بند کریں
صحت صحت کی خبریںٹاسک فورس برائے انسداد جعلی ادویات نے پان مارکیٹ سے کروڑوں روپے مالیت کی ادویات قبضہ میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/05/2015 - 16:21:50 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 16:21:50 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 16:03:32 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 12:41:02 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 22:50:58 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 22:28:32 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 21:12:54 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 21:09:21 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 20:46:14 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 20:45:00 وقت اشاعت: 12/05/2015 - 20:32:15

ٹاسک فورس برائے انسداد جعلی ادویات نے پان مارکیٹ سے کروڑوں روپے مالیت کی ادویات قبضہ میں لے لیں

ٹاسک فورس نے ڈیڑھ ماہ میں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی ادویات قبضہ میں لی ہیں‘خواجہ عمران نذیر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 مئی۔2015ء ) چیف منسٹر ٹاسک فورس برائے انسداد جعلی و غیر معیاری ادویات نے پان مارکیٹ نئی انارکلی میں چھاپہ مار کر کروڑوں روپے مالیت کی جعلی اور غیرملکی برانڈ کی مقامی طور پر تیارکردہ ادویات قبضہ میں لے کر تین گودام سربمہر کر دیئے۔یہ بات ٹاسک فورس برائے جعلی ادویات کے وائس چیئرمین خواجہ عمران نذیر نے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری ہیلتھ جواد رفیق ملک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔

ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویزاور شوکت وہاب ڈرگ انسپکٹر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ ٹاسک فورس نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران لاہور‘ فیصل آباد‘ اوکاڑہ‘ چنیوٹ اور دیگر شہروں میں چھاپے مار کر ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی جعلی وغیر معیاری ادویات برامد کر کے 95مقدمات درج کرائے ہیں۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات ہیں کہ چھوٹے ملازم یا لیبر کے خلاف کارروائی کے بجائے جعلی ادویات بنانے والی فیکٹری یا فرم کے مالکان کو گرفتار کر کے کارروائی کی جائے۔

اس موقع پر مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے حکم پر جعلی ادویات کے کاروبار کے خاتمہ کے لئے سرجیکل آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور صوبے میں 2ٹاسک فورسز قائم کر دی گئی ہیں جبکہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر کو سخت سزادلوانے اور اسے ناقابل ضمانت جرم قرار دلوانے کے لئے محکمہ قانون اور پراسیکیوشن سے مشاورت کے بعد قانون سازی کا عمل جاری ہے اور ترمیم شدہ مسودہ قانون تیار کر لیا گیا ہے۔

سیکرٹری صحت جوادرفیق ملک نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جعلی و غیرمعیاری اور غیررجسٹرڈ ادویات کے کاروبار کے خاتمے اور ڈرگز سے متعلق دیگر معاملات سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے پنجاب میں الگ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے نتائج کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لئے DTLs کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے جس کے لئے انٹرنیشنل معیار کے ادارے آگے آ رہے ہیں۔

سیکرٹری صحت نے واضح کیا کہ اگر کسی علاقے میں جعلی ادویات کے کاروبار کے بارے میں کسی دیگر ایجنسی سے اطلاع ملی اور متعلقہ ڈرگ انسپکٹر نے اس بارے میں بروقت معلومات فراہم نہ کیں تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سے جعلی و غیرمعیاری ادویات کے کاروبار کو ہرصورت ختم کیا جائے گا۔

12/05/2015 - 22:28:32 :وقت اشاعت