چھ گھنٹوں سے زیادہ کام کرنا فالج کے حملے کا خطرہ بڑھادیتا ہے۔ ماہرین

لندن(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 28 اگست۔2015ء) چھ گھنٹوں سے زیادہ کام کرنا فالج کے حملے کا خطرہ بڑھادیتا ہے،نئی ریسرچ نے دفاتر میں دیر تک کام کرنے والوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔کچھ ملازمین کی مجبوری تو کسی کو آمدنی میں بہتری کی امید ہوتی ہے جو انہیں دیر تک کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔

(جاری ہے)

چھ گھنٹے سے زائد کام کرنے کی یہ روٹین آرام کی کمی کا باعث تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فالج کا خطرہ بھی تینتیس فیصد بڑھادیتا ہے جیسے جیسے کام کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے۔

اسی رفتار سے اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں کی حالیہ ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جو ہفتے میں 55 گھنٹوں سے زیادہ کام کرتے ہیں ، ان میں دل کے دورے کا خطرہ بھی ان لوگوں کے مقابلے میں تیرہ فیصد زیادہ ہوتا ہے ، جو ہفتے میں پینتیس سے چالیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments