاکہ مڈل مین کے کردار کو ختم کیا جاسکے اور ایک جدید پیداواری ٹیکنالوجی وضع کی جاسکے تاکہ کاشتکار اور شوگر ملز مالکان میں سے کوئی بھی نقصان میں نہ رہے۔اس موقع پر ٹریننگ سیشن میں محمد اخلاق مدثر، نعیم فیاض، ڈاکٹر عبدالشکور، محمد منیر، ملک ضیاء اللہ اور ڈاکٹر ظہیر احمد نے کماد کے پیداواری عوامل پر روشنی ڈالی۔ بعدازاں شرکاء کو شوگر کین فارم کا دورہ کروایا گیا

24/03/2015 - 23:26:34 :وقت اشاعت