بند کریں
صحت صحت کی خبریںپی اے آر سی آئندہ سال فروری اور مارچ میں پانچ لاکھ کیلے کے وائرس فری ٹشو کلچر پودے کسانوں کو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/04/2015 - 11:20:05 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 23:40:02 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 19:34:39 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 14:03:09 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 14:02:04 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 13:55:34 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 13:45:26 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 13:38:41 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 13:37:08 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 13:31:21 وقت اشاعت: 26/04/2015 - 13:28:32

پی اے آر سی آئندہ سال فروری اور مارچ میں پانچ لاکھ کیلے کے وائرس فری ٹشو کلچر پودے کسانوں کو مہیا کرے گی

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اس حد تک وسائل ہیں کہ وہ زراعت کے شعبے کو نئی طرز سے ہمکنار کر سکتے ہیں،سکندر حیات بوسن

اسلام آباد،حیدر آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26اپریل۔2015ء) اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اس حد تک وسائل ہیں کہ وہ زراعت کے شعبے کو نئی طرز سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ ہمیں آئندہ سال 2015-16 کے بجٹ کو کسان دوست بجٹ بنانے کے لیے بہت کاوش کرنی ہو گی۔ آنے والا بجٹ کسان دوست بجٹ ہو گا جس سے زراعت کے شعبے کو بڑ ھوتی ملے گی۔ اس بات کا اظہار وفاقی وزیر ِ برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق ، جناب سکندر حیات بوسن نے حیدر آباد میں مینگو ایکسپورٹ سیمینار اور کیلے کے ٹشو کلچر پودوں کی تقسیم کی تقریب کے موقع پر کیا۔

تقریب کا انعقاد پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے آل پاکستان آم کے درآمد اور برا ٓمدکنندگان کے تعاون سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کو اس شعبے میں انتہائی محنت سے کام کرنا ہو گا اور اس شعبے کو مزید تقویت دینے کے لیے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اس شعبے کے لحاظ سے خود مختاری حاصل ہے اور وہ تمام وسائل کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 90 میلین کی لاگت سے ایک پراجیکٹ شروع کیا جائے گا جسکی وجہ سے بیماریوں سے پاک کینو، آلو اور چاول کی فصلات کی پیداوارمزید حد تک ممکن ہو گی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب سیرت اصغر ،وفاقی سیکرٹری برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق نے کہا کہ ہماری وزارت عالمی منڈیوں میں اپنی زرعی مصنوعات کی بہتر مارکیٹ کے لیے ہر ممکن اقدام اُٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بر آمد کیے جانے والے فروٹ کو لکڑی کے ڈبوں میں بند نہ کیا جائے اس سے فروٹ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ، ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ ہم کو نئی تحقیق کے نتائج، جدت، ایجادات اور تصدیق شدہ بیج کسان کی دہلیز تک مہیا کرنے ہونگے تا کہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی زمین تمام قسم کی سبزیوں اور فروٹ کی پیداوار کے لیے ہر لحاظ سے موزوں ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس زمین کی خصوصیت کو تب ہی استعمال میں لایا جا سکتا ہے جب تصدیق شدہ بیج اور پودے لگا ئے جائیں۔ ڈاکٹر محمد عظیم ، ڈائریکٹر جنرل این اے آر سی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آدھ میلین کیلے کے وائرس فری ٹشو کلچر پودے کسانوں کو آئندہ سال فروری اور مارچ میں مہیا کیے جائیں گے۔

پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ زرعی سائنسدان نئے بیج اور تصدیق شدہ پودے کسانوں کو مہیا کرنے کے لیے دن رات کام میں مصروف ہیں۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹر ، امپورٹر ایسوسی ایشن کے نمائندہ جناب وحید احمد نے اس موقع پر کہا کہ سائنسدانوں، کسانوں اور بر آمد کنندگان کے باہمی تعاون سے ہی زراعت کے شعبے کو نئے خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر وزرات کے اعلی حکام ، برآمد اور درآمد کنندگان ، سٹیک ہولڈرز اور کونسل کے ترجمان، ڈائریکڑ تعلقات عام، جناب سردار غلام مصطفی نے بھی شرکت کی۔

26/04/2015 - 13:55:34 :وقت اشاعت