بند کریں
صحت صحت کی خبریںمرگی قابل علاج دماغی مرض ہے یہ جنات،بھوت پریت سے نہیں ہوتا‘خواجہ سلمان رفیق

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/03/2015 - 20:04:52 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 19:58:25 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 19:58:25 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 19:00:41 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 18:21:24 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:42:35 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:29:18 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:54 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:21 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:53:57 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 15:57:07

مرگی قابل علاج دماغی مرض ہے یہ جنات،بھوت پریت سے نہیں ہوتا‘خواجہ سلمان رفیق

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25مارچ۔2015ء ) مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے اور پرائمری وسکینڈری ہیلتھ کیئر کے اداروں کی اپ گریڈیشن،ڈاکٹرزکی دستیابی اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہیلتھ روڈ میپ پروگرام پر تیزی سے عمل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں انتہائی ضروری ادویات کی فہرست میں مرگی کے مرض کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کو طبی ماہرین کے سفارشات کی روشنی میں شامل کرے گی۔

انہوں نے یہ بات میو ہسپتال میں مرگی کے عالمی دن کے حوالے سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز،شعبہ دماغی واعصابی امراض کے پروفیسر نعیم قصوری، پروفیسر نصراللہ،پروفیسر فرید احمد خان،پروفیسر اطہر جاوید اور ایم ایس ڈاکٹر امجد شہزاد نے خطاب کیا۔پروفیسرنصراللہ نے بتایا کہ مرگی کے مرض کی تاریخ بہت پرانی ہے اور دنیاکی کئی عظیم شخصیات اس مرض میں مبتلا رہی ہیں۔

جن میں سکندر اعظم،حکیم سقراط،حکیم فیثا غورث،عظیم سائنسدان آئزک نیوٹن اور کرکٹر جونٹی روڈزبھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی بعض معروف شخصیات بھی مرگی کے مرض میں مبتلا رہی ہیں۔پروفیسر نصراللہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں 20 لاکھ افراد مرگی کے مرض کا شکار ہیں۔جس میں دیہی لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرگی ایک قابل علاج مرض ہے اور اس کے علاج کی بیشتر ادویات بہت سستی ہیں تاہم ہمارے معاشرے میں لوگ توہم پرستی کاشکار ہیں اور علاج کرنے کی بجائے مرگی کا دورہ پڑنے پر جنات اور بھوت پریت کی کارستانی مان کر نام نہاد پیروں فقیروں اور جادو ٹونہ کرنے والوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو مریض کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں عوامی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ کم علمی کی وجہ سے توہم پرستی کا شکار نہ ہوں۔ پروفیسر فرید احمد خان نے کہا کہ مرگی کے علاج کی ادویات سستی ہیں لیکن کم منافع کی وجہ سے ادویہ ساز ادارے مذکورہ ادویات کی تیاری پر توجہ نہیں دیتے اور بازار میں صرف مہنگی ادویات ہی آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ بھارت کی طرح پنجاب میں بھی سرکاری ہسپتالوں اور مرگی جیسے امراض کے علاج کی ادویات اصل نام سے تیار کروائی جائیں جس سے ادویات کی چوری کا مسئلہ حل ہو گا اور مریضوں کو ادویات بھی با آسانی میسر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مرگی کے مریضوں کے لے اپیلیپسی سنٹرقائم کرنے کی ضرورت ہے۔ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز نے کہا کہ حکومت مرگی کے مرض کی روک تھام کے لئے اس مرض کو غیر متعدی امراض کی روک تھام کی فہرست میں شامل کرے گی۔ ایم ایس ڈاکٹر امجد شہزاد نے اس موقع پر اعلان کیا کہ میو ہسپتال میں جلد ہی مرگی کے مرض کا کلینک (اپیلیپسی کلینک) شروع کیا جارہا ہے۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی محمد شہباز شریف صوبے میں صحت کی سہولیات میں زیادہ سے زیادہ اضافے اور شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات کے لئے کوشاں ہیں اور آئندہ چار ماہ کے دوران صوبے میں بنیادی مراکز صحت سے ڈسٹرکٹ وتحصیل ہسپتالوں تک ایک واضح تبدیلی آ چکی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں سپیشلسٹس ڈاکٹرز تعینات کرنے کا پروگرام بن چکا ہے جس کے لئے پرکشش مشاہرہ طے کیا گیا ہے۔

جس کا اعلان وزیراعلی خود کریں گے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ جون تک 24 گھنٹے چلنے والے بنیادی مراکز صحت کی تعداد 150 سے بڑھ کر 700ہو جائے گی جس سے ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کا حصول آسان ہو جائے گا - انہوں نے کہا کہ حکومت ڈاکٹرز کو بہتر ماحول اور پر کشش پے پیکیج فراہم کرے گی تاکہ ڈاکٹر پوری پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ لوگوں کی خدمت کر سکیں -

25/03/2015 - 17:42:35 :وقت اشاعت